Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اِس مبارک فرمان میں   ایک نہایت ہی خطرناک باطنی مرض  ’’ تکبر ‘‘   کی ایک صورت کا بیان ہے۔کیونکہ اپنے سے چھوٹے کی نصیحت آموز بات کو تسلیم نہ کرنا بھی نفسِ امارہ کی شرارت اور تکبر کی علامت ہے۔ نصیحت کی بات ہر شخص کی قبول کرنی چاہیے ،  چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن  تو چھوٹے چھوٹے جانوروں   اور بچوں   سے بھی نصیحت حاصل کر لیا کرتے تھے۔ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے بارے میں   منقول ہے وہ فرماتے ہیں   : میں   نے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرنا مرغی سے سیکھا کہ  ’’ وہ ایک وقت کا کھانا کھانے کے بعد باقی جو بچتاہے اسے گرادیتی ہے گویا وہ یہ پیغام دیتی ہے کہ جس رب عزوجل نے مجھے ابھی کھانا کھلایا ہے بعد میں   بھی کھلائے گا لہٰذا ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں  ۔ ‘‘  صلح کرنا ،  بغض وکینہ وحسد ونفرت سے بچنا میں   نے بچوں   سے سیکھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے جب کسی بات پر جھگڑتے ہیں   تو تھوڑی ہی دیر بعد ایک دوسرے میں   گھل مل جاتے ہیں   اور ایسا لگتا ہے ان میں  کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہی نہیں   ہے۔ وہ بچے گویا یہ پیغام دیتے ہیں   کہ آپس کے چھوٹے موٹے اختلاف ختم کرکے صلح کرلو اور دلوں   میں   بغض وکینہ ،  حسدونفرت کو جگہ نہ دو۔ ‘‘   اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں   ان بزرگوں   کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔   آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

چار 4مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

مصیبت کے وقت فاروقِ اعظم کی چارنعمتیں  :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’  مَا ابْتَلَیْتُ بِبَلْیَۃٍ اِلَّا وَکَانَ لِلّٰہِ تَعَالٰی عَلَیَّ فِیْھَا اَرْبَعُ نِعَمٍیعنی  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! میں   جب بھی کسی مصیبت میں   مبتلا ہو تا ہوں   اس وقت بھی مجھ پر  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان چار نعمتوں   کا نزول ہو تاہے: ٭ ’’ اس مصیبت کے سبب فی الوقت میں   گناہ میں   مبتلا نہیں   ہوتا۔ ‘‘  ٭ ’’ اس مصیبت کے وقت مجھ پر اس سے بڑی کوئی مصیبت نازل نہ ہوئی۔ ‘‘  ٭ ’’ اس مصیبت کے وقت میں   اس پر راضی ہوتا ہوں  ۔ ‘‘  ٭ ’’ اس مصیبت کے وقت مجھے اس پر ثواب کی امید ہوتی ہے۔ ‘‘  ([1])

تم برابر بھلائی پر رہو گے:

حضرت سیِّدُنا ابن معاویہ کندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے فرماتے ہیں   میں   ملک شام میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے لوگوں   کی کیفیت کے متعلق پوچھااور پھر خود ہی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فرمانے لگے:   ’’  شاید لوگوں   کی یہ کیفیت ہوگی کہ بدکے ہوئے اونٹ کی طرح مسجدمیں   آتےہوں   گے اورمسجد میں   اپنی قوم یا جان پہچان کے لوگوں   کو مجلس میں   دیکھ کر ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہوں   گے۔ ‘‘   میں   نے عرض کیا:  ’’ نہیں   حضور! ایسی کیفیت نہیں   ہے ،  البتہ ان کی مختلف مجلسیں   منعقد ہوتی ہیں   لوگ بھلائی سیکھتے سکھاتے ہیں  ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ لَنْ تَزَالُوْا بِخَيْرٍ مَّا كُنْتُمْ كَذٰلِكَیعنی جب تک تمہاری یہ صورت رہے گی تم برابر بھلائی پر رہو گے۔ ‘‘  ([2])

تین 3مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ حُسْنُ التَّوَدُّدِ اِلَی النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ یعنی لوگوں   سے حسن اخلاق سے پیش آنا نصف عقل ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ حُسْنُ السُّوَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ یعنی اچھے طریقے سے سوال کرنا آدھا علم ہے۔ ‘‘ 

٭… ’’ حُسْنُ التَّدْبِیْرِ نِصْفُ الْمَعِیْشَۃِ یعنی اچھی تدبیر اختیار کرنا آدھی معیشت ہے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی زندگی کی بہترین چیز:

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ وَجَدْنَا خَيْرَ عَيْشِنَا بِالصَّبْرِ یعنی ہم نے اپنی بہترین زندگی صبر کے ساتھ پائی ہے۔ ‘‘  ([4])

چار4 مدنی پھولوں   پر مشتمل فاروقی گلدستہ

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:

٭… ’’ كُوْنُوْا اَوْعِيَةَ الْكِتَابِ وَيَنَابِيْعَ الْعِلْمِ یعنی قرآن کے حافظ اور علم کے چشمے بن جاؤ ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَعُدُّوْا اَنْفُسَكُمْ مِنَ الْمَوْتٰىاپنے آپ کو مُردوں   میں   شمار کرو ۔ ‘‘ 

٭… ’’  وَاسْاَلُوْا اللہَ رِزْقَ يَوْمٍ بِيَوْمٍ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ہر دن نیا رزق مانگو ۔ ‘‘ 

٭… ’’ وَلَا يَضُرُّكُمْ اَنْ يَكْثُرَ لَكُمْاوراگر(وہ رزق رب تعالی کی طرف سے) تمہیں   زیادہ مل جائے تو تمہیں   نقصان نہیں   دے گا۔ ‘‘   ([5])

 



[1]     فیض القدیر ،  حرف الھمزۃ ،  ج۲ ،  ص۱۶۹ ،  تحت الحدیث:  ۱۵۰۶۔

[2]     کنزالعمال ،  کتاب العلم ،  باب فی فضلہ والتحریص ،   الجزء: ۱۰ ،  ج۵ ،  ص۱۱۲ ،  حدیث: ۲۹۳۴۴۔

[3]     المنبھات ،  ص۹۔

[4]     بخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب الصبر عن محام اللہ ،  ج۴ ،  ص۲۳۹ ،  تحت الباب: ۲۰۔

[5]     الزھد للامام احمد ،  زھد عمر بن الخطاب ،  ص۱۴۸ ،  الرقم:  ۶۳۲۔



Total Pages: 349

Go To