Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭… ’’ اِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ یعنی بے شک دنیا سرسبز اور میٹھی ہے ۔ ‘‘ 

٭… ’’  فَمَنْ اَخَذَهَا بِحَقِّهَا كَانَ قَمِنًا اَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِيهِ یعنی جس نے اسے صحیح طریقے سے حاصل کیا تو وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اسے اس دنیا میں   برکت دی جائے۔ ‘‘ 

٭… ’’  وَمَنْ اَخَذَهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَالآكِلِ الَّذِي لاَ يَشْبَعُ یعنی جس نے اسے صحیح طریقے سے حاصل نہ کیا تو وہ اس پیٹو شخص کی طرح ہے جو کبھی سیر نہیں   ہوتا۔ ‘‘  ([1])

سیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعری کو نصیحت آموز مکتوب:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو ایک مکتوب لکھا جس میں   ارشاد فرمایا:

٭ ’’  کام کرتے رہنے میں   قوت ہے اس لیے آج کا کام کل پر مت ڈالو کیونکہ جب تم ایسا کرو گے تو مختلف کام تم پر جمع ہوجائیں   گے نتیجتاً تمہیں   نقصان اٹھانا پڑے گا یا تمہارا نقصان ہوجائے گا۔٭ ’’ اگر تمہیں   دو کاموں   میں   اختیار دیا جائے ان میں   سے ایک دنیاوی ہو اور دوسرا اخروی تو تم اخروی کو دنیاوی پر ترجیح دو ، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور کتاب اللہ کو سیکھتے سکھاتے رہو کیونکہ کتاب اللہ علم کا چشمہ اور دلوں   کی بہار ہے۔  ‘‘  ([2])

ایک ذمہ دار کو کیسا ہونا چاہیے۔۔۔؟

حضرت سیِّدُنا سعید بن ابی بردہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون کچھ یوں   تھا:

