Book Name:Guldasta e Durood o Salam

            حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْہَادِی خَزائنُ العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  :  ’’جب (کوئی) رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ندا کرے تو اَدب و تَکریم اورتَوقِیر وتَعْظِیم کے ساتھ آپ کے معظَّم اَلقاب سے نرم آواز کے ساتھ مُتواضِعانہ ومُنْکسِرانہ لہجہ میں یَانَبِیَّ اللّٰہِ، یَارَسُوْلَ اللّٰہِ، یَاحَبِیْبَ اللّٰہِکہہ کر مُخاطب کرے  ۔ ‘‘

غَیظ میں جل جائیں بے دِینوں کے دل

یارسولَ اللّٰہ کی کثرت کیجئے (حدائقِ بخشش، ص۱۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            صاحبِ’’ تَنْبِیْہُ الاََنام‘‘حضرت عَبدُالْجَلِیْل مَغربی علَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے دُرُودِپاک کے فَضائل پر جو کِتاب لکھی ہے ۔ اُس کے مُقَدِّمہ میں فرماتے ہیں  : ’’ مَیں نے اِس کے بے شمار بَرَکات دیکھے اور بارہا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت نصیب ہوئی ۔ ایک بار خَواب میں دیکھا کہ ماہِ مَدینہ ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں ، چہرئہ اَنور کی تابانی سے پورا گھر جگمگا رہا ہے ۔ میں نے تین مرتبہ ’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘کہنے کے بعدعرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں آپ کے جوار میں ہوں اور آپ کی شَفاعت کا اُمید وار ہوں  ۔ ‘‘ نِیز میں نے دیکھا کہ میرا ہمسایہ جو کہ فوت ہوچُکا تھا مجھ سے کہہ رہا ہے  : ’’تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُن خُدَّام میں سے ہے جو ان کی مَدْح سَرائی کرنے والے ہیں ۔ ‘‘میں نے اُس سے کہا کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ اس پر اُس نے کہا :  ’’ہاں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! تیراذِکر آسمانوں میں ہو رہا تھا ۔ ‘ ‘اور میں نے دیکھا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری گفتگو سُن کر مُسکرارہے ہیں ۔ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی اور میں نہایت ہَشَّاش بَشَّاش تھا ۔ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماوردمن لطائف المرائی والحکایاتالخ، اللطیفۃ الثالثۃ والتسعون، ص۱۵۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں دُرُودِپاک کی بَرَکات سے مُسْتَفِیْض فرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

 

بیان نمبر : 42

مَصائب و آلام کا خاتمہ

            شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے  :  جسے کوئی سخت حاجت دَر پیش ہو تو اُسے چاہیے کہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھے ۔ کیونکہ یہ مَصائب و آلام کو دُور کرتاہے اور رِزق میں اضافہ  کرتا ہے ۔  (بستان الواعظین وریاض السامعین لابن جوزی ، ص ۴۰۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہم جب بھی نبیِّ رَحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات ِ بابَرَکت پردُرُودِپاک پڑھیں تو اس نِیَّت سے نہ پڑھیں کہ میری یہ مُشکل حل ہوجائے ، مجھے اس پریشانی سے نَجات مل جائے یامجھے یہ فائدہ حاصل ہو، بلکہ آدابِ دُرُود کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے گنبدِ خَضْرا کا تَصوُّر باندھ کر ، نہایت ذَوق و شوق کے ساتھ پڑھنا چاہئے ، اگر بالفرض کوئی مُشکل ہے بھی تو دُرُودِ پاک پڑھ کر رَبّ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی وزاری کے ساتھ دُعا کریں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمام مُشکلات و مَصائب دُور ہوجائیں گے ۔ کیونکہ دُرُودِ پاک ایک ایسا وَظِیفہ ہے جو آفات و بَلِیَّات دُور کرنے کے لئے کافی ہے ۔ چُنانچہ

جہاز ڈوبنے سے مَحفُوظ رہا

حضرت علامہ فاکہانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورَانِیْنے ’’اَلْفَجْرُالْمُنِیْر‘‘میں  ایک بُزُرگ شیخ موسیٰ ضریر عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر کا واقعہ بیان کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک قافلے کے ساتھ بحری جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک جہاز طُوفان کی زَد میں آگیا یہ طُوفان قَہرِ خُداوَندی بن کر جہاز کو ہلانے لگا ، ہم یقین کر بیٹھے کہ چند لمحوں بعد جہاز ڈوب جائے گا اور ہم سب لقمۂ اَجل بن جائیں گے ، کیوں کہ َملّاحوں نے بھی یہ سمجھ لیا تھا کہ اتنے تُندوتیز طُوفان سے کوئی قسمت والا جہاز ہی بچتا ہے ۔ اسی عالَم میں مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا اور چند لمحوں کے لئے مجھ پر غُنُودگی طاری ہوگئی ، اسی اَثنا میں کیا دیکھتاہوں کہ میرے خَواب میں رَحمتِ عالمیان ، مکّی مَدَنی سلطانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اور دُرُودِ تُنَجِّیْناپڑھ کرمجھ سے ارشاد فرمایا  : ’’ تم اور تمہارے ساتھی ایک ہزار بار یہ دُرُود پڑھ لو  ۔ ‘‘

شیخ صاحب رَحْمَۃُاللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : ’’جب میں بیدار ہوا تو میں نے اپنے تما م دوستوں کوجَمْع کیا اور ہم نے وضو کرکے اس دُرُودِپاک کاوِرد شروع کردیا  ۔ ‘‘ ابھی ہم نے تین سو بار ہی یہ دُرُودِپا ک پڑھا تھا کہ طُوفان کا زور کم ہونے لگا اور آہستہ آہستہ طُوفان رُک گیا ، سمندر کی سطح پُراَمن ہوگئی اور اس دُرُودِپاک کی بَرَکت سے تما م جہاز والوں کونَجات مل گئی ۔ ‘‘ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۱۵، ملخصاً ومفہوماً)

 

دُرُودِ تُنَجِّینا

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَاۃً تُنَجِّیْنَا بِہَا مِنْ

جَمِیْعِ الْاَہْوَالِ وَالْاٰفَاتِ وَتَقْضِیْ لَنَا بِہَا جَمِیْعَ

الْحَاجَاتِ وَتُطَہِّرُنَا بِہَا مِنْ جَمِیْعِ السَّیِّئَاتِ وَتَرْفَعُنَا

 



Total Pages: 141

Go To