Book Name:Guldasta e Durood o Salam

رسول حضرت سَیِّدُناعَلقَمَہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے سلطانِ دو جہاں ، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حرفِ ندا (یعنی پُکار کے صیغے ) کیساتھ دُرُود بھیجنے اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ(یعنی اے نبی آپ پر سلام ہو) کہنے کی تَعلیم اِرشاد فرمائی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح دِیگر صیغوں کے ساتھ دُرُود شریف پڑھنا جائز ہے اسی طرح اگر ہم آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یارسُولَ اللّٰہ، یاحَبِیْبَ اللّٰہ جیسے نداکے الفاظ سے مُخاطَب کرتے ہوئے دُرُود و سلام پڑھیں تو یہ بھی نہ صرف جائزہے بلکہ صَحابہ وتابعین اور بُزُگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِیْن سے ثابت بھی ہے  ۔ چنانچہ

وسیلہ پیش کرنا صحابہ کا طریقہ ہے

            ایک شخص امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سَیِّدُنا عُثمان بن عَفَّان رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کے پاس کسی حاجت کیلئے آتا رہا مگر آپ اس کی طرف اور اس کی حاجت کی طرف کوئی توجہ نہ فرماتے وہ شخص ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُناعُثمان بن حُنَیْف رَضِیَ اللّٰہُ  تَعالٰی عَنْہ سے ملا اور اُن سے اس با ت کا تَذکرہ کیا کہ امیرُالْمُؤمِنِین حضرت سَیِّدُناعُثمان بن عَفَّان رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ میری طرف توجُّہ نہیں فرماتے اس پر حضرت سَیِّدُنا عُثمان بن حُنَیْف رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ نے اس شخص سے فرمایا ، جاؤ وضو کرو اور مسجد میں جاکر دو رَکعت نماز اَداکرو پھر یوں دُعا مانگو :  ’’ الَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ وَاَتَوَجَّہُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّنا مُحَمَّدٍ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ ’’یَامُحَمَّدُ‘‘ اِنِّیْ اَتَوَجَّہُ بِکَ اِلٰی رَبِّیْ فَتُقْضٰی لِیْ حَاجَتِیْ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے سُوال کرتاہوں اور تیرے رَحمت والے نبی، محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلے سے تیری طرف مُتوجِّہ ہوتاہوں ، اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے وَسیلہ سے اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی طرف اپنی حاجت کے لئے مُتوجِّہ ہوتا ہوں اور دُعا کرتاہوں تاکہ میری وہ حاجت پوری ہو ۔  ‘‘

