Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اگر میںاللہ کی راہ میں   قید نہ کیا جاؤں  ۔۔۔؟

حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن جعدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  

٭… ’’ لَوْلاَ اَنْ اَسِيْرَ فِي سَبِيلِ اللہِ یعنی اگر میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں   قید نہ کیا جاؤں  ۔ ‘‘ 

٭… ’’ اَوْ اَضَعَ جَبِيْنِيْ لِلَّهِ فِي التُّرَابِ یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے میں   اپنی پیشانی کو مٹی میں   نہ رکھ سکوں  ۔ ‘‘ 

٭…  ’’ اَوْ اُجَالِسَ قَوْمًا يَلْتَقِطُونَ طَيِّبَ الْكَلاَمُ كَمَا يُلْتَقَطُ التَّمْرُ یا میں   ایسی قوم کی صحبت اختیار کروں   جو اچھی باتوں   کو ایسے لیں   جیسے کھجور کولیا جاتاہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ لاَحْبَبْت اَنْ اَكُونَ قَدْ لَحِقْتُ بِاللّٰہِ تو میں   اس بات کو پسند کروں   گا کہ میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّسے جا ملوں  ۔ ‘‘  ([1])

سترہ مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سےرو ایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں   کے لیے علم وحکمت کے (درج ذیل)سترہ مدنی پھول ارشاد فرمائے:

٭… ’’ جس نے تمہاری ذات کے معاملے میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی ( تمہارے حقوق کو پامال کیا) اسے سزا دینے سے بہتر یہ ہے کہ تم اس کے معاملے میں    اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرو (یعنی اسے معاف کردو)۔ ‘‘  ٭… ’’ اپنے بھائی کے معاملات میں   حتی المقدور حسن ظن سے ہی کام لو البتہ اگر وہ کام ہی ایسا کرے کہ اس میں   حسن ظن قائم نہ ہوسکے تو اور بات ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ اگر تم کسی مسلمان سے کوئی بری بات صادر ہوتی دیکھو اور تم اسے اچھائی پر محمول کرنے پر قادر ہوتو اسے اچھائی ہی پر محمول کرو۔ ‘‘  ٭… ’’ جو شخص اپنے آپ کو مقام تہمت پر پیش کرے اور پھر اس پر تہمت لگے تو وہ تہمت لگانے والوں   کو ملامت نہ کرے۔ ‘‘  ٭… ’’ جو اپنے راز کو چھپائے تو بھلائی اس کے ہاتھ میں   ہی رہے گی۔ ‘‘  ٭…  ’’ اپنے سچے بھائیوں   کے ساتھ رہنے کا التزام کرو کیونکہ اچھے حالات میں   وہ تمہارے لیے باعث فخر اور برے حالات میں   تمہارے معاون ہوں   گے۔ ‘‘  ٭… ’’ سچائی کا دامن کبھی نہ چھوڑو اگرچہ اس کے بدلے تمہاری جان ہی چلی جائے۔ ‘‘  ٭… ’’ فضول کاموں  میں   نہ پڑو۔ ‘‘  ٭… ’’ جو چیز ہے ہی نہیں   اس کے بارے میں   سوال نہ کرو کیونکہ جو چیز نہ ہو اس کے بارے میں   سوچنا فضول ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ اپنی ضرورت کے لیے ایسے شخص کی مدد مت لو جو تمہاری کامیابی کا خواہاں   نہ ہو۔ ‘‘  ٭… ’’ جھوٹی قسم کھانے کو ہلکا مت سمجھو کیونکہ اس کے سبب  اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں   ہلاک فرمادے گا۔ ‘‘  ٭… ’’ بدکار لوگوں   کی صحبت نہ اختیار کرو ورنہ ان کی بدکاری کا اثر تم پر بھی ہو جائے گا۔ ‘‘  ٭… ’’ اپنے دشمنوں   سے ہمیشہ بچ کے رہو اور ہاں   امانت دار دوستوں   کے علاوہ اپنے دیگر دوستوں   سے احتیاط کرو۔ ‘‘  ٭… ’’ امانت دار وہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنے والا ہے۔ ‘‘  ٭… ’’ قبرستان جاؤ تو خشوع اختیار کرو اور رب عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت کرو تو عاجزی اختیار کرو۔ ‘‘  ٭… ’’ آزمائش کے وقت  اللہ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگو۔ ‘‘  ٭… ’’ اپنے معاملے میں   ان لوگوں   سے مشورہ کرو جو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والے ہوں  ۔(یعنی علماء سے مشورہ کرو) کیونکہ  اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہےکہ اس کے بندوں   میں  سے علماء ہی ڈرنے والے ہیں  ۔ ‘‘  ([2])

توبہ کرنے والوں   کی صحبت میں   بیٹھو:

حضرت سیِّدُنا عون بن عبد اللہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ جَالِسُوا التَّوَّابِينَ فَاِنَّهُمْ اَرَقُّ شَيْءٍ اَفْئِدَةًیعنی توبہ کرنے والوں   کی صحبت میں   بیٹھو وہ سب سے زیادہ نرم دل ہوتے ہیں  ۔ ‘‘  ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی اچھوں   کی صحبت بندے کو اچھا بنادیتی ہے اور بروں   کی صحبت برا ،  مشہور مقولہ ہے:  ’’ صُحْبَتِ صَالِح تُرَا صَالِحْ کُنَد ،  صُحْبَتِ طَالِحْ تُرَا طَالِحْ کُنَد ‘‘   یعنی اچھوں   کی صحبت تجھے اچھا بنادے گی اور بروں   کی صحبت برا۔ اگر نیک پرہیزگار اور توبہ کرنے والے لوگوں   کی صحبت اختیار کی جائے تو انسان پرہیزگاری اور توبہ کی طرف مائل ہو جاتاہے۔جبکہ گناہوں   میں   ملوث رہنے والوں   کے ساتھ رہنے سے مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ گناہوں   میں   پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعو تِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار اجتماعات میں   بے شمار نیک لوگ شرکت کرتے ہیں   ،  آپ بھی اپنے اپنے شہروں   میں   ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں   بھرےاِجتماع میں   پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں   کی بہاریں   لُوٹئے۔ دعوتِ اسلامی کے سنتوں   کی تربیت کے لیے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر ، گاؤں   بہ گاؤں   سفر کرتے رہتے ہیں   ، آپ بھی سنتوں   بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں   کا ذخیرہ اکٹھا کریں  ۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں   حیرت انگیز طور پر مدنی انقلاب برپا ہوتا دیکھیں   گے۔

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں 

اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو!

سات مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

 



[1]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۵۰ ،  حدیث: ۲۵۔

[2]     المتفق و المفترق ، ابراھیم بن موسی ، ج۱ ، ص۳۰۴ ، الرقم: ۱۴۱۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزھد ،  کلام عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۱۵۰ ،  حدیث: ۲۴۔



Total Pages: 349

Go To