Book Name:Guldasta e Durood o Salam

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ گُفْتگُو سے معلو م ہواکہ جب بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کیا جائے تو ساتھ ہی اس کے پیارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِپاک بھی پڑھنا چاہیے ، ہو سکتاہے کہ ہمارا پڑھا ہوا دُرُودِ پاک کل بروزقیامت ہماری بَخشِش و مَغْفِرت کا ذَرِیعہ بن جائے ۔ چُنانچہ

لو وہ آیا میرا حامی

حضرت ِسَیِّدُناعبدُاللّٰہ بن عُمر رَضِی اللّٰہ تَعالٰیعَنْہُماسے مروی ہے کہ اللّٰہ کے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  :  ’’قِیامت کے دن حضرتِ آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام عرش کے قریب وسیع میدان میں ٹھہرے ہوئے ہوں گے ، آپ پر دو سبز کپڑے ہوں گے ، اپنی اَولاد میں سے ہر اس شخض کو دیکھ رہے ہوں گے جو جَنَّتمیں جارہا ہوگا اور اپنی اَولاد میں سے اسے بھی دیکھ رہے ہوں گے جو دوزخ میں جارہا ہوگا ۔  اسی اَثنا میں آدم عَلَیْہِ السَّلام میرے ایک  اُمَّتِی کو دَوزَخ میں جاتا ہوا دیکھیں گے  ۔ سَیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پکاریں گے ،  :  یااحمد ! یا احمد ! میں کہوں گا  :  لَبَّیْک اے ابُوالْبَشَر! سَیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام فرمائیں گے  :  ’’آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ اُ مَّتِی دوزخ میں جارہا ہے  ۔ ‘‘یہ سن کر میں بڑی چُستی کے ساتھ تیز تیز فِرِشتوں کے پیچھے چلوں گا اور کہوں گا :  اے میرے رَبّ کے فِرِشتو! ٹھہرو ۔  وہ عرض کریں گے  :  ہم مُقرَّر کردہ فِرِشتے ہیں ، جس کام کا ہمیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، ہم وہی کرتے ہیں جس کا ہمیں حکم ملا ہے  ۔ جب میں افسردہ ہوجاؤں گااوراپنی داڑھی مُبارک کو بائیں ہاتھ سے پکڑکر عرش کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے عرض کروں گا : اے میرے پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا ہے کہ تو مجھے میری اُمَّت کے بارے میں رُسوا نہ فرمائے گا ۔  عرش سے نِدا آئے گی :  اے فِرِشتو! محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی اِطَاعت کرو اور اِسے لَوٹادو ۔ پھر میں اپنی جھولی سے سفید کاغذ نکالوں گا اور اسے میزَان کے دائیں پلڑے میں ڈال دوں گا اور میں کہوں گا  :  بِسْمِ اللّٰہ پس وہ نیکیوں والا پَلڑا بُرائیوں والے پَلڑے پر بھاری ہو جائے گا ۔  آواز آئے گی  :  خُوش بَخت ہے ، سعادت یافتہ ہوگیا ہے اور اس کا مِیزان بھاری ہوگیا ہے ۔ اِسے  جَنَّت میں لے جاؤ ۔  وہ بندہ کہے گا :  اے میرے پَروَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ  کے فِرِشتو! ٹھہرو ، میں اِس بندے سے بات تو کرلوں جو اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کے حُضُور بڑی کَرامت رکھتا ہے ۔ پھر وہ کہے گا  :  میرے ماں باپ آپ پر فِدا ہوں ، آپ کا چہرۂ اَنور کتنا حسین ہے اور آپ کی شَکْل کتنی خُوبصورت ہے ، آپ نے میری لَغْزِشوں کو مُعاف فرمایا اور میرے آنسوؤں پر رَحْم فرمایا ۔  (آپ کون ہیں ؟)میں اس سے کہوں گا کہ میں تیرا نبی محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں اور یہ تیرا وہ دُرُود ہے جوتُو مجھ پر بھیجتا تھا، اِس نے تُجھ کو پورا نَفع پہنچایا جتنا کہ تجھے اس کی ضَرورت تھی ۔  (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، فی حسن الظن باللّٰہ، ۱  / ۹۱ ، حدیث :  ۷۹)

اس حکایت کی عکاسی کرتے ہوئے میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰنفرماتے ہیں  :

ان کی آواز پہ کراُٹھوں میں بے ساختہ شور                 اور تڑپ کر یہ کہوں اب مجھے پَروا کیا ہے

لو وہ آیا مِرا حامی مِرا غم خَواراُمم!                             آگئی جاں تنِ بے جاں میں یہ آنا کیا ہے

پھر مجھے دامنِ اَقدس میں چُھپا لیں سرور                   اور فرمائیں ’’ہٹو اس پہ تقاضا کیا ہے ‘‘

چھوڑ کر مجھ کوفِرِشتے کہیں محکوم ہیں ہم                     حکم والا کی نہ تعمیل ہو زُہرہ کیا ہے

صَدقے اس رَحم کے اس سایۂ دامن پہ نثار               اپنے بندے کومُصیبت سے بچایا کیا ہے (حدائقِ بخشش، ص۱۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور روزِقیامت ہمیں سرکار عَلَیْہِ السَّلام کی شَفاعت سے بہرہ مند فرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 46

نامُکَمَّل دُرُود

رسولِ ثقلین، سلطانِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا  :  ’’لَا تُصَلُّوْا عَلَیَّ الصَّلٰوۃَ الْبَتْرَاء، یعنی مجھ پرکٹا ہوا( نامکمل ) دُرُودِپاک نہ پڑھا کرو، صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْواننے عرض کی :  ’’وَمَا الصَّلٰوۃُ الْبَتْرَاء ، یارسُولَ اللّٰہ! یہ کٹاہوا دُرُودِپاک کیا ہے ؟ سلطانِ دو جہان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تَقُوْلُوْنَ اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَتَمْسِکُوْنَ، کٹا ہوا دُرُود یہ ہے کہ تم(میری آل پر دُرُود نہ پڑھو اور صرف ) اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍتک پڑھ کر رُک جاؤ ۔  ‘‘ (پھر فرمایا : ) ’’اس کے بجائے یوں پڑھا کرو اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ ۔ ‘‘(الصواعق المحرقہ، الباب الحادی عشر، الفصل الاول فی الآیات الواردۃ فیہم، ص۱۴۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس رِوایت سے معلوم ہوا کہ جب بھی نبیِّ مُکرّم ، نُورِ مُجسّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی سَعادت نصیب ہو تو ساتھ ہی ساتھ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آلِ پاک پر بھی دُرُودِپاک پڑھ لیناچاہئے اور ویسے بھی مَحَبَّت اس بات کی مُتَقَاضِی ہے کہ محبوب سے نِسْبَت رکھنے والی ہرشے سے مَحَبَّت کی جائے ۔ خیال رہے کہ ہر مسلمان کو جان و مال ، عِزَّت و آبرو ، ماں باپ ، اَولاد حتی کہ کائنات کی ہر شے سے زِیادہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی محبوب ہونی چاہیے جس پر ہماری صَداقت و تکمیلِ ایمانی کا مدار ہے ۔ لہٰذا جب سب سے زِیادہ قابلِ مَحَبَّتاور لائقِ عقیدت سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات ٹھہری تو آپ کے اہلِ بیت اَطہار سے مَحَبَّت بھی ہمارے لئے ہمارے اپنے قرابت داروں سے بڑھ کر اَہَمِّیَّت کی حامل



Total Pages: 141

Go To