Book Name:Beta Hoto Aisa

دے کرمدینۃُ المنوَّرہ پر حملہ کرنے بھیجا،  ظالم یزید یوں نے مدینہ شریف میں بے انتہا خون ریزی کی،  سات ہزار صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسمیت دس ہزار سے زیادہ افراد کو شہید کیا،  اہلِ مدینہ کے گھر لوٹ لئے،  انتہائی شَرْمناک حرکتیں کیں ،  یہاں تک کہ مسجدِ نبوی شریف کے ستونوں  (S PILLAR)  کے ساتھ گھوڑے باندھے ۔   پھر یہ فوج مکہ شریف پہنچی ،  مِنْجَنِیْق ( مِنْ۔  جَ۔  نیق جوکہ پتھر پھینکنے کا آلہ ہو تا تھا اُس )  کے ذریعے پتھر برسائے،  اِس سے حرم شریف کا صحن مبارَک پتھروں سے بھر گیا،  مسجد الحرام کے ستون   (SPILLAR)  شہید ہو گئے اور کعبۃُ اللّٰہ کے غلاف شریف اور چھت مبارَک کو ان ظالموں نے آگ لگا دی،  کعبۃُ اللّٰہ شریف کی چھت میں حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَامکے فدیے میں قربان ہونے والے (جنتی) دُنبے کے جو مبارَک سینگ تَبَرُّککے طور پر محفوظ تھے وہ بھی اُس آگ میں جل گئے ۔   جس روز یعنی 15ربیع الاوّ ل   64ھ کو کعبہ شریف کی بے حرمتی ہوئی تھی اُسی روز مُلکِ شام کے شہر ’’حِمص‘‘میں 39سال کی عمر میں یزید پلید مر گیا۔   اِس بدنصیب نے جس اِقتدارکے نشے میں بد مست ہو کرامامِ عالی مقام حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور خاندانِ رسالت کے مہکتے پھولوں کو زمین کربلا پر خاک وخون میں تڑپایا ، مکّے مدینے والوں پر ظلم و ستم کی آندھیاں چلائیں ،  اُس تخت حکومت پر اُسے صرف تین برس سات  ماہ’’شیطنت‘‘ کرنے کا موقع ملا ۔    ([1])    اِس کی موت میں کس قدر عبرت ہے !  ۔  ۔  ۔   الموت ۔  ۔   الموت ۔  ۔  ۔   الموت۔  ۔  ۔  ۔ 

نہ یزید کی وہ جفا رہی ،  نہ شِمَر کا ظلم و ستم رہا

جو رہا تو نام حُسین کا،  جسے یاد رکھتی ہے کربلا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کیاہر کوئی خواب دیکھ کر اپنا بیٹا ذَبح کر سکتا ہے؟

    یاد رہے!  کوئی شخص خواب یا غیبی آواز کی بنیاد پر اپنے یا دوسرے کے بچّے یا کسی انسان کو ذَبح نہیں کر سکتا ،  کرے گا تو سخت گنہگار اور عذاب نار کا حقدار قرارپائے گا۔    حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامجو



[1]   سوانح کربلاص۱۷۸ مُلَخّصًا



Total Pages: 15

Go To