Book Name:Beta Hoto Aisa

ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے یہ آواز سنی تو اپنا سر آسمان کی طر ف اٹھایا اور جان گئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آنے والی آزمائش کا وقت گزر چکا ہے اور بیٹے کی جگہ فدیے میں مینڈھا بھیجا گیا ہے لہٰذا خوش ہوکر فرمایا: لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ  وَ اللّٰہُ اَکْبَر، جب حضرتِ اسمٰعیل عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے یہ   سنا تو فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَر وَ لِلّٰہِ الْحَمد،  اس کے بعد سے     اِن تینوں پاک حضرات کے ان مبارَک الفاظ کی ادائیگی کی یہ سنت قیامت تک کیلئے جاری وساری ہوگئی۔    (بِنایَہ شرح ہِدایَہ ج۳ص۳۸۷)

جنّتی مینڈھے کے گوشت کا کیا ہوا؟

  حضرت ابراہیم عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضرت اسمٰعیل عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے فدیے میں جومینڈھا (یعنی دُنبہ)  ذَبح فرمایا تھا، اس     کے بارے میں اکثر مُفَسِّرین کا کہنا یہ ہے کہ وہ مینڈھا  (یعنی دُنبہ)  جنت سے آیا تھااور یہ وہی مینڈھا تھاجس کو حضرت آدم عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بیٹے حضرت ہابیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قربانی میں پیش کیا تھا۔   ([1])  اُس مینڈھے کاگوشت پکایا نہیں گیا بلکہ اُسے دَرِندوں  (یعنی پھاڑ کھانے والے جانوروں )  اور پرندوں نے کھالیا۔   (تفسیر جمل ج۶ص۳۴۹ مُلَخّصًا)

جنَّتی مینڈھے کے سینگ

      حضرتسُفْیان بن عُیَیْنہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  اس مینڈھے (یعنی دُنبے)  کے سینگ عرصۂ دراز تک کعبہ شریف میں رکھے رہے یہاں تک کہ جب کعبہ شریف میں آگ لگی تو وہ سینگ بھی جل گئے۔    (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۵ ص۵۸۹ حدیث  ۱۶۶۳۷ )

کعبہ شریف میں آگ کب اور کس طرح لگی؟

      کعبہ شریف میں آگ لگنے اور اُس میں سینگ جل جانے کے تعلُّق سے’’سوانحِ کربلا ‘‘ میں دیئے ہوئے مضمون کی روشنی میں عرض ہے:  نواسۂ رسول ،  امامِ عالی مقام حضرت امام حسین  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے تقریباً دو سال بعد یزیدِ پلید نے مُسلم بن عُقبہ کو بارہ ہزار یا بیس ہزار سپاہیوں کی فوج



[1]   تفسیرِ خازن ج۴ ص۲۴ مُلَخّصًا



Total Pages: 15

Go To