Book Name:Guldasta e Durood o Salam

یعنی بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے انبیا علَیْہِمُ السَّلام کے مبارک جسموں کا کھانا زمین پر حرام کردیا ہے  ۔

(ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب فی فضل الجمعۃ ، ۲    /  ۹،  حدیث :  ۱۰۸۵)

          ظاہر ہے کہ جب جسمِ پاک سلامت ہے تو بال مُبارک بھی تو جسم شریف کا ہی حصہ ہیں ، وہ کیسے ختم ہوسکتے ہیں ؟ بلکہ مُشاہدہ تو یہی ہے کہ ایک بال مُبارک سے کئی کئی شاخیں نکلتی ہیں اور اس طرح نُورانی بالوں کا گُچھا بن جاتا ہے ، گویا ہمارے آقا صَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کا رُواں رُواں حیات ہے اور جسمِ اَطہر سے ظاہری طور پرنِسبت قَطْع ہوجانے کے باوجود بھی زِندہ رہتا ہے ، ا ور اُس کی نَشونُما بھی جاری رہتی ہے ، چُنانچہ یوں مُبارک بالوں کی نَشونُما بھی ہوتی رہی اور یہ بال مُبارک صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان سے ہوتے ہوئے اُن کی اَولاد تک پہنچے ، پھر اَولاد دَر اَولاد منتقل ہوتے ہوئے آج دُنیا کے کونے کونے میں  بیشمار اہلِ مَحَبَّتکے پاس موجود ہیں ۔

            اور رہایہ شُبہ کہ اس کا کیا ثُبوت ہے کہ یہ مُوئے مُبارک شہنشاہِ مدینہ صَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہی کے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تَبرُّکات کے سلسلے میں یہ عام قاعدہ ہے کہ جو چیز مسلمانوں میں کسی نِسبت کی وَجہ سے مُتبرَّک مشہور ہوجائے وہ مُتبرَّک ہی ہے ۔ مثلاً کوئی صاحب بطورِ ’’سَیِّد‘‘مشہور ہیں تو اُن کی تَعْظِیم کی جائے گی ۔  اُن کے حسب و نَسب کی ٹوہ میں پڑنا کوئی ضَروری نہیں ، اگر بالفرض کسی نیمَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّاپنے آپ کو جُھوٹ مُوٹ ’’سَیِّد‘‘ مشہور کر بھی دیا ہے تو یہ اگرچہ سخت گُناہ ہے مگر ہمیں چونکہ پتا نہیں ، اس لیے ہم پر اُس ’’نسبت‘‘ کی تَعْظِیم کرنا لازِم ہے ۔ اسی طرح کسی بھی تَبرُّک کے بارے میں خواہ کسی بال کے بارے میں ہی کوئی جھوٹ بولے اور نَعُوْذُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اسے سرکار مدینہصَلّٰی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّم کی طرف مَنْسُوب کرے ، تو یہ اس شخص کا اپنا بُرا فعل ہے ، مگر ہمیں چونکہ حقیقتِ حال کاعلم نہیں ہے اس لئے ہم نِسبت کی تَعْظِیم کریں گے اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ثواب بھی پائیں گے ۔

            بیان کردہ گُفْتگُو سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ اَدَب و تَعْظیمِ رسول صَلّٰی اﷲُ تَعَالیٰ عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کے باب میں بات بات پر دلیل طلب کرنا بہت بڑے خَسارے کا سبب بن سکتا ہے ۔

            حضرتسَیِّدناقاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ’’شِفا شریف‘‘ میں تَحریر فرماتے ہیں  : ’’ سلطانِ مَدینہصَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کی تَعْظِیم وتَوقِیر میں یہ بھی ہے کہ سرکار صَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کے مُبارک سامان، مُقدَّس مکانات، یاکوئی اور شے جو جسمِ پاک سے چُھو بھی گئی ہو اور جس چیز کے بارے میں یہ مشہور ہوگیا ہو کہ یہ سرکار مدینہ صَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کی ہے اُن سب کی تَعْظِیم کرنا  ۔ ‘‘(الشفاء ، الباب الثالث فی تعظیم امرہ الخ، فصل ومن اعظامہ الخ، ۲ / ۵۶)

            حضرت علّامہ مُلا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِی شرح شِفا میں اسی عبارت کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’جو بھی چیز سلطانِ مدینہصَلّٰی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلّمَ کی طرف مَنْسُوب ہو اور مشہور ہو اس کی تَعْظِیم کی جائے  ۔ ‘‘(شرح الشفاء، الباب الثالث فی تعظیم امرہ الخ، فصل ومن اعظامہالخ، ۲ / ۹۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَنْسُوب ہرمُتبرَّک چیز کا اَدَب واِحتِرام کرنے کی توفیق عطا فرما اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بکثرت دُرُود وسلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 43

گناہوں کی مُعافی کا ذَرِیْعَہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عنہُ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا  : ’’جس نے مجھ پرایک مرتبہ دُرُو دِ پاک پڑھا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس پر دس رَحمتیں نازل فرمائے گا اس کے دس گُناہ مٹا دے گا اور اس کے دس دَرَجا ت بُلند فرمائے گا  ۔ ‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبا ن، کتا ب الرقائق ، با ب الادعیہ، ۲ /  ۱۳۰، حدیث : ۹۰۱، بتغیر)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا دُرُود شریف پڑھنا نہایت ہی بہترین عمل ہے ۔ ہمیں بھی دُرُود شریف کی کثرت کرنی چاہئے ۔ بالخصوص جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نامِ نامی، اسمِ گرامی لیں یا سنیں تو اُس وَقت دُرُودِپاک  پڑھنے میں ہرگز سُستی نہیں کرنی چاہئے ۔ چُنانچہ

صَدرُ الشَّریعہ ، بدر الطَّریقہ مُفْتی محمد امجد علی اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقوی فرماتے ہیں  :  زِندگی میں ایک بار دُرُود شریف پڑھنا فرض ہے اور ہر جلسۂ ذِکر میں (ایک بار) دُرُود شریف پڑھنا واجب ، خواہ خود نامِ اَقدس لے یا دوسرے سے سُنے اور اگر ایک مجلس میں سو بار ذِکر آئے تو ہر بار دُرُودشریف پڑھنا چاہئے ، اگر نامِ اَقدس لیا یا سُنا اور دُرُود شریف اس وَقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وَقت میں اس کے بدلے کا پڑھ لے ۔ (بہارِشریعت ، ۱ /  ۵۳۳)

یاد رکھئے ! جب بھی حُضُورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مبارک نام لیں یا سنیں تو ہمیں بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذاتِ بابَرَکات پر دُرُود و سلام کے گجرے نچھاور کرتے رہنا چاہیے اور جو لوگ دُرُودِپاک پڑھنے میں سُستی کرتے ہیں یا بالکل ہی نہیں پڑھتے وہ اس حکایت سے درسِ عبرت حاصل کر یں  ۔ چُنانچِہ

شَفَاعت کی نَوید

            ایک آدمی حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود شریف نہیں پڑھتا تھا ، ایک رات خَواب میں زِیارت سے مُشرَّف ہوا ، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس کی طرف توَجُّہ نہ فرمائی،



Total Pages: 141

Go To