Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سے میں   ستر پوشی کرتا ہوں   اور اس سے اپنی زندگی میں   زینت حاصل کرتاہوں  ۔ ‘‘ 

پھر ارشاد فرمایا کہ ’’  میں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتےسنا:  ’’ جو نیا لباس پہنے اور یوں   کہے: الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي كَسَانِي مَا اُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَاَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي یعنی تما م تعریفیں   اس خدا کیلئے جس نے مجھے پہنایا اورمیرے ستر کو ڈھانپا اوراس سے میں   اپنی زندگی میں   زینت حاصل کرتاہوں  ۔اور پھر پرانا ہونے پر اس لباس کو صدقہ کردے تو وہ اپنی زندگی میں   بھی اور مرنے کے بعد بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ و امان میں   رہے گا۔ ‘‘  ([1])

(5)صلاۃ اللیل سے پہلے اور بعد کی دعا:

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب صلاۃ اللیل کے لیے کھڑے ہوتے تو بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا کرتے:  ’’ قَدْ تَرَى مَقَامِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَارْجِعْنِیْ مِنْ عِنْدِكَ یَااللہُ بِحَاجَتِیْ مُفَلَّجًا مُنَجَّحًا مُسْتَجِیْبًا مُسْتَجَابًا لِیْ ،  قَدْ غَفَرْتَ لِیْ وَرَحِمْتَنِیْیعنی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! بلا شبہ تو میری حیثیت سے بخوبی آگاہ ہے اور میری حاجت کو بھی جانتا ہے ،  لہٰذا تو مجھے اپنی بارگاہ سے میری حاجت پوری فرما اس حال میں   کہ میں   بکھرچکا   ہوں   ،  تیری عطا سے اپنی حاجتیں   پانے والا ہوں   ،  تیری بارگاہ سے مانگنے والا اور پانے والا ہوں   ،  تو میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما۔ ‘‘ 

اورجب صلاۃ اللیل سے فارغ ہوتے تو بارگاہِ الٰہی میں   یوں   دعا کرتے:  ’’ اَللّٰہُمَّ لاَ اَرَى شَیْئًا مِنَ الدُّنْیَایَدُوْمُ  ،  وَلَا اَرَى حَالاً فِیْھَایَسْتَقِیْمُ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ اَنْطِقُ فِیْھَا بِعِلْمٍ وَاَصْمُتُ بِحُكْمٍ اَللّٰہُمَّ لاَ تُكْثِرْ لِیْ مِنَ الدُّنْیَا  فَاَطْغَى  ،  وَلَا تُقِلَّ لِیْ مِنْھَافَاَنْسٰی ،  فَاِنَّہُ مَا قَلَّ وَكَفَى خَیْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَاَلْہٰییعنی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   دنیا کی کسی شے کو دائمی نہیں   سمجھتا اور نہ ہی دنیاوی حالت کو یکساں   سمجھتاہوں   ،  یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے علمی گفتگو کرنے ،  حکم شریعت پر خاموشی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما ،  یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھ پر دنیا کی کثرت نہ فرما کہ میں   گمراہ ہوجاؤں   ،  نہ ہی قلت فرماکہ تجھے بھول جاؤں   کیونکہ بقدر کفایت رزق غافل کردینے والے کثیر رزق سے کئی گنابہتر ہے۔ ([2])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دورانِ طواف اکثر ایک ہی دعا پڑھا کرتے تھے البتہ بعض اَوقات اُس میں   تبدیلی بھی کردیا کرتے تھے۔ آپ  کی دو دعائیں   یہ ہیں  :

(6)طواف کرتے وقت کی دعا:

حضرت سیِّدُنا ابن ابی نجیح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دوران طواف اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے:  ’’ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِیعنی اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   دنیا میں   بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں   بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں   جہنم کے عذاب سے بچا۔ ‘‘  ([3])

(7)طواف کرتے وقت کی ایک اوردعا:

حضرت سیِّدُنا ابو سعید بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دوران طواف یہ دعا پڑھ رہے تھے:  ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْكُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ  رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِیعنی  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   ،  وہ اکیلا ہے ،  اس کا کوئی شریک نہیں   ،  اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں   ہیں   اور وہ ہرچیز پر قادرہے ،  اے ہمارے رب عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   دنیا میں   بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں   بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں   جہنم کے عذاب سے بچا۔ ‘‘   ([4])

(8)خواہشات قلبی سےنجات و رِزق میں   برکت کی دعا:

حضرت سیِّدُنا حسان بن فائد عبسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

٭… ’’ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ غِنَائیْ  فِی قَلْبِیْ وَرَغْبَتِیْ فِیْمَا عِنْدَكَ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے دل کی تونگری نصیب فرما اور جو تیرے پاس ہے اس میں   رغبت عطا فرما۔

٭ وَبَارِكْ لِیْ فیْمَا رَزَقْتَنِیْ وَاَغْنِنِیْ عَمَّا حَرَّمْتَ عَلَیَّ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میرے رزق میں   برکت عطا فرما اور حرام کردہ چیزوں   سے دو ر رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ‘‘  ([5])

(9) نمازِ جنازہ کے بعد کی دعا:

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اس کے لیے یوں   دعا فرمائی:

٭ ’’ اَللّٰھُمَّ اَصْبَحَ عَبْدُكَ ہٰذَا قَدْ تَخَلَّی مِنَ الدُّنْیَا وَتَرَكَھَالِاَھْلِھَا وَ اسْتَغْنَیْتَ عَنْہُ وَافْتَقَرَ اِلَیْکَ یعنی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ!تیرے اس بندے نے اس حال میں   صبح کی ہے کہ یہ دنیا کے مال ومتاع سے خالی ہے اور اس نے دنیا کو اپنے اہل کے لیے چھوڑ دیا ہے اور یہ صرف تیرا ہی محتاج ہے حالانکہ تو اِس سے بے پرواہ ہے۔ ‘‘ 

 



[1]     ابن ماجہ ،  کتاب اللباس ،  باب ما یقول الرجل۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۱۴۲ ،  حدیث: ۳۵۵۷۔ ترمذی ،  احادیث شتی ،  باب من ابواب الدعوات ،  ج۵ ،  ص۳۲۷ ،  حدیث: ۳۵۷۱۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر ،  ج۷ ،  ص۸۲ ،  حدیث: ۷۔

[3]     اخبار مکۃ  ،  ج۱ ،  ص۲۳۰ ،  الرقم: ۴۲۰۔ کتاب الدعا للطبرانی ،  جامع ابواب الحج ،  القول فی الطواف ،  ص۲۶۹ ،  حدیث: ۸۵۷۔

[4]     کنزالعمال ،  کتاب الحج والعمرۃ ،  ادعیتہ ،  الجزء: ۵ ،  ج۳ ،  ص۶۷ ،  حدیث: ۱۲۴۹۸۔

[5]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الدعاء ،  باب ما ذکر عن ابی بکر وعمر ،  ج۷ ،  ص۸۱ ،  حدیث: ۳۔



Total Pages: 349

Go To