Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

  • مدینہ منورہ کی ایک سرد رات ،  ایک تا ریخی  اور عظیم  الشان واقعہ
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نسب کا نسب  ،  نامی  اِسمِ گرامی
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت  اور اُس کی وجوہات
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی القابات  اور اُن کی وجوہات
  • فارِق ،  فارُوق ،  فاروقی  اور فاروقِ اعظم کے معانی
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پیدائش اور جائے پرورش
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  حسنِ ظاہری
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک انداز
  • زمانہ جاہلیت  کی زندگی  ،  سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا بچپن
  • سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جوانی ،  کا روبار ذریعہ معاش

٭…٭…٭…٭…٭…٭

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم  ط

دُرُود شریف کی فضیلت

ایک بار شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے ،  لیکن اس دن کوئی بھی آپ کے ساتھ نہ تھا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دیکھا تو گھبرا کر اٹھے اور پانی کا ایک مشکیزہ لے کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے روانہ ہوگئے۔ کیا دیکھتے ہیں   سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک چھپر کے نیچے بارگاہِ الٰہی میں   سجدہ ریز ہیں  ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سجدے سے سر اٹھایا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا:   ’’ اَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ حِیْنَ وَجَدْتَّنِیْ سَاجِداً فَتَنْحَیْتَ عَنِّیْ اِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَانِیْ  فَقَالَ مَنْ صَلّٰی عَلَیْكَ مِنْ اُمَّتِكَ وَاحِدَةۃً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ عَشَرًا وَرَفَعَہُ بِھَا عَشَرَ دَرَجَاتٍ یعنی اے عمر! تم نے بہت اچھا کیا جو مجھے سجدے میں   دیکھ کر پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے ،  بے شک ابھی جبریل امین میرے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا جو بھی امتی آپ پر ایک بار درود شریف پڑھے گا ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا اور اس کے دس درجات بلند فرمائے گا۔ ‘‘   ([1])

ہر درد کی دوا ہے صلِّ عَلٰی مُحَمَّد

تعویذِ ہر بلا ہے صلِّ عَلٰی مُحَمَّد

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدینہ منورہ کی ایک سرد رات

پورا جزیرۂ عرب تقریباً پہاڑی اور ریتلے علاقے پر مشتمل ہے ،  اور اس میں   مختلف  ’’ حَرَائِر ‘‘  ہیں  ۔ ’’ حَرَائِر ‘‘   جمع ہے  ’’ حَرَّۃ ‘‘  کی اورعربی زبان میں   ’’ حَرَّۃ ‘‘   اس زمین کو کہتے ہیں   جہاں   جلے ہوئے سیاہ رنگ کے پتھروں   کی کثرت ہو۔ عرب کا مشہور ومبارک شہر مدینۂ منورہ ایسے ہی دو  ’’ حَروں   ‘‘   کے درمیان واقع ہے  ،  ایک کا نام  ’’ حَرَّۂ وَبَرَہ ‘‘   ہے جو مدینہ منورہ کے مغرب میں   واقع ہے ،  اور دوسرے کا نام ’’ حَرَّۂ وَاقِم ‘‘   ہے جو مدینۂ منورہ کے مشرق میں   واقع ہے۔ حجاز کے پہاڑی علاقوں   کا موسم عموماً گرم ہی ہوتاہے اور گرمی کے موسم میں   تو یہاں   گرم لُو بھی چلتی ہے۔البتہ ایسے علاقوں   میں   موسم سرما میں   سردی بھی بہت شدید ہوتی ہے۔اور یہاں   کے لوگ مغرب کے بعد ہی گھروں   میں   دبک جاتے ہیں   اگر باہر نکلتے بھی ہیں   تو فقط عشاء کی نماز یا کسی ضروری حاجت کے لیے۔

یہ ایک ایسی ہی سرد رات کی بات ہے جب مدینہ منورہ میں   موسم سرما عروج پر تھا ،  انسان تو انسان  ،  جانور اور چرند پرند بھی اپنے اپنے گھروں   میں   سردی سے بچنے کے لیے دبکے ہوئے تھے ،  سخت سردی کے ساتھ ساتھ رات کی تاریکی  نے ماحول کو مزید ڈراؤنا بنادیا تھا ، ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھااور ایسے وقت میں   باہر نکلنے کا کوئی سوچ بھی نہیں   سکتا تھالیکن تعجب کی بات ہے کہ ایسے سخت موسم میں   بھی مدینہ منورہ کے دو مقیم افراد علاقائی دورہ کرنے نکل کھڑے ہوئے ،  دونوں   کو ایک نظر دیکھنے سے یہی اندازہ ہوتا تھا کہ ان میں   سے ایک شاید آقا ہے اور دوسرا اس کا خادم۔البتہ دونوں   کے ظاہری حلیے اور لباس میں   کوئی ایسا خاص فرق نہ تھا جو اس امتیاز کو واضح کرتا۔ شاید اس کی ایک وجہ تویہ تھی کہ آقا نے کوئی خاص لباس زیب تن نہ کیا تھا اور دوسری وجہ آقا کا اپنے خادم سے گفتگو کرنے کا مہذب اور پیارا اندازتھا جو اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ اس آقا نے کبھی اپنے خادم پراپنی برتری جتانے کی کوشش نہیں   کی ہوگی۔ان دونوں   کے چلنے کا انداز اس بات کی طرف اشارہ کرتا تھا کہ دونوں   فقط چہل قدمی کے لیے اس وقت باہر نہیں   نکلے بلکہ ضرور کوئی خاص مقصد پیش نظر ہے۔ہاں   کسی خوف اور شدید سردی کی پرواہ



[1]     معجم الاوسط ،  بقیۃ ذکرمن اسمہ محمد ،  ج۵ ،  ص۶۸ ،  حدیث: ۶۶۰۲۔



Total Pages: 349

Go To