Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(1)

سِیپ کا موتی ہے تُو یا آسماں کی دھول ہے

تُو ہے قدرت کا کرِشمہ یا خُدا کی بھول ہے

            اس شِعر میں مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو بھولنے والا مانا گیا ہے جو کہ صریح کفر ہے  ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بھولنے سے پاک ہے ۔  چُنانچِہ پارہ16 سورۂ طٰہٰکی آیت نمبر52 میں ارشاد ہوتا ہے   

لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘(۵۲) (پ ۶، طٰہٰ  : ۵۲ )

ترجمۂ کنزالایمان : میرا رَبّ نہ بہکے نہ بُھولے  ۔ (2)

تُجھ کو دی صورت پری سی دل نہیں تُجھ کو دیا

مِلتا خدا تو پوچھتا یہ ظُلم تو نے کیوں کیا؟

            اِس شِعر میں دو صریح کفریات ہیں  : اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کومَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ ظالم کہا گیا ہے (۲) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض کیا گیا ہے  ۔ (3)

او میرے رَبّا رَبّارے رَبّا یہ کیا غَضَب کیا

جس کو بنانا تھا لڑکی اسے لڑکا بنا دیا

          اِس کُفریات سے بھر پور شِعر میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر اعتِراض اور اس کی توہین ہے ۔

 

مجھے دیدے ایمان پر اِستقامت

پئے سیِّدِ مُحْتَشَم یاالٰہی!   (وسائلِ بخشش، ص۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے ! قطعی کُفر پر مبنی ایک بھی شعر جس نے دِلچسپی کے ساتھ پڑھا ، سنا یا گایا وہ کُفر میں جا پڑا اور اسلام سے خارج ہو کر کافرو مُرتد ہو گیا، اس کے تمام نیک اَعمال اَکارت ہو گئے یعنی پچھلی ساری نَمازیں ، روزے ، حج وغیرہ تمام نیکیاں ضائع ہو گئیں ۔ شادی شُد ہ تھا تو نکاح بھی ٹوٹ گیا اگر کسی کامُرید تھا تو بیعت بھی خَتم ہو گئی ۔ اس پر فرض ہے کہ اس شِعر میں جو کُفر ہے اُس سے فورًا توبہ کر ے اور کَلِمہ پڑھ کر نئے سرے سے مُسلمان ہو ۔ مُرید ہونا چاہے تو اب نئے سرے سے کسی بھی جامِعِ شرائط پیر کا مُرید ہو اگر سابِقہ بیوی کو رکھنا چاہے تودوبارہ نئے مہر کے ساتھ اُس سے نِکاح کرے ۔

جس کو یہ شک ہو کہ آیامیں نے اس طرح کا شعر دلچسپی کے ساتھ گایا ، سنا، یا پڑھا ہے یا نہیں مجھے تو بس یوں ہی فِلمی گانے سننے اور گنگنانے کی عادت ہے تو ایسا شخص بھی اِحتیاطًا توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو جائے ، نیز تجدید بیعت اور تجدیدنکاح کر لے کہ اسی میں دونوں جہاں کی بھلائی ہے  ۔ (کفریہ کلمات، صفحہ۵۲۴-۵۲۵)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا ایک مُسلمان کے لئے سب سے اَہم اور عزیز تَرین مَتاع اس کا ایمان ہے اور سب سے زِیادہ اسی کی حفاظت کی ضَرورت ہے  ۔ شیطان ہمارا سب سے بڑا دُشمن ہے اور اس کا سب سے شدید حملہ اسی ایمان پر ہوتاہے  ۔ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے جذبے کے پیشِ نظر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہم الْعَالِیَہ نے اس نازُک موضوع پر قلم اُٹھایا اور محنتِ شاقہ کے بعد کثیر کتابوں کے مَواد کو پیشِ نظر رکھ کر اپنی عادتِ مُبارَکہ کے مُطابق نہایت آسان اَلفاظ و پیرایہ میں ’’کُفریہ کَلِمات کے بارے میں سُوال جَواب‘‘کے نام سے ایک بے نظیرکتاب تالیف فرمائی ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فَضْل و کَرم سے اس کتاب کو اَمیرِ اَہلسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُھُم الْعَالِیَہ نے اس قَدر جانفشانی (یعنی جان توڑ محنت)اور اِحْتِیاط کے ساتھ تَحریر فرمایا ہے کہ بِلامُبالَغہ اُردو زبان میں اِیمانیات اورکُفریات کے مَوضُوع پر اس سے زیادہ جامع ، مُفید اور اَہم کتاب آج تک دیکھنے میں نہیں آئی لہٰذا ضَرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر اسلامی بھائی بار بار اس کتاب کا بَغور مُطالَعہ کرتا رہے اور اس میں بیان کردَہ اَحکامات کی روشنی میں زبان کو نہ صرف کُفریہ بلکہ فُضُول باتوں سے بھی خود کو بچائے اور زِیادہ سے زِیادہ ذِکر و دُرُود میں رَطبُ اللسان رہنے کی کوششوں میں مصروف رہے ۔

            اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجلَّ!ہمیں اپنے دِین وایمان کی حفاظت کی فِکر کرتے رہنے اورحُضُورِ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں جھوم جھوم کرکثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما  ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 44

چہرۂ انور پر خوشی کے آثار

حضرت سَیِّدُناابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  کہ ایک دن رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تشریف لائے اور حالت یہ تھی کہ خُوشی کے آثار آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ والضحٰی سے عِیاں تھے ، فرمایا  :  جبرئیل میرے پاس حاضِر ہوکر عرض گزار ہوئے کہ آپ کا رَبّ  عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے  : اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا جو بھی اُ مَّتِی  آپ پر ایک بار دُرُودِ پاک بھیجے تو میں اس پر دس بار رَحمت بھیجوں اور اگر وہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایک بار سلام بھیجے تو میں اس پر دس بار



Total Pages: 141

Go To