Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭… ’’ وَمَنْ لَا يَتَّقِ لَا يُوَقَّهُاور جو خود نہیں   بچتا اسے بچایا بھی نہیں   جاتا۔ ‘‘  ([1])

(8)قرآن سیکھواور اس کی معرفت حاصل کرو:

حضرت سیِّدُنا باہلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ملک شام میں   جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

٭ ’’ قرآن مجید اس طرح سیکھوکہ تمہیں   اس کی معرفت حاصل ہوجائے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور قرآن پر اس طرح عمل کرو کہ تم اہلِ قرآن کہلانے لگو۔ ‘‘  ٭ ’’ کیونکہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی اہل حق کی قدرومنزلت تک نہیں   پہنچاتی۔ ‘‘  ٭ ’’ جان لو سچی بات اور بڑی نصیحت موت کے قریب نہیں   کرتی ،  اور نہ ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّکے رزق سے دور کرتی ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور جان لو بندے اور اس کے رزق کے درمیان ایک پردہ ہے ،  اگر بندہ صبر کرتاہے تو اسے رزق عطا کیا جاتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اگر وہ جلد بازی کرتاہے تو اس حجاب کو توڑ ڈالتا ہے اور اپنے مقررہ رزق سے زیادہ نہیں   حاصل کر پاتا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور گھوڑوں   کو پالو  ،  نیزہ بازی سیکھو ،  خچر استعمال کرو ،  جوتے پہنو ،  مسواک کرو اور اپنے دادا معد بن عدی کی عادت اپناؤ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور عجمیوں   کے اخلاق وعادات سے پرہیز کرو ،  ظالم وجابر حکمرانوں   کی مجاوری سے بچواور اپنے سینوں   پر صلیب اٹھائے جانےسے بچو۔ ‘‘  ٭ ’’ اور ایسے دستر خوان پر بیٹھنے سے بچوجس پر شراب نوشی کی جائے گی۔ ‘‘  ٭ ’’ اورحمام میں   بغیر تہبند کے داخل ہونے سے بچو اور اپنی عورتوں   کو حماموں   میں   مت جانے دو کیونکہ یہ حلال نہیں   ۔ ‘‘  ٭ ’’ عجمیوں   کے شہروں   میں   جانے کے بعد ایساکاروبار کرنے سے بچو جو تمہیں   اپنے شہروں   میں   آنے سے روک دے ،  کیونکہ عنقریب تمہیں   اپنے شہروں   میں   لوٹنا پڑے گا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور یہ بھی جان لو کہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّتین آدمیوں   کو پاک وصاف نہیں   فرمائے گا ،  نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں   قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ‘‘   ٭ ’’ وہ شخص جو اپنے دنیاوی فائدے کے لیے حاکم سے سودا کرے وہ چیز اس نے پالی تو اس کی حفاظت کرے گا اور بد عہدی کرے گا۔ ‘‘  ٭ ’’ دوسرا وہ شخص جو عصر کے بعد کوئی چیز بیچنے کے لیے اس طرح نکلے  کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جھوٹی قسمیں   اٹھائے اس بات پرکہ اسے فلاں   چیز اتنے اتنے کی ملی ہے اور پھر اس کی جھوٹی قسموں   کی وجہ سے وہ چیز فروخت جائے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور مومن کو گالی دینا فسق ہے ،  مومن کے قتل کو حلال جاننا کفر ہے اور تمہارے لیے حلال نہیں   کہ تم اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرو۔  ‘‘  ٭ ’’ جو شخص جادوگر یا کاہن یا نجومی کے پاس آیا اور اس کی باتوں   کی تصدیق کی تو یقینا ًاس نے حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر جو کچھ نازل کیاگیا اس کا انکار کردیا۔ ‘‘  ([2])

 (9)ملک شام میں   داخل ہونے کے بعد خطبہ:

