Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

معمول بنالیجئے ،  اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اس کی برکت سے پابندِ سنت بننے ،  گناہوں   سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا۔ ہر اسلامی بھائی اپنا یہ مَدَنی ذِہن بنا ئے کہ ’’  مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اِصلاح کی کوشِش کرنی ہے۔ ‘‘   اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ۔اپنی اِصلا ح کی کوشِش کیلئے مَدَنی اِنعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں   کی اِصلاح کی کوشِش کیلئے مَدَنی قافلوں   میں   سفر کرنا ہے۔اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ

تو ولی اپنا بنا لے اس کو رب لَمْ یَزَلْ

مدنی انعامات پر کرتا ہے جو کوئی عمل

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں 

اے دعوتِ اسلامی تری دھوم مچی ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جہنم کا ذکر کثرت سے کیا کرو:

حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:  ’’ اَكْثِرُوا ذِكْرَ النَّارِ  ،  فَاِنَّ حَرَّهَا شَدِيدٌ  ،  وَاِنَّ قَعْرَهَا بَعِيدٌ  ،  وَاِنَّ مَقَامِعَهَا حَدِيدٌ یعنی دوزخ کوزیادہ یاد کیا کرو کیونکہ اس کی گرمی بہت شدید ہے ،  اور اس کی گہرائی بہت دور تک ہے ،  اور اس کے گُرز لوہے کے ہیں  ۔([1])                 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دوزخ اور اس کی سختیوں   کو یاد کرنے سے فکرِ آخرت کا ذہن ملتا ہے ،  اور یقیناً سمجھدار تو وہی ہے جو دنیا میں   رہتے ہوئے آخرت کی تیار ی میں   مشغول رہے کہ عذابِ جہنم سہنے کی کسی میں   سکت نہیں   ،  جہنم کا سب سے ہلکا عذاب آگ کی جوتیاں   ہیں   ،  ذرا غور تو کیجئے !کیا دنیا کی آگ ہم برداشت کرلیتے ہیں  ؟ ہرگزنہیں   بلکہ اگر غلطی سے جلتی ہوئی موم بتی پر ہاتھ لگ جائے تو جلن سے بِلبِلا اٹھتے ہیں   ، جہنم کی آگ کی گرمی دُنیا کی آگ کی گرمی سے اُ نہتر درجے زیادہ ہے ،  حضورِ اکرم ،  نُورِ مجسم ،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’  فرشتوں   نے ایک ہزار سال تک جہنم کی آگ کو بھڑکایا تو وہ سرخ ہو گئی ،  پھر دوبا رہ ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ سفید ہو گئی ،  پھر تیسری بار جب ایک ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو وہ کالے رنگ کی ہو گئی تو وہ نہایت ہی خوفناک سیاہ رنگ کی ہے۔ ‘‘  ([2])

بھلائی کے کاموں   میں   آگے بڑھو:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا مَعْشَرَ الْقُرَّاءِ! اِرْفَعُوْا رُؤُوْسَكُمْ ،  مَا اَوْضَحَ الطَّرِيْقُ! فَاسْتَبِقُوْا الْخَيْرَاتِ ،  وَلَا تَكُوْنُوْا كَلًّا عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ یعنی اے قراء کی جماعت! اپنے سروں   کو اُوپر اُٹھاؤ اور دیکھو راستہ کس قدر واضح ہے ،  بھلائی کے کاموں   میں   آگے بڑھو اور مسلمانوں   پر بوجھ مت بنو۔ ‘‘  ([3])

چھ 6مدنی پھولوں   کا فاروقی گلدستہ

اللہ نے چھ چیزوں   کو چھ چیزوں   میں   چھپا دیا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی کَتَمَ سِتَّۃً فِیْ سِتَّۃٍ یعنی  اللہ

 عَزَّ وَجَلَّ نے چھ چیزوں   کو چھ چیزوں   میں   چھپا دیا:

٭… ’’ کَتَمَ الرِّضَاءَ فِی الطَّاعَۃِ یعنی اپنی رضا کو اپنی اطاعت میں   چھپا دیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ کَتَمَ الْغَضَبَ فِی الْمَعْصِیَۃِ یعنی اپنی ناراضگی کو گناہوں   میں   چھپا دیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ کَتَمَ اِسْمَہَ الْاَعْظَمَ فِی الْقُرْآنِ یعنی اپنے اسمِ اعظم کو قرآن میں   چھپا دیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ کَتَمَ لِیْلَۃَ الْقَدْرِ فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ یعنی شب قدر کو رمضان میں   چھپا دیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ کَتَمَ الصَّلَاۃَ الْوُسْطٰی فِی الصَّلَوَاتِ یعنی درمیانی نماز کو دیگر نمازوں   میں   چھپا دیا۔ ‘‘ 

٭… ’’ کَتَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الْاَیَّامِ یعنی یوم قیامت کو دیگر ایام میں   چھپا دیا۔ ‘‘  ([4])

محاسبہ نفس کرکے آنسو بہاؤ:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اِسْتَغْزِرُوْا الدُّمُوْعَ بِالتَّذَكُّرِ یعنی محاسبۂ نفس کرکے اپنے آنسو بہاؤ۔ ‘‘  ([5])

 



[1]     مصنف ابن ابی شیبۃ ،  کتاب ذکر النار ،  ما ذکر فیما اعدلا ھل النار ،  ج۸ ،  ص۹۷ ،  حدیث: ۴۰۔

[2]     ترمذی ، کتاب صفۃ جھنم ، باب منہ ، ج۴ ،  ص۲۶۶ ،  حدیث: ۲۶۰۰۔

[3]     شعب الایمان ،  باب التوکل والتسلیم ،  ج۲ ،  ص۸۲ ،  حدیث: ۱۲۱۷۔

[4]     المنبھات ،  ص۷۱۔

[5]     المجالسۃ و جواھر العلم ، الجزء الخامس ،  ج۱ ،  ص۲۹۳ ،  الرقم: ۷۳۶۔



Total Pages: 349

Go To