Book Name:Guldasta e Durood o Salam

ہوجائیے اور اس کے ہفتہ وار سُنَّتوں بھرے اِجْتِماع میں شرکت کیجئے اور اجتماع کے اِختتام پر پڑھے جانے والے صلوٰۃ و سلام کی بَرَکتیں لوٹئے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِس کے ذَرِیعے بھی لوگوں کی اِصلاح ہوجاتی ہے ۔ آپ کی ترغیب کیلئے ایک اِیمان اَفروز مَدَنی بہار پیش کی جاتی ہے ۔ چُنانچہ

توبہ کا راز

            مَرکزُ الاَوْلیاء (لاہور) کے مُقیم اِسلامی بھائی کے مَکتوب کا خُلاصہ ہے  :  مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے سے قَبْل ہمارے گھر کے تمام اَفراد دُنیا کی مَحَبَّت، فیشن پرستی کی نُحُوست اور نمازوں میں سُسْتی کا شکار تھے ۔ والِدَین کو ہَمَہ وَقْت ہماری دُنیا و مُسْْتَقْبِل کی فِکْر دَامن گِیر تھی کہ بس کسی طرح ہماری اَولاد کا مُسْْتَقْبِل روشن ہوجائے  ۔ اَلْغَرَض ہمارے گھر کا ماحول گُناہوں سے بھرپور تھا ۔  ہر وَقت گھر میں فِلموں ڈِراموں ، گانے باجوں کا شوربرپا رہتا، سُنَّتوں بھرا ماحول نہ ہونے کی وَجہ سے میں اپنی آخِرت سے یکسر غافل تھا ۔ میری قِسمت کا سِتَارہ اِس طرح چَمکا کہ ایک مرتبہ میں مغرب کی نماز پڑھنے مسجِد میں چلاگیا ۔ نماز کے بعد ایک باعِمَامہ عاشقِ رسول نے کھڑے ہو کر نمازیوں کو قریب ہونے کے لیے کہا ۔ اِس اِسلامی بھائی کا اَنداز اِتنا دِلْنَشِیْن تھا کہ میں بے اِخْتِیَار اِس کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔ انہوں نے مختصر سا بیان کیا جومجھے بَہُت اَچھا لگا ۔  بیان کے بعد اِس اِسلامی بھائی نے نِہایت مُشْفِقَانہ اَنداز میں مجھ سے مُلاقات کی اور کچھ دیر بیٹھنے کے لیے کہا ، میں بیٹھ گیا  ۔ انہوں نے مجھے نیکی کی دَعوت پیش کی اور دعوتِ اِسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحول کے بارے میں بتایاپھر آخر میں ہفتہ وار سنَّتوں بھرے اِجْتِماع کی پُر خُلُوص دعوت پیش کی ۔ میں نے حامی بھرلی اور میں پہلی مرتبہ ہفتہ وار سنَّتوں بھرے اِجْتِماع میں شریک ہوا ۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد میری زِندگی میں مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہوجائے گا ۔  بیان کے بعد رِقَّت اَنگیز ذِکْر و دُعاکا سلسلہ ہوا اور پھر صلوٰۃ و سلام کے لیے سارے اِسلامی بھائی کھڑے ہوگئے ۔ صلوٰۃ و سلام کی پُرسوز آواز کانوں کے راستے سے دل کی پَہْنائیوں میں اُتر گئی ۔  صلوٰۃ و سلام پڑھنے کا اَنداز اس قَدراچھا لگا کہ میں اب ہر جُمعرات اِجْتِماع میں شریک ہونے لگا اور میرے کان صلوٰۃ و سلام کی پُرسوز صَدائیں سننے کیمُنْتَظِر رہتے ۔ کچھ ہی عرصے میں مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر حلقہ سَطْح پر مَدَنی اِنعامات و تعویذات عطَّارِیَّہ کی خِدمت سر اَنجام دے رہا ہوں ۔

گنہگارو! آؤ سِیَہ کارو! آؤ                               گُناہوں کو دے گا چُھڑا مَدَنی ماحول

پلا کر مئے عِشْق دے گا بنا یہ                      تُمہیں عاشقِ مُصْطفٰی مَدَنی ماحول(وسائلِ بخشش، ص۶۰۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستقامت عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 41

دُخُولِ مَسجد کے وَقت مجھ پر سلام بھیجو

            حضرت سَیِّدُنا ابُوہریرہ  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے  :  شہنشاہِ خُوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ بے مثال ہے  :  جب تم مسجد میں داخل ہواکروتو میری ذات پر سلام بھیجا کرو اوریوں کہہ لیا کرو ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میرے لئے اپنی رَحمت کے دروازے کھول دے  ۔ ‘‘اور جب مسجد سے باہر نکلو تو اس وقت بھی مجھ پر سلام پیش کر لیاکرو اور یوں کہاکرو ’’اَللّٰہُمَّ اَعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیْمِ‘‘ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!مجھے شیطان مَردودکے شَرسے بچا ۔ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۳۶۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی مسجد میں حاضِری کی سَعادت نصیب ہو تو داخل ہوتے وَقت اور مسجد سے باہر نکلتے وَقت سرکارِ دو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ محترم پر دُرُودو سلام پڑھ لیا کریں ، اگر ہم تھوڑی سی توجُّہ کریں اور زبان کو تھوڑی دیر حرکت دیں تو ثواب کے ڈھیروں  خَزانے کے ساتھ ساتھ اس کاایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ نبی اکرم، نُورِ مجَسَّم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارا دُرود پاک بنفسِ نفیس سَماعت فرمائیں گے کیونکہ مساجد میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم موجود ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ

سرکار مَساجد میں موجود ہوتے ہیں

            مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اپنی مشہورِزمانہ تصنیف جَائَ الْحق میں مِرْقَاۃ شَرْحِ مِشْکٰوۃ کے حوالے سے حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِی کاقول نقل فرماتے ہیں  :  ’’سَلِّمْ عَلَیْہِ اِذَادَخَلْتَ فِی الْمَسَاجِدِ ، یعنی جب تم مسجدوں میں داخل ہوا کرو تو اس وَقت سرورِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اَقدس میں سلام عرض کر لیا کرو ’’ فَاِنَّہُ یَحْضُرُ فِی الْمَساجِد‘‘کیونکہ مسجدوں میں آپ عَلَیْہِ السَّلام  موجود ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (جاء الحق ، ص۱۲۶ )

            حضرت سَیِّدُنا عَلقَمَہ بن قَیسرَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں  : ’’جب تم مسجد میں داخل ہوا کرو تو یوں کہہ لیا کرو’’ صَلَّی اللّٰہُ وَمَلَائِکَتُہ عَلٰی مُحَمَّدٍ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۳۶۵)

            اسی طرح حضرت سَیِّدُنا کَعْبُ الاَحْبار رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ کا بھی یہی معمول تھا کہ آپ جب مسجد میں داخل ہوتے اور مسجد سے باہرتشریف لاتے تو ان اَلفاظ کے ساتھ سلام عرض کرتے  : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ‘‘ ۔   (الشفا، الباب الرابع فی حکم الصلاۃ علیہ الخ ، فصل فی المواطن التی یستحب فیہا الصلاۃ والسلام علی النبی ، الجزء الثانی، ص۶۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فی زمانہ بعض لوگ ندا وپکارکے صیغوں (مثلاً یَارَسُوْلَ اللّٰہ ، یاحَبِیْبَ اللّٰہ)کے ساتھ دُرُود وسلام پڑھنے سے مَنْع کرتے ہیں حالانکہ بیان کردہ رِوایت میں صحابیٔ



Total Pages: 141

Go To