Book Name:Guldasta e Durood o Salam

سلام بھیجوں  ۔ (مشکاۃ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی النبی وفضلہا، ۱ / ۱۸۹، حدیث : ۹۲۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم پرکس قَدر مہربان ہے کہ ہم اگر اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایک بار دُرُودِپاک بھیجیں تو وہ ہم پر دس بار اپنی رَحمت نازِل فرماتا ہے ، اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کسی شخص پر ایک بار رَحمت نازِل فرمادے تو اس کی بگڑی سنور جائے جیسا کہ

ایک رَحمت کا عالَم

حضرتِ سیِّدُنااِبنِ شافِع رَضِی اللّٰہُ تعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  اگر تو نے تمام زِندگی عبادت ورِیاضت میں گزاری ہو اور اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تجھ پر صِرْف ایک بار رَحمت بھیج دی تو وہ ایک بار رَحمت تیری تمام عُمْر کی عبادات سے بڑھ جائے گی ۔ کیونکہ تو اپنی حَیْثِیَّت کے مطابق  دُرُود بھیجتا ہے اور وہ اپنی رَبُوبِیَّت کے اِعْتِبَار سے رَحمت بھیجتا ہے ۔ یہ تو ایک بار نُزُولِ رَحمت کا حال ہے تو ایک کے بدلے دس بار رَحمت بھیجنے کا کیا عالَم ہوگا؟ (مطالع المسرات (مترجم) ، ص۸۸، ملخصاً )

          اگر کسی عَقْلمند سے سُوال کیا جائے کہ تمام مخلوق کی نیکیاں تیرے نامۂ اَعمال میں لکھ دی جائیں تجھے یہ پسند ہے یا یہ کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ تجھ پر ایک بار نظرِ رَحمت فرمائے ؟ یقیناً وہ اللّٰہ تبارَک و تعالیٰ کی رَحمت کے مُقابلہ میں کسی چیز کو بھی پسند نہیں کرے گا ۔

گنہگار طلبگارِ عَفْو و رَحمت ہے                                                   عذاب سَہنے کا کس میں ہے حوصَلہ یارَبّ!

نہیں ہے نامۂ عطارؔ میں کوئی نیکی             فَقَط ہے تیری ہی رَحمت کا آسرا یارَبّ!(وسائلِ بخشش، ص۹۳، ۹۴ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی نُزُولِ رَحمت اور حصولِ ثواب کی  نِیَّت  سے سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ پاک پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتے رہنا چاہیے اورپھر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اپنے فَضْل و کَرم سے جو ثواب عطا فرمائے تو خَیر خَواہی کرتے ہوئے اس کا ثواب اپنے مرحُومین کی اَرواح کو اِیصال کرنا چاہیے کہ اس کی بَرَکت سے ہمیں تو اسکا ثواب ملے گا ہی ساتھ ہی ساتھ یہ دُرُودِپاک ہمارے مرحُوم اَعِزَّہ واَقرِبا کی بَخشِش و مَغْفِرت کا ذَرِیعہ بھی بن جائے گا ۔ چُنانچہ اسی ضِمْن میں ایک حکایت سنئے اور رَحمتِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّ پرجُھوم اُٹھئے ۔

اِیصالِ ثواب کی بَرَکت

ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدُناحسن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس ایک عورت حاضِر ہوئی اور کہنے لگی میری ایک جوان بیٹی تھی وہ فوت ہوگئی ، میں چاہتی ہوں کہ اسے خَواب میں دیکھ لوں ، میں آپ کے پاس اس لئے آئی ہوں تاکہ آپ کوئی ایسی دُعا بتادیں جس سے میں اُسے دیکھ سکوں ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُسے ایک عمل بتایا، اس عورت نے رات میں وہ عمل کیا اور سوگئی، خَواب میں اپنی بیٹی کو اس حال میں دیکھا کہ اس نے جَہنَّم کے تارکول کا لباس پہن رکھا تھا ، ہاتھوں میں زنجیریں اور پاؤں میں بیڑیاں تھیں ۔ اس نے آکر حسن بَصری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو یہ خَواب سنایا ، آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  بہت مَغْمُوم ہوئے  ۔

