Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محاسبۂ نفس کرتے ہوئے فکرِ آخرت میں   آنسو بہانا نہایت ہی عظیم سعادت ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ،  شیخِ طریقت ،  امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے مریدین ،  محبین ومتعلقین کو ہمیشہ فکر مدینہ یعنی محاسبۂ نفس کرنے کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں   ،  اور اِسلامی بھائیوں   واِسلامی بہنوں   کے لیے فکر آخرت پر مشتمل مدنی اِنعامات کا گلدستہ بھی مرتب فرمایا ہے ،  جن پرعمل کرکے ہر شخص دنیا وآخرت کی بے شمار بھلائیاں   حاصل کرسکتاہے۔ آپ بھی دعوتِ اِسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے اور مدنی اِنعامات پر عمل کرکے اپنی آخرت کو بہتر بنائیے۔

فاروقِ اعظم کی صبر وشکر کی دو سواریاں  :

حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ لَوْ اُوْتِيْتُ بِرَاحِلَتَيْنِ رَاحِلَةَ شُكْرٍ وَرَاحِلَةَ صَبْرٍ لَمْ اُبَالَ اَيَّهُمَا رَكِبْتُ یعنی اگر مجھے دو سواریاں   دے دی جائیں   ،  ایک شکر کی سُواری اور ایک صبر کی سُواری تو مجھے کوئی پرواہ نہیں   کہ میں   دونوں   میں   سے کسی پر بھی سُوار ہو جاؤں  ۔ ‘‘  ([1])

سُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! صد ہزار آفریں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مدنی سوچ پر جنہوں   نے خدائے بزرگ وبَر تر کی رضا کے لئے شاہی شان وشوکت ،  محلات وباغات ،  غِلمان وخُدّام اور دنیوی زیب وزینت کو ٹھکرا کر سادگی وعاجزی اختیار کی۔ بھوک وپیاس کی مصیبتیں   ہنس کر برداشت کیں    ،  کبھی بھی حرفِ شکایت لب پر نہ لائے اورر زقِ حلال کی خاطر محنت مزدوری کی۔یقیناً یہی وہ لوگ ہیں   جنہوں   نے آخرت کی قدر جان لی۔ اُن پر دنیا کی حقیقت آشکار ہوچکی تھی کہ دنیا بے وفاہے اُس کی نعمتیں   زوال پذیر ہیں  ۔اُن عارضی لذتوں   کی خاطر دائمی خوشیوں   کو نظر اَنداز کر دینا عقل مندوں   کا کام نہیں  ۔ سمجھدار لوگ وہی ہیں   جو باقی رہنے والی خوشیوں   کو فانی خوشیوں   پر تر جیح دیتے ہیں   اور دُنیوی مصائب و تکالیف کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتے ہیں  ۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِن پاکیزہ ہستیوں   کے صدقے ہمیں   بھی ا عمالِ صالحہ پر استقامت عطا فرمائے۔ ہر حال میں   اپنی رضا پر راضی رہنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔ بے صبری وناشکر ی سے بچا کر صبر وشکر کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ کامیابی اسی میں   ہے کہ ہر آنے والی مصیبت پر صبر کر کے اجر کا مستحق ہو۔ مصائب وآلام کے ذریعے ہمیں   آزمایا جاتا ہے اور بہادری یہی ہے کہ امتحان وآزمائش آ جائے تو بے صبری کرکے منہ نہ پھیرا جائے بلکہ خوش دِلی سے آزمائشوں   سے مقابلہ کیا جائے  ،  مصیبت خود نہ مانگی جائے بلکہ عفو و کرم کی بھیک طلب کی جائے۔ اگر مصیبت آجائے تو اس پر صبر کیا جائے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں   اپنے حفظ وامان میں   رکھے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔                آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

میری مشکلیں   گر تیرا امتحاں   ہیں 

تو ہر غم قسم سے خوشی کا سماں   ہے

گناہوں   کی میرے اگر یہ سزا ہے

تو سب مشکلوں   کو مٹا میرے مولیٰ

لُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پانچ 5مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

فاروقِ اعظم نے سب کچھ دیکھا لیکن۔۔۔:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں  :

٭… ’’ رَاَیْتُ جَمِیْعَ الْاَخِلَّاءِ فَلَمْ اَرَ خَلِیْلًا اَفْضَلَ مِنْ حِفْظِ اللِّسَانِ یعنی میں   نے تمام دوست دیکھے لیکن زبان کی حفاظت سے افضل کسی کو نہ پایا۔ ‘‘ 

٭… ’’ رَاَیْتُ جَمِیْعَ اللِّبَاسِ فَلَمْ اَرَ لِبَاسًا اَفْضَلَ مِنَ الْوَرْعِ یعنی میں   نے تمام لباس دیکھے لیکن تقوے کے لباس سے زیادہ افضل کوئی نہ پایا۔ ‘‘ 

٭… ’’ رَاَیْتُ جَمِیْعَ الْمَالِ فَلَمْ اَرَ مَالًا اَفْضَلَ مِنَ الْقَنَاعَۃِیعنی میں   نے تمام مال دیکھے لیکن مال قناعت سے زیادہ افضل کسی کو نہ پایا۔ ‘‘ 

٭… ’’ رَاَیْتُ جَمِیْعَ الْبِرِّ فَلَمْ اَرَ بِرًّا اَفْضَلَ مِنَ النَّصِیْحَۃِیعنی میں   نے تمام نیکیاں   دیکھی لیکن نصیحت سے زیادہ افضل کسی نیکی کو نہ پایا۔ ‘‘ 

٭… ’’ رَاَیْتُ جَمِیْعَ الْاَطْعِمَۃِ فَلَمْ اَرَ طَعَامًا اَلَذَّ مِنَ الصَّبْرِیعنی میں   نے تمام کھانے دیکھے لیکن صبر سے زیادہ لذیذ کھانا کوئی نہ پایا۔ ‘‘  ([2])

لوگوں   کے بگڑنےاور سدھرنے کی وجہ:

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’  قَدْ عَلِمْتَ مَتَى صَلَاحُ النَّاسِ وَمَتَى فَسَادُهُمْیعنی کیا تم جانتے ہوکہ لوگ سدھرتے کیسے ہیں   اور بگڑتے کیسے ہیں  ؟ ‘‘   پھر خود ہی ارشاد فرمایا:   ’’ جب نصیحت کی بات کسی چھوٹے کی طرف سے آتی ہے تو وہ اس پر بگڑ جاتاہے اور جب بڑے کی طرف سے آتی ہے تو چھوٹا اس کو مان لیتا ہے تو دونوں   کا معاملہ صحیح رہتاہے۔ ‘‘  ([3])

 



[1]     تاریخ ابن عساکر ،  ج۱۳ ،  ص۴۷ ،  کنزالعمال ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  شکرہ ،  الجزء: ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۲۹۰ ،  حدیث:  ۳۵۹۷۹۔

[2]     المنبھات ،  ص۶۵۔

[3]     جامع بیان العلم وفضلہ ، باب حال العلم اذا۔۔۔الخ ، ص۲۲۰ ، الرقم: ۶۷۹۔



Total Pages: 349

Go To