Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

حضرت سیِّدُنا علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے علم وحکمت کے مدنی پھول دیتےہوئے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ فضول گوئی سے بچنے والے کو حکمت ودانائی عطا کی جاتی ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ بلا ضرورت ادھر ادھر دیکھنے سے بچنے والے کو خشوع قلب (قلبی سکون) عطا کیا جاتاہے۔ ‘‘  ٭… ’’ فضول طعام (یعنی ڈٹ کر کھانا یا بغیر کسی بھوک کے صرف لذت کے لیے طرح طرح کی چیزیں   کھانا) چھوڑنے والے کو عبادت میں   لذت دی جاتی ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ فضول ہنسنے سےبچنے والے کو رعب ودبدبہ عنایت ہوتاہے۔ ‘‘  ٭… ’’ مذاق مسخری سے بچنے والے کو نور ایمان نصیب ہوتاہے۔ ‘‘  ٭… ’’ دنیا کی محبت سےبچنے والے کو آخرت کی محبت دی جاتی ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ دوسروں   کے عیب ڈھونڈنے سے بچنے والے کو اپنے عیبوں   کی اصلاح کی توفیق ملتی ہے۔ ‘‘  ([1])

مومن کی عزت تقویٰ ہے:

حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:

٭ ’’ عزت مؤمن کا تقویٰ ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ دین اس کا حسب ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ مروت اس کا خلق ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ بہادری اور بزدلی دو ایسی خصلتیں   ہیں    اللہ عَزَّ وَجَلَّجہاں   چاہے انہیں   رکھ دیتاہے۔ ‘‘  ٭ ’’ بزدل تو ایسا ہوتاہے کہ مشکل وقت میں   اپنے والدین کو بھی چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔٭ ’’ بہادر تو ایسے شخص سے بھی لڑتا ہے جو اسے اس کی سواری تک بھی نہیں   پہنچنے دے گا۔ ‘‘  ٭ ’’ جنگ کرنا بھی مختلف محاذوں   میں   سے ایک محاذ ہے۔ ‘‘  ٭ ’’ شہید وہ ہے جو اپنی جان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کر دے۔ ‘‘  ([2])

سات مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

حضرت سیِّدُنا محمد بن شہاب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ٭ ’’ بیکار اور فضول کاموں   میں   مت پڑو۔ ‘‘  ٭ ’’ اپنے دشمن سے ہمیشہ دور رہو۔ ‘‘  ٭ ’’ امانت دار دوستوں   کے سوا اپنے ہردوست سے چوکنے رہو۔ ‘‘  ٭ ’’ امانت دار شخص کا کسی کے ساتھ موازنہ نہیں   ہوسکتا۔ ‘‘  ٭ ’’ گناہ گاروں   کی صحبت سے بچو ورنہ تمہیں   بھی ان کی گندگی لگ جائے گی۔ ‘‘  ٭ ’’ اپنے سربستہ رازوں   کو فاش نہ کرو۔ ‘‘  ٭ ’’ اپنے معاملے میں   ان لوگوں   سے مشاورت کرو جو خوف خدا رکھنے والے ہوں۔ ‘‘  ([3])

سچی توبہ کی نشانی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے سچی توبہ کے بارے میں   پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:   ’’ التَّوْبَةُ النَّصُوحُ اَنْ يَتُوبَ الْعَبْدُ مِنَ الْعَمَلِ السَّيِّئِ ثُمَّ لاَ يَعُوْدُ ااِلَيْهِ اَبَداً یعنی سچی توبہ یہ ہے کہ بندہ برے عمل سے اس طرح توبہ کرے کہ دوبارہ اس کو کبھی بھی نہ کرے۔ ‘‘  ([4])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خطباتِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زمانہ جاہلیت میں   اگرچہ عربوں   کے اندر عموماً خصائصِ رذیلہ (برے اوصاف)ہی پائے جاتے تھے ،  لیکن اس وقت بھی بعض افراد وہ تھے جن میں   ایسے بہترین خصائل موجود تھے جو لوگوں   کی نظر میں   باعث فخر تھے ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ایسے ہی چند افراد میں   ہوتا تھا۔ تقریر وخطابت کا ملکہ آپ کو رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے عطا ہوا تھا ،  نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فصیح وبلیغ عربی زبان نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ،  اور اسی خصوصیت کے سبب قریش نے آپ کو عہدۂ سفارت دے دیا تھا۔ ایک خطیب کے اندر خطبے کے حوالے سے جو جو صفات ہونی چاہیے تھیں   وہ بدرجہ اتم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میں   موجود تھیں   ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز بہت بلنداور با رعب تھی ،  نہایت ہی متاثر کن شخصیت کے مالک تھے ،  قد اتنا لمبا تھا کہ زمین پرکھڑے ہوتے تو ایسا لگتا جیسے منبر پر کھڑے ہیں  ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خطبات ایسے ہوتے تھے کہ تاثیر کا تیر بن کر لوگوں   کے دلوں   میں   پیوست ہو جاتے ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پہلے عموماً فکری ،  علمی ،  نظری ،  وعظ ونصیحت پر مشتمل خطبات دیے جاتے تھے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ملکی اورجنگی معاملات پر بھی خطبے ارشاد فرمائے ،  یوں   آپ نے خطبات کی اِن اقسام میں   ایک اور قسم  ’’ سیاسی خطبات ‘‘   کا اِضافہ فرمایا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چند خطبات پیش خدمت ہیں  ۔

(1)خلیفہ بننے کے بعد پہلا خطبہ:

حضر ت سیِّدُنا امام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ بننے کے بعد منبر پر جلوہ افروز ہوئےاور خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ٭ ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس بات کی ہمت نہ دے کہ میں   اپنے آپ کو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نشست کا اہل سمجھوں  ۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک درجہ نیچے تشریف لے آئے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا: ٭ ’’ قرآن پڑھتے رہو تمہیں   اس کی معرفت حاصل ہو جائے گی۔ ‘‘  ٭ ’’ اور قرآن پر عمل کرتے رہو اہل قرآن بن جاؤ گے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو قبل اس سے کہ تمہارے اعمال کا محاسبہ کیا جائے۔ ‘‘  ٭ ’’ اور قیامت کے اس دن کے لیے تیار رہو جس دن تم  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   پیش کیے جاؤ گے اور تم میں   سے کوئی بھی اس پر مخفی نہیں   ہوگا۔ ‘‘  ٭ ’’ کوئی بھی شخص  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں   کسی کی اطاعت کرکے حقدار کا حق ادا نہیں   



[1]     المنبھات ،  ص۸۹ ۔

[2]     مؤطا امام مالک ،  کتاب الجھاد ،  ما تکون فیہ الشھادۃ ،  ج۲ ،  ص۲۱ ،  حدیث: ۱۰۲۹۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الادب ،  ما یومربہ الرجل فی مجلسہ ،  ج۶ ،  ص۱۱۳ ،  حدیث: ۲۔

[4]     مصف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۵۴ ،  حدیث:  ۵۰۔



Total Pages: 349

Go To