            اس (دُعا) کے بعد اپنی حاجت کا ذِکر کرو پھر ان کے پاس جاکر اپنی ضَرورت پیش کرو ۔ وہ شخص چلا گیا اور جس طرح حضرت سَیِّدُنا عُثمان بن حُنَیْف رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ نے کہا تھا اسی طرح کیا پھرامیرُالْمُؤمِنِین حضرت سَیِّدُنا عُثمان بن عَفَّان رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کے دروازے پر حاضِر ہوا تو دَربان نے آکر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے حضرت سَیِّدُنا عُثمانِ غَنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ کے سامنے پیش کردیا ۔  حضرت عُثمان   غَنیرَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے اسے اپنے ساتھ فرش پر بٹھایا اور فرمایا اپنی حاجت بیان کرو، اس نے اپنی حاجت بیان کردی، آپ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے نہ صرف اس کی حاجت پوری کی بلکہ اس سے یہ بھی ارشاد فرمایاکہ جب بھی کسی چیز کی ضَرورت پڑے ہمارے پاس آجانا ۔  پھر وہی شخص حضرت  سَیِّدُنا عُثمان بن حُنَیْف رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کے پاس آیا او ر کہا :  ’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْراً‘‘(یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو بہترین جزا عطافرمائے )پہلے تو حضرت عُثمان بن عَفَّان رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ میری طرف توجُّہ ہی نہیں فرماتے تھے مگر اب جب آپ نے ان سے (میرے مُتعلّق) گُفْتگُو کی تو اُنہوں نے میری حاجت پوری فرمادی ، اس پر حضرتِ عُثمان بن حُنَیْف رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہنے اس کو بتایاکہ (تمہارے بارے میں ) نہ تو میں نے ان سے کوئی بات کی اور نہ ہی اُنہوں نے مجھ سے کوئی بات کی، بلکہ میں نے تو تمہیں وہ بات بتائی ہے جو میں نے خود نبیِ کریم ، رَؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبانی سُنی تھی کہ جب ایک نابینا شخص بارگاہِ رسالت میں آیا اور اپنی بینائی کے خَتْم ہونے کی شکایت کی تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  :  صبر کر ۔ اس شخص نے عرض کی یارسُولَ اللّٰہ ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) ! میرے پاس کوئی اَسباب نہیں اور مجھے  شدید دُشورای پیش آتی ہے  ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص سے فرمایا، جاؤلوٹا لا ؤاور وضو کرو پھر مسجد میں جاکر دو رکعت نماز نفل اَدا کرو پھرحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے یہ دُعاپڑھنے کوکہا جو میں نے تمہیں بتائی ہے  ۔ ہم ابھی محوِ گُفْتگُو تھے کہ وہ نابینا شخص (جب دوبارہ )  حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی ۔  (معجم کبیر ، ما اسند عثمان بن حنیف، ۹  / ۳۱، حدیث : ۸۳۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نِدا کے صیغے کے ساتھ  سلام پڑھنا تو ایسا ہے کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی کیونکہ ہر شخص نماز کے اَندر تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُپڑھتا ہے اگر اس میں سے ایک لفظ بھی چھوٹ جائے تو نماز نہیں ہوتی ۔ کیونکہ یہ اَلفاظ تَشَہُّدکاجُزہیں اور تَشَہُّد کا ایک ایک لَفْظ پڑھنا واجب ہے  ۔ چُنانچہ

            صَدرُالشَّریْعَہ، بَدرُالطَّریقہحضرتِ علَّامہ مولانامُفْتی محمد امجد علی اَعْظَمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں  :  ’’دونوں قَعْدوں میں پورا تَشَہُّد پڑھنا، یوہیں جتنے قَعدے کرنے پڑیں سب میں پورا  تَشَہُّد واجب ہے ایک لَفْظ بھی اگر چھوڑے گا ، ترکِ واجب ہوگا ۔  ‘‘(اوراگر جان بوجھ کرواجب ترک کیا تو نماز نہیں ہوگی ۔ ) (بہارِشریعت، ۱ /  ۵۱۸)

            نِدا (یعنی پُکار ) کے صیغوں کے ساتھ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پُکارنا اور دُرُود و سلام پڑھنا صَحابۂ کرام اوربُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْن کا معمول رہا ہے ۔ چُنانچہ

صحابی نے پُکارا ’’یارسولَ اللّٰہ‘‘

            حضرت سَیِّدُناابودرداء  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے ، آپ فرمایا کرتے  : ـ ’’ جب میں مسجد میں داخل ہوتاہوں تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ ضرور کہتاہوں  ۔ ‘‘ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۳۶۵)

            اسی طرح محمد بن سیرین رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے زمانے کے لوگوں کا معمول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’ جب لوگ مسجد میں داخل ہوا کرتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہا کرتے تھے  ۔ ‘‘ (القول البدیع، ایضاً)

            حضرت حاجی امدادُ اللّٰہ مُہاجرمَکِّی عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں  :   ’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِکے جواز میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ‘‘(رحمتو ں کی برسات، ص۳۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            یاد رہے !جب بھی شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ مُعطَّرپسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پردُرُود وسلام پڑھنے کی سَعادت نصیب ہو تو آپ عَلَیْہِ السَّلامکو اس طرح سے نہ پُکارا جائے جیسے ہم آپس میں ایک دوسرے کانام لیکر پُکارتے ہیں بلکہ آپ اچھے اَلقابات کے ساتھ یادکرناچاہئے کہ اس میں اَدب کا پہلو زِیادہ پایاجاتا ہے چُنانچہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں رسُول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مُخاطب کرنے کے آداب سکھاتے ہوئے پارہ 18 سورۃُ النُّورکی آیت نمبر 63میں ارشاد فرماتاہے  :

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ     (پ۱۸، النور  : ۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان : رسول کے پُکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک ، دوسرے کو پُکارتا ہے  ۔

 



Total Pages: 141

Go To