کچھ عرصہ بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس نوجوان لڑکی کو جَنَّت میں دیکھا ، اس کے سر پر تاج تھا، وہ آپ سے کہنے لگی :  اے حسن(رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ) ! آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟ میں اسیعورت کی بیٹی ہوں جو آپ کے پاس آئی تھی اور میری تباہ حالت آپ کو بتائی تھی ۔ آپ نے اس سے پوچھا  : تیری حالت میں یہ انقلاب کس طرح آیا ؟ لڑکی نے کہا  :  ایک دن قبرستان کے قریب سے ایک صالح شخص گزرا اور اس نے حُضُور پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی پر دُرُودِپاک پڑھ کر مُردوں کو اس کا ثواب اِیصال کر دیا، اس وَقت قبرستان میں پانچ سو مُردوں کو عذاب ہورہاتھااس کے دُرُودِپاک کی بَرَکت سے اللّٰہ تعالیٰ نے ہم سے عذاب دُور کردیا اورہم سب کو داخلِ جَنَّت فرمادیا ۔         (مکاشفۃ القلوب ، ص۶۷ ملخصاًومفہوماً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ ایک شخص نے حُضُورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِپاک پڑھ کر مُردوں کو ایصالِ ثواب کیا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے اس کی بَرَکت سے انہیں عذابِ قَبر سے نَجات عطا فرمادی ۔ اس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم اپنے نیک اَعمال کا ثواب کسی دوسرے کوپہنچا سکتے ہیں ۔ جیساکہ

ہر نیک عَمل کا ثواب ایصال کیجئے

        صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانا مُفْتی محمد امجد علی اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ایصالِ ثواب یعنی قرآنِ مجید یا دُرُود شریف یا کلمۂ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے ۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ، فَرض ونفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے کیونکہ زِندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتاہے  ۔ ‘‘ (بہارشریعت، ۳ /  ۶۴۲)

            مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الحنّان فرماتے ہیں  : ’’بدنی عبادت (یعنی نماز و روزہ) میں نِیابَت جائز نہیں یعنی کوئی شخص کسی کی طرف سے فرض نماز پڑھے تو اس کی نماز نہ ہوگی ، ہاں نماز کا ثواب بخشا جا سکتا ہے ۔ جیساکہ مشکوٰۃشریف میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  نے کسی سے فرمایا  :  ’’ مَنْ یَضْمِنُ لِیْ مِنْکُمْ اَنْ یُّّصَلِّیَ فِیْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَکْعَتَیْنِ وَیَقُوْلُ ھٰذِہٖ لِاَبِیْ ھُرَیْرَۃ ، یعنی تم میں سے کون مجھے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ مسجدِعَشَّار میں دورَکعت نماز پڑھ کر اس کا ثواب ابوہُریرہ کو اِیصال کردے ۔ اس روایت سے دوباتیں معلوم ہوئیں پہلی یہ کہ عبادتِ بدنی یعنی نماز بھی کسی کے ایصالِ ثواب کی  نِیَّت سے اَدا کرنا جائز ہے اور دوسری یہ کہ زبان سے اِیصالِ ثواب کرنا کہ خدایا اس کا ثواب فلاں کو پہنچے ، بہت بہتر ہے ۔ رہی عبادتِ مالی ، یا مالی و بدنی کا مجموعہ جیسے زکوٰۃ اور حج ، تواس میں اگر کوئی شخص کسی سے کہہ دے کہ تم میری طرف سے زکوٰۃ دے دو تو دے سکتا ہے ۔ اور اسی طرح اگر صاحبِ مال شخص میں حج کرنے کی قُوَّت نہ رہے تو دوسرے سے حجِ



Total Pages: 141

Go To