حضرت سیِّدُنا سائب بن مہجان شامی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام میں   داخل ہوئے تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا کی ،  وعظ ونصیحت کی ،  اچھی باتوں   کا حکم کیا اور بری باتوں   سے روکا۔ پھر فرمایا:

٭ ’’ بے شک رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری طرح خطاب کرنے کھڑے ہوئے تھے ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے  ،  صلہ رحمی کرنے اور آپس کے تعلقات کی بہتری کا حکم ارشاد فرمایا۔ ‘‘  ٭ ’’ اوریہ بھی ارشاد فرمایا کہ سواد اعظم کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ایک روایت میں   ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کو لازم کرلو۔ ‘‘  ٭ ’’ کیونکہ  اللہ

عَزَّ وَجَلَّ کا دست قدرت جماعت پر ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور بے شک شیطان اکیلے آدمی کے ساتھ ہوتاہے اور دو آدمیوں   سے دور رہتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ کوئی شخص عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے کیونکہ تیسرا ان میں   شیطان ہوگا۔ ‘‘  ٭ ’’ اور جس شخص کو اس کی برائی برے لگے اور نیکی اچھی لگے اس بات پرتو یہ اس کے مؤمن ومسلمان ہونے کی نشانی ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اورمنافق کی نشانی یہ ہے کہ برائی اسے پریشان نہیں   کرتی (یعنی وہ گناہوں   پر نادم نہیں   ہوتا)اورنیکی اسے خوش نہیں   کرتی۔ ‘‘  ٭ ’’ اگر بھلائی والا کوئی عمل کر بھی لے تو اسے رب عَزَّ وَجَلَّ کی ذات سے ثواب کی کوئی امید نہیں   ہوتی ۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اگر کوئی برا عمل کرے تو اس برائی کے معاملے میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ سے نہیں    ڈرتا۔ ‘‘  ٭ ’’ دنیا کی طلب معروف یعنی شرعی طریقے سے کرو کیونکہ تمہیں   رزق دینا  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور  اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسہ رکھو تمہارے ادھورے کاموں   کو وہی مکمل فرمانے والا ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ اپنے اعمال پر  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد مانگو کیونکہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو چاہتاہے مٹاتا ہے اور جو چاہتاہے باقی رکھتاہے ،  اسی کے پاس  ’’ اُمّ الْکِتَاب ‘‘   ہے۔ ‘‘   ٭… ’’ ہمارے نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور درودوسلام ہوں  ۔ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ۔([3])                                               

(10)اس نے فلاح پائی جو خواہشات نفس سے بچا:

حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے خطبے میں   ارشاد فرمایا کرتے تھے: ٭ ’’ تم میں   سے وہ شخص کامیاب وکامران ہوا جو خواہشات نفس ،  طمع اور غصے پر عمل کرنے سے محفوظ رہا اور اسے گفتگو میں   سچ بولنے کی توفیق دی گئی ، کیونکہ سچ بھلائی کی طرف لے جاتاہے ۔ ‘‘  ٭ ’’ جو جھوٹ بولتاہے وہ سرکشی کرتاہے اور جو سرکشی کرتاہے وہ ہلاک ہو جاتاہے لہٰذا سرکشی سے بچو۔ ‘‘  ٭ ’’ دن بدن اچھے اعمال کرتے رہو ،  مظلوم کی بددعا سے بچو اور اپنے آپ کومُردوں   



[1]     الادب المفرد ،  باب ارحم من فی الارض ،  ص ۱۰۲ ،  حدیث: ۳۷۲۔

                                                کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۴ ،  حدیث: ۴۴۱۷۹۔

[2]     کنزالعمال ،  کتاب المواعظ ،  خطب عمر ومواعظہ ،  الجزء: ۱۶ ،  ج۸ ،  ص۶۹ ،  حدیث: ۴۴۲۰۶۔

[3]     اتحاف الخیرۃ المھرۃ ، کتاب المواعظ ، باب جامع فی المواعظ ، ج۹ ، ص۵۳۹ ، حدیث: ۹۵۰۶۔



Total Pages: 349

Go To