Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کیے بغیراس طرح ان کا باہر نکلنا شاید ان کے روزانہ یا ہر دوسرے روز کا معمول تھا۔بہرحال آقا اور خادم دونوں   مدینۂ منورہ کی گلیوں   کا مشاہدہ کرتے ہوئے مدینہ منورہ سے تقریباً تین میل دُور مشرق میں    ’’ حَرَّۂ وَاقِم ‘‘   تک نکل آئے۔چلتے چلتے دونوں   اچانک رک گئے۔اِن دونوں   کے رکنے کی وجہ بہت دُور ایک خیمہ تھا جس میں   آگ جل رہی تھی۔

آقا نے اپنے خادم کی طرف دیکھ کر کہا:  ’’ اے اسلم! اتنی سخت سردی میں   کون ہوسکتاہے ؟  ‘‘   اسلم نے لا علمی کا اظہار کیا تو آقا نے کہا:  ’’ میرا خیال ہے شاید کوئی قافلہ ہے ،  رات اور سردی کی وجہ سے یہیں   ٹھہر گیا ہوگا۔آؤ چل کر دیکھتے ہیں   کیا معاملہ ہے؟ ‘‘  دونوں   چلتے ہوئے جیسے ہی خیمے کے قریب پہنچے تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ کوئی خیمہ نہیں   بلکہ ایک ٹوٹا پھوٹا کچا گھر ہے ، اور اس میں   کوئی قافلہ وغیرہ نہیں   تھا بلکہ وہاں   تو ایک خاتون اپنے ننھے منے بچوں   کے ساتھ مقیم تھی جس نے چولہے پر ایک ہنڈیا چڑھا رکھی تھی جیسے کھانا پکا رہی ہو اور بچے اس کے ساتھ بیٹھے مسلسل رو رہے تھے ، غالباً انہیں   بہت بھوک لگی تھی۔

آقا نے سلام کیاتو اس خاتون نے دونوں   کی طرف توجہ کیے بغیر سلام کا جواب دیا۔آقا نے گھرمیں   داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا :  ’’  کیا میں   اندر آسکتاہوں  ؟ ‘‘   خاتون نے جواب دیا:  ’’ اگر کسی خیر کا ارادہ ہے آؤ ورنہ کوئی ضرورت نہیں  ۔ ‘‘  غالباً وہ خاتون بہت دکھی تھی ،  اس لیے بے رخی سے جواب دے رہی تھی۔لیکن آقا کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اس دکھی خاتون کے دکھ میں   شریک ہونا چاہتاہے ۔

اس نے خاتون سے استفسار کیا:  ’’ اے بی بی! تم کون ہواور یہ بچے کیوں   رو رہے ہیں  ؟ ‘‘   خاتون نے جواب دیا:   ’’ میں   مدینہ منورہ کی رہائشی ہوں    ،  ان بچوں   کوشدید بھوک لگی ہے اوریہ اسی وجہ سے رو رہے ہیں  ۔ ‘‘   آقا نے کہا:  ’’ اس ہنڈیا میں   کیا ہے ؟ ‘‘  خاتون نے کہا:   ’’ اس میں   تو صرف پانی ہے  ،  میں   نے بچوں   کا دل بہلانے کے لیے اسے آگ پر چڑھا رکھا ہے تاکہ کھانا پکنے کے انتظار میں   بچے سوجائیں  ۔ ‘‘   پھر اس دکھیاری خاتون نے اپنے دل کا درد بیان کرتے ہوئے کہا:   ’’ میں   ایک غریب عورت ہوں   ،  میرے پاس اتنے اخراجات نہیں   کہ اپنے بچوں   کو کھانا کھلا سکوں   ،  ان کا دل بہلا رہی ہوں   ،  لیکن امیر المؤمنین کو ہماری کوئی خبر نہیں   ،  ہم ان کے محکوم ہیں    ،  ان کی رعایا ہیں    ،  ان کا حق بنتا ہے کہ وہ ہمارا خیال رکھیں   ،  خیر کوئی بات نہیں   ہمارا وقت تو جیسے تیسے گزر ہی جائے گا لیکن کل بروز قیامت امیر المؤمنین اور ہمارے درمیان اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی فیصلہ فرمائے گا ،  اور یقیناً آخرت کی پکڑ بہت سخت ہے۔ ‘‘ 

آقا نے اس دکھیاری خاتون کا درد سنا تو وہ بھی آبدیدہ ہوگیا اور نرم لہجے میں   کہنے لگا:   ’’ اے بی بی!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے ،  تمہاری مصیبتیں   اور پریشانیاں   دور فرمائے ،  لیکن امیر المؤمنین کو کیا معلوم کہ تم یہاں   اس حال میں   ہو؟ ‘‘   خاتون نے سوالیہ لہجے میں   کہا:   ’’ وہ ہمارا حاکم ہے اور ہم سے غافل ہے؟ اسے معلوم ہی نہیں   کہ ہم کس حال میں   ہیں  ؟ ‘‘ 

