Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭ ’’ كَانَ یَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیرا یہ بندہ گواہی دیتا تھا کہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں  ۔ ‘‘ 

٭ ’’ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَتَجَاوِزْ عَنْہُ وَالْحِقْہُ بِنَبِیِّہٖ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اس کی مغفرت فرما اور اس کے گناہوں   سے درگزر فرما اور اسے اپنے نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ملحق فرما۔ ‘‘  ([1])

(10) گناہوں   کی معافی کی دعا:

حضرت سیِّدُنا رکین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یوں   دعا مانگا کرتے تھے:

٭… ’’ اَللّٰہُمَّ اَسْتَغْفِرُك لِذَنْبِیْ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   تجھ سے اپنے گناہوں   کی معافی چاہتاہوں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’  وَاَسْتَھْدِیْکَ لِمَرَاشِدِ اَمْرِیْتجھ سے اپنے معاملات میں   ہدایت طلب کرتاہوں  ۔ ‘‘ 

٭…  ’’ وَاَتُوبُ اِلَیْکَ فَتُبْ عَلَیَّ انَّك اَنْتَ رَبِّی اور تیری بارگاہ میں   توبہ کرتاہوں    ،  تو میری توبہ کو قبول فرما ، بے شک تو ہی تو میرا رب ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ اَللّٰھُمَّ فَاجْعَلْ رَغْبَتِیْ اِلَیْکَ  وَاجْعَلْ غِنَاِئیْ فِیْ صَدْرِیْاے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے تجھ سے لو لگانے کی توفیق عطا فرما ،  مجھے غنائے قلبی عطا فرما۔ ‘‘ 

٭…  ’’ وَبَارِكْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ  وَتَقَبَّلْ مِنِّیْ اِنَّكَ اَنْتَ رِبِّیاور جو تونے مجھے رزق دیا ہے اس میں   برکت عطا فرمااور میری دعا قبول فرما کیونکہ تو ہی تو میرا رب ہے۔ ‘‘  ([2])

(11)عافیت ودرگزرکی دعا:

حضرت سیِّدُنا ابو العالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   فرماتے ہیں   کہ میں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یوں   دعا کرتے سنا:  ’’ اَللّٰہُمَّ عَافِنَا وَاعْفُ عَنَّا یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   عافیت عطا فرما اور ہم سے درگزر فرما۔ ‘‘  ([3])

(12)غفلت سے پناہ کی دعا:

حضرت سیِّدُنا سلیم بن حنظلہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یوں   دعا مانگا کرتے تھے:  ’’ اَللّٰہُمَّ انِّیْ اَعُوذُ بِكَ اَنْ تَاْخُذَنِیْ عَلٰی غِرَّۃٍ اَوْ تَذَرَنِیْ فِیْ غَفْلَۃٍ اَوْ تَجْعَلَنِیْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   تیری پناہ مانگتا ہوں   کہ تو میری نافرمانی پر پکڑ فرما ،  یا مجھے غفلت میں   چھوڑ دے یا مجھے غافل کردے۔ ‘‘  ([4])

قلیل لوگوں   میں   سے بنائے جانے کی دعا:

حضرت سیِّدُنا اِبراہیم تیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس یوں   دعا مانگی:  ’’ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الْقَلِیْلِیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے قلیل (تھوڑے) لوگوں   میں   سے بنادے۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ ؟ یہ کس طرح کی دعا مانگ رہے ہو؟ اس نے عرض کیا:  ’’ انِّي سَمِعْت اللَّهَ يَقُولُ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِي الشَّكُورُ فَاَنَا اَدْعُو اَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ اُولَئِكَ الْقَلِيلِیعنی میں   نے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ ارشاد سنا ہے:  (وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ(۱۳)) ۲۲ ،  السبا: ۱۳)  ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور میرے بندوں   میں   کم ہیں   شکر والے ۔ ‘‘   اسی لیے میں   یہ دعا مانگ رہا ہوں   کہ مجھے ان ہی قلیل لوگوں   میں   سے بناد ے۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بصد عاجزی کرتے ہوئے ارشاد فرمانے لگے:   ’’ كُلُّ النَّاسِ اَعْلَمُ مِنْ عُمَرَ یعنی سارے ہی لوگ عمر سے زیادہ جانتے ہیں۔ ‘‘  ([5])

بخشش ومغفرت حاصل کرنے کا آسان ذریعہ:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُعا  ،  اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ سے مناجات کرنے ،  اس کی قربت حاصل کرنے ،  اس کے فضل وانعام کے مستحق ہونے اور بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کا نہایت آسان اورمجرب ذریعہ ہے۔ اسی طرح دعا پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی متوارث سنت ،  اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے بندوں   کی متواترعادت ،  درحقیقت عبادت بلکہ مغزِ عبادت ، اورگنہگار بندوں   کے حق میں   اللہ ربُّ العزت عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت و سعادت ہے۔دعاکی اہمیت بیان کرتے ہوئے رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اِرشاد فرماتے ہیں   :  ’’ اے عزیز! دعا ایک عجیب نعمت اور عمدہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی نے اپنے بندوں   کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی ، حلِ مشکلات میں   اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں   ،  اور دفعِ بلا وآفت میں   کوئی بات اس سے بہتر نہیں  ۔ ‘‘  ([6])دعا کے اس قدر مفید اور نفع بخش ہونے کے باوجود



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعا ،  ما یدعی بہ فی الصلاۃ علی الجنائز ،  ج۷ ،  ص۱۲۶ ،  حدیث: ۶۔

                                                کنزالعمال ،  کتاب الموت ،  صلاۃ الجنائز ،  الجزء:  ۱۵ ،  ج۸ ،  ص۲۹۹ ،  حدیث:  ۴۲۸۱۷۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  ما یقال فی دبر الصلوات ،  ج۷ ،  ص۳۹ ،  حدیث: ۱۷۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر ،  ج۷ ،  ص۸۱ ،  حدیث: ۶۔

[4]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر ،  ج۷ ،  ص۸۲ ،  حدیث: ۸۔

[5]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر ،  ج۷ ،  ص۸۱ ،  حدیث: ۵۔

[6]     فضائل دعا ،  ص۳۱۔



Total Pages: 349

Go To