٭ ’’ حمد وصلاۃ کے بعد!میں   کہتا ہوں   کہ حکمرانوں   میں   سب سے زیادہ خوش بخت وہ ہیں   جن کی رعایااچھی ہو ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور سب سے زیادہ بدبخت وہ ہے جس کی رعایا بری ہو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور تم خلاف شریعت کاموں  سے بچو ورنہ تمہاری رعایا بھی خلاف شرع کاموں   میں   پڑجائے گی۔ ‘‘  ٭ ’’ پس اگر تم نے اس پر عمل نہ کیا تو تمہاری مثال اس چوپائے کی سی ہو جائے گی جو زمین پر سبزہ دیکھے اوروہ اس میں   چرنے لگ جائے ،  وہ اس سے افزائش جسم اورفربہ ہونا چاہتا ہے حالانکہ اس مال کا اس کے جسم کا حصہ ہونا اس کے لیے ہلاکت ہے۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی اگر حاکم یا نگران وغیرہ کوئی بھی ذمہ دار خود کو صحیح کرلے تو اس کی رعایا خود بخود درست ہوجائےگی ،  کیونکہ اس کا عمل ان سب کے لیے حجت ہے۔ آپ کتنی ہی بڑی ذمہ داری پر فائز کیوں   نہ ہوں   اپنے مدنی مقصد کو ہر گز نہ بھولیں   کہ  ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کو شش کر نی ہے ،  اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ۔ ‘‘   اپنی اصلاح کے لئے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش کے لئے مدنی قافلوں   میں   سفر کرنے کو اپنا معمول بنا لیجئے۔ہوسکتا ہے کسی اسلامی بھائی کے ذہن میں   یہ خیال پیدا ہو کہ میں   تو کسی علاقے وغیرہ کا نگران نہیں   ،  نہ ہی میرے ماتحت کوئی اسلامی بھائی ہیں   لہٰذا مجھے دینی کام کی کوئی حاجت نہیں  ۔ایسے اسلامی بھائیوں   کے لیے شیخ طریقت ،  امیر اہلسنت  ،  بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے  ’’ مردے کے صدمے ‘‘   کے آخر میں   تحریر فرماتے ہیں   کہ:   ’’ نگران سے مراد صرف کسی ملک یا شہر یا مذہبی و سماجی و سیاسی تنظیم کا ذمہ دارہی نہیں   بلکہ عموماًہر شخص کسی نہ کسی کا ذمہ دار ہو تا ہے مثلاً مراقب( یعنی سپر وائزر)اپنے ماتحت مزدوروں   کا ،  افسر اپنے کلرکوں   کا  ، امیرِ قافلہ اپنے قافلوں   کا اور ذیلی نگران اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں   کا ۔ یہ ایسے معاملات ہیں   کہ ان نگرانیوں   سے فراغت مشکل ہے۔ بالفرض اگر کو ئی تنظیمی ذمہ داری سے مستعفی ہو بھی جائے تب بھی اگر شادی شدہ ہے تو اپنے بال بچوں   کا نگران ہے۔ اب وہ اگر چاہے کہ ان کی نگرانی سے گلو خلاصی ہو تو نہیں   ہو سکتی۔ بہرحال ہر نگران سخت امتحان سے دوچار ہے مگر ہاں   جو انصاف کرے اس کے وارے نیارے ہیں   چنانچہ ارشادِ رحمت بنیاد ہے:   ’’ انصاف کر نے والے نور کے منبروں   پر ہوں   گے یہ وہ لوگ ہیں   جو اپنے فیصلوں    ، گھر والوں   اور جن جن کے نگران بنتے ہیں   ان کے بارے میں   عدل سے کام لیتے ہیں   ۔ ‘‘  ([4])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا تحریر سے واضح ہوا کہ ہم میں   سے ہر ایک ذمہ دار ہے ،  والدین اپنی اولاد کے ،  اساتذہ اپنے شاگردوں   کے ، شوہر اپنی بیوی کا وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ! ہمیں   چاہے کہ اپنے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کریں   اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتے رہیں   تاکہ ہمارے ماتحت بھی اپنی اصلاح کی کوشش میں   لگے رہیں  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فاروقِ اعظم کی وصیتیں 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نصیحت عبرت دلانے والی بات یا اس بات کو کہتے ہیں   جس میں   کوئی نیک مشورہ شامل ہو ،  جبکہ سفر کو جاتے وقت یا زندگی کے آخری لمحات میں   جو باتیں   کی جاتی ہیں   وہ وصیت کہلاتی ہیں  ۔ عوام الناس عموماً وصیت اُن ہی باتوں   کو سمجھتے ہیں   جو زندگی کے آخری لمحات میں   کی جائیں   جبکہ ایسا نہیں   ہے ،  بلکہ وصیت اُن باتوں   کو بھی کہتے ہیں   جو عام زندگی میں   اِس انداز میں   کی جائیں   کہ گویا آخری دم تک اُن پر عمل کرنا ضروری ہے ،  یا وہ باتیں   جن پر عمل کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ،  یا وہ جو کسی کی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہوں   ،  یا وہ کلام اور گفتگو جو فکر آخرت پر مشتمل ہوں   ان پر بھی وصیت کا اطلاق ہوتاہے۔ بہرحال کسی شخص کی وصیتیں   وہی باتیں   ہوتی ہیں   جن پر عمل کرنے میں   کم از کم اس کے نزدیک فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے ، نیز وہ اُن پر عمل کو ضروری سمجھتا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف لوگوں   کو مختلف مواقع پر کئی وصیتیں   فرمائیں   ،  جو اصلاح کے بے شمار مدنی پھولوں   پر مشتمل ہیں  ۔چند وصیتیں   ملاحظہ کیجئے۔

 



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۴۷ ،  حدیث: ۴۔

[2]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام الحسن البصری ،  ج۸ ،  ص۲۶۶ ،  حدیث: ۱۰۹۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۴۷ ،  حدیث: ۷۔

[4]     نسائی ،  کتاب آداب القضاۃ ، فضل الحاکم۔۔۔الخ ، ص۸۵۱ ، حدیث: ۵۳۸۹۔



Total Pages: 349

Go To