بہرحال آقا اس دکھیاری خاتون کی حالت زار سن کر اس کے گھر سے باہر آگیا اور اپنے خادم اسلم سے کہا:  ’’ میرے ساتھ جلدی چلو ۔ ‘‘  پھر دونوں   تیزی سے چلتے ہوئے مدینہ منورہ کی اندرونی آبادی کی طرف روانہ ہوگئے۔آقا بہت گہری سوچ میں   گم تھا کیونکہ اس خاتون کی حالت زار اور اس کی بیان کی گئی آب بیتی نے آقا کی ذات پر بڑے گہرے نقوش چھوڑ ے تھے ،  جو آقا پہلے اپنے خادم سے گفتگوکرتے ہوئے یہاں   تک پہنچا تھا اب وہی آقا خاموشی کی چادر تانے تیزی کے ساتھ رواں   دواں   تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں   ایک غلے کے گودام کے قریب کھڑے تھے ،  خادم نے دروازہ کھولا ،  آقا نے جلدی سے ایک بوری آٹا ، کھجوریں   ،  کچھ رقم اورکھانا پکانے کے دیگر لوازمات ساتھ لیے اور خادم سے کہا:  ’’ اسلم! انہیں   میری پیٹھ پر لاد دو۔ ‘‘  خادم نے بڑی عاجزی سے عرض کیا:   ’’ حضور ! آپ مجھے حکم فرمائیں   میں   اسے اپنی پیٹھ پر لاد کر خاتون تک پہنچا دوں   گا۔ ‘‘   آقا نے خادم کی طرف دیکھا اور ایک آہِ سرد دلِ پُردرد سے کھینچ کر کہا:   ’’ آہ۔۔۔! آج اس دنیا میں   تو تومیرے حصے کا بوجھ اپنی پیٹھ پر لاد لے گا ، میری تکلیف کو برداشت کرلے گا لیکن یاد کر اس دن کو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں   اٹھائے گی اورکسی کی تکلیف دوسرے کو نہیں   دی جائے گی ،  کیا اُس دن بھی تو ہی میرا بوجھ اٹھائے گا؟ ‘‘   خادم اپنے آقا کا فکر آخرت سے بھرپور جواب سن کر خاموش ہوگیا اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سارا سامان آقا کی پیٹھ پر ڈال دیا۔دونوں   ایک بار پھر مدینہ منورہ سے باہر اس دکھیاری خاتون کے گھر کی طرف رواں   دواں   تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں   گھر تک پہنچ گئے ،  خاتون ان دونوں   کو سامان کے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئی ۔آقا نے وہ سارا سامان اتارا اور آٹے کی بوری کھول کر اس خاتون سے کہا:  ’’ اس میں   سے آٹا نکالواور اس پر نمک ڈالو تاکہ میں   حریرہ (آٹے سے بنایا جانے والا کھانا)بناؤں   ۔پھر آقا ہنڈیا کے نیچے آگ پھونکنے لگا ، یہاں   تک کہ دھواں   اس کی داڑھی کے درمیان سے نکلنے لگا۔آقا ساتھ ساتھ آگ بھی جلاتا رہا اور کھانا بھی پکاتا رہا ، بالآخر کھاناپک کرتیار ہو گیا۔ آقا نے ہنڈیا کوچولہے سے نیچے اتارا اور خاتون سے کہا:  ’’ کوئی بڑا اورکُھلا برتن لاؤ۔ ‘‘  وہ خاتون ایک بڑا سا پیالہ لے آئی۔ ‘‘  آقا نے اس میں   کھانا ڈالا اوراپنے ہاتھوں   سے اسے ٹھنڈا کرنے لگا جب کھانا ٹھنڈا ہوگیا تو اس نے  بچوں   کو اپنے قریب کرکے اپنے ہاتھوں   سے کھلانا شروع کردیا ،  یہاں   تک کہ سب بچوں   نے پیٹ بھر کر کھالیا اور خوش ہو گئے۔ پھر اس نے بچوں   کی دلجوئی کے لیے ان کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا ،  بچوں   کی خوشی میں   مزید اضافہ ہوگیا اوروہ کھیلتے کھیلتے سوگئے۔ آقا بقیہ کھانا خاتون کے پاس چھوڑ کر اپنے خادم اسلم کے پاس آکر اس طرح بیٹھ گیاگویا اسے قلبی سکون مل گیا ہو اور اس کے کندھے سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔

وہ خاتون اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی:  ’’  تم اتنے شفیق اور رحم دل ہو ،  اس مصیبت کی گھڑی میں   تم نے ہماری مدد کی ،  میرے روتے ہوئے بچوں   کے چہروں   پر مسکراہٹ کے موتی بکھیرے ،  میں   کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں  ؟     اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی تمہیں   اس کی بہتر جزا عطا فرمائے گا۔حقیقت تو یہ ہے کہ تم ہی امیر المؤمنین بننے کے حق دار ہو۔ ‘‘  اسلم دیکھ رہا تھا کہ اب اس خاتون کے لہجے میں   واضح تبدیلی آچکی تھی ،  اور وہ دل سے بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔

اس آقا کی جگہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو وہ اپنی اس تعریف پر پھولا نہ سماتا اور لوگوں   میں   جاکر سینہ چوڑا کرکے اپنے اس کارنامے کو بیان کرتا لیکن اس آقانے تو اِن تعریفی کلمات پر بالکل توجہ نہ دی بلکہ کہنے لگا:   ’’ اے بی بی! جیسا تم کہہ رہی ہو ویسا بالکل نہیں   ،  میں   اور امیر المؤمنین بننے کا حقدار!یہ تو بڑی عجیب بات ہے  ،  ہاں   ایک بات ضرور ہے اگر تم کبھی امیر المؤمنین کے دربار میں   آؤ گی تو مجھے وہاں   ضرور دیکھو گی۔ ‘‘ 

پھرآقا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھا اور اپنے خادم اسلم کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا:  ’’  اے اسلم! بھوک نے ان ننھے بچوں   کو جگا رکھا تھا اوربھوک ہی انہیں   مسلسل رلارہی تھی۔جب میں   نے ان کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اپنے بچے یاد آگئے اور میں   نے اپنے دل میں   تہیہ کرلیا کہ جب تک ان بچوں   کی بھوک کو شکم سیری  ،  رونے کو ہنسنے اور اُن کے غم کو



Total Pages: 349

Go To