Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بدل کروا سکتا ہے ۔ لیکن ہر عبادت کا ثواب پہنچتا ضَرور ہے ۔       (جاء الحق ، ص ۲۱۳)

            صَدرُ الشَّریْعہمُفْتی محمد امجد علی اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ زِندوں کے ایصالِ ثواب سے مُردوں کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ جیسا کہ

اُمِ سعد کا کنواں

حضرت سَیِّدُنا سَعَد رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ کا جب انتقال ہوا تو انھوں نے حُضُورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں عرض کی :  یارسُولَ اللّٰہ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )! سَعَد کی ماں کا اِنتقال ہوگیا، کون سا صَدَقہ افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا :  پانی ۔  اُنھوں نے کُنواں کھودا اور کہا کہ یہ سَعَد کی ماں کے لیے ہے ۔ (یعنی سَعَد کی ماں کے اِیصالِ ثواب کے لئے ہے ) معلوم ہوا کہ زندوں کے اعمال سے مردوں کو ثواب ملتا اور فائدہ پہنچتا ہے ۔ (بہارشریعت، ۳ /  ۶۴۲)

اسی طرح مُفَسِّر شہیر مُفْتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے اپنی کتاب جَائَ الْحق میں دُرِّ مُختار کے حوالے سے ایک حدیثِ پاک نقل فرمائی جس سے اپنے نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہچانے کا ثُبوت ملتا ہے ۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے ۔

                ’’مَنْ قَرَئَ الْاِخْلاَصَ اَحَدَ عَشَر مَرَّۃً ، جو شخص گیارہ بار سورۂ اِخلاص پڑھے  ثُمَّ وَھَبَ اَجْرَھَا لِلْاَمْوَاتِ پھر اسکا ثواب مُردوں کوبَخش دے اُعْطِیَ مِنَ الْاَجْرِ بِعَدَدِ الْاَمْوَاتِ، تو اس کو تمام مُردوں کی تعداد کے برابرثواب ملے گا ۔ فتاوٰی شامی کے حوالے سے مزید فرماتے ہیں  : ’’جس سے جتنا مُمکن ہو قرآنِ پاک پڑھے سورۂ فاتحہ، سورہ ٔ بقرہ کی اِبتدائی آیات اورآیۃُ الْکُرسی اور اٰمَنَ الرَّسُوْلُ اور سُوْرۂ یٰسٓ سورہ ٔ ملک اور سُورۂ تَکاثُر اور سُوْرۂ اِخْلاص تین بار، سات بار، گیارہ یا بارہ مرتبہ پڑھے ، پھر کہے کہ یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے جوکچھ پڑھا اس کا ثواب فُلاں فُلاں کو پہنچا دے ۔ ‘‘           (جاء الحق، ص۲۱۵، ملخصاً و مفہوماً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردَہ رِوایات سے ہمارے یہاں مُرَوَّجہ فاتحہ کا پُورا طریقہ ، یعنی مختلف جگہوں سے قرآنِ پاک پڑھنا ، اس کا ثواب اَرواحِ مسلمین کو پہچانا اور ان کے لئے دُعا ئے مَغْفِرت کرناثابت ہوا ۔ مُفْتی صاحب فتاویٰ عزیزیہ کے حوالے سے مزید فرماتے ہیں  : ’’ جس کھانے پر حضرت حسنینِ کریمین رَضِی اللّٰہ تَعالٰیعَنْہُمَاکی نیاز دی جائے اس پر قُل اور فاتحہ اور دُرُودِپاک پڑھنا باعثِ بَرَکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے  ۔ ‘‘

فِرِشتے بھی ایصال ثواب کرتے ہیں

بلکہ اِیصالِ ثواب تو ایسا بہترین عمل ہے جسیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر اس کے فِرِشتے بھی کرتے ہیں  ۔ چُنانچہ

شعبُ الایمان میں حضرت سَیِّدُناانس  رَضِی اللّٰہ تَعالٰیعَنْہسے روایت ہے تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نَبُوَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عظمت نشان ہے  :  ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے ہر مومن بندے پردو فِرِشتے مُقرَّر فرماتاہے جو اس کا عمل لکھنے پر معمور ہیں ۔ جب وہ بندہ ٔ مومن اس دُنیاسے چلاجاتاہے تویہ کراماً کاتبین عرض کرتے ہیں کہ اے رَبّ (عَزَّوَجَلَّ) ہمارا کام ختم ہوگیا، وہ شخص دارِاَعمال (یعنی دُنیا ) سے نکل گیا، اجازت دے کہ ہم آسمان پر آئیں اور تیری عبادت کریں ۔ ‘‘ رَبّ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے آسما ن بھرے ہیں عبادت کرنے والوں سے ، کچھ حاجت نہیں تمہاری ۔ عرض کرتے ہیں  : اِلٰہی (عَزَّوَجَلَّ) ہمیں زمین میں جگہ دے ۔ ارشاد ہوتا ہے  :  ’’میری زمینیں بھری ہیں عبادت کرنے والوں سے تمہاری کچھ حاجت نہیں ۔ عرض کرتے ہیں  :  ’’اِلہٰی (عَزَّوَجَلَّ) پھر ہم کہاں جائیں ؟ ارشاد ہوتا ہے  :  ’’میرے بندے کی قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر تَسْبِیْح وتَحْمِیْد اور تَکْبِیْر و تَہْلِیْلکرتے رہو اور اسے قیامت تک میرے بندے کیلئے لکھتے رہو ۔ ‘‘ (شعب الایمان ، فصل فی ذکر ما فی الأوجاع و الأمراضالخ، ۷ /  ۱۸۴، حدیث : ۹۹۳۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطافرما اور اس کی بَرَکت سے فوت شدہ مُسلمانوں کی قبروں کو روشن و مُنوّر فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 45

بَرَکت سے خالی کلام

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ خُوشبودار ہے  :  ’’کُلُّ کَلَامٍ لَا ُیذْکَرُ اللّٰہُ فِیْہِ فَیُبْدَأُ بِہِ وَیُصَلِّی عَلَیَّ فِیْہِ فَہُوَ اَقْطَعُ اَکْتَعُ، مَمْحُوْقٌ مِّنْ کُلِّ بَرَکَۃٍ یعنی جس کلام کی ابتدامیں اللّٰہ تعالیٰ کا ذِکر اور مجھ پردُرُود شریف نہ پڑھا جائے وہ اَدُھورا اور نامکمل اور بَرَکت سے خالی ہوتاہے ۔ ‘ ‘

(کنزالعمال ، کتاب الاخلاق، ۲ / ۱۰۷، الجزء الثالث، حدیث : ۶۴۶۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں بھی حُصُولِ بَرَکت کے لئے اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، ہر جائزو نیک کام کے شُروع میں ( جبکہ کوئی مانِعِ شَرْعی نہ ہو )

 بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْماور دُرُود شریف پڑھتے رہنا چاہیے ۔ کیونکہ  بِسْمِ اللّٰہ شریف پڑھنے سے ہمیں یہ فائدہ حاصل ہوگا کہ ہمارا وہ کا م شیطان کے اَثر سے محفوظ رہے گا اور اس میں بَرَکت بھی ہوگی ۔  چُنانچہ

کھانے میں بے بَرَکتی کاسبب

 



Total Pages: 141

Go To