Book Name:Beta Hoto Aisa

     حضرتِ اسمٰعیل عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اپنے والد محترم سے مزید عرض کی: ابوجان! ذَبح کرنے سے پہلے مجھے رَسّیوں سے مضبوط باندھ دیجئے تاکہ میں ہل نہ سکوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے ثواب میں کمی نہ ہو جائے اورمیرے خون کے چھینٹوں سے اپنے کپڑے بچا کر رکھئے تاکہ انہیں دیکھ کر میری امی جان غمگین نہ ہوں ۔   چھری خوب تیز کرلیجئے تاکہ میرے گلے پر اچھی طرح چل جائے  (یعنی گلا فوراً کٹ جائے) کیونکہ موت بَہُت سخت ہوتی ہے،  آپ مجھے ذَبح کرنے کے لئے پیشانی کے بل لٹایئے  (یعنی چہرہ زمین کی طرف ہو)  تاکہ آپ کی نظر میرے چہرے پر نہ پڑے اور جب آپ میری امی جان کے پاس جائیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیجئے اوراگر آپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص انہیں دے دیجئے ،  اس سے ان کو تسلّی ہوگی اورصبر آجائے گا ۔   حضرتِ ابراہیم عَلَيْهِالصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے ارشاد فرمایا :  اے میرے بیٹے ! تم اللہ عَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل کرنے میں میرے کیسے عمدہ مددگار ثابت ہورہےہو! پھر جس طرح حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے کہا  تھا ان کو اُسی طرح باندھ دیا، اپنی چھری تیز کی ،  حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامکو پیشانی کے بل لِٹا دیا ،  ان کے چِہرے سے نظر ہٹالی اور ان کے گلے پرچھری چلا دی ، لیکن چھری نے اپنا کام نہ کیا یعنی گلا نہ کاٹا۔  اِس وقت حضرتِ ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامپر  وحی نازل ہوئی ،   ترجَمۂ کنز الایمان :  ’’ اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم بیشک تو نے خواب سچ کردکھا یا ،  ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو، بیشک یہ روشن جانچ تھی اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے کر اسے بچالیا۔  ‘‘  (تفسیر خازن ج ۴ ص ۲۲ملخّصاً )

جنّت کا مینڈھا

     حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے جب حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو ذَبح کرنے کے لئے زمین پر لٹایا  تو اللہتَعَالٰیکے حکم سے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام بطورِ فدیہ جنت سے ایک مینڈھا (یعنی دُنبہ)  لئے تشریف لائے اور دُور سے اُونچی آوازمیں فرمایا: اَللّٰہُ اَکْبَر  اَللّٰہ ُاَکْبَر، جب  حضرت



Total Pages: 15

Go To