Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کئے ۔ چُنانچہ فرماتے ہیں  :

فِیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ اُرْسِلُھَا

تُقَبِّلُ اْلاَرْضَ عَنِّیْ فَھِیَ نَائِبَتِیْ

            ترجمہ :  دُوری کی حالت میں اپنی رُوح کو اپنا نائب بنا کربھیجا کرتا تھا تاکہ وہ میری طرف سے اس اَرضِ مُقَّدس کو بوسہ دے  ۔

وَھٰذِہٖ نَوْبَۃُ اْلاَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ

فَامْدُدْ یَدَیْکَ لِکَیْ تَحْظٰی بِھَا شَفَتَی

            ترجمہ  : اور اب جسم کی باری ہے جو کہ حاضِردَربار ہے  ۔ پس یارسُول اپنا دَست مُبارک بڑھائیے تاکہ میرے ہونٹوں کوسَعادت مند ی نصیب ہو ۔

            کہا جاتاہے کہ رَوضہ اَنور سے دَستِ مُبارک ظاہر ہوا اور شیخ احمدرَفاعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی نے اسے چُوم لیا ۔ (نسیم الریاض، القسم الثانی ، الباب الثال فی تعظیم امرہ، فصل ومن اعظامہ الخ، ۴ / ۵۴۳)

تیرے روضے کی جالیوں کے پاس                        ساتھ رَحم و کرم کی لیکر آس

کتنے دُکھیارے روز آ آ کے                                   شاہِ ذیشاں سلام کہتے ہیں )ذوقِ نعت، ۵۸۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حاضریٔ بارگاہ کے آداب

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ! کس قَدرخُوش بَخت ہیں وہ لوگ جنہیں مَدینہ منوَّرہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْماً میں رَوضہ رسول کے رُوبرو سلام پیش کرنے کی سَعادت نصیب ہوتی ہے ۔ اللّٰہتبارک وتعالٰیہماری زِندگی میں بھی وہ مُبارک لمحات لائے اور ہم بھی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَربار ِگوہر بار میں حاضِر ہوکر بَصد اِحتِرام سلام عرض کریں ۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیْہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقویروضہ ٔرسول پر حاضِری کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’ حاضریٔ مسجدِ (نَبَوی علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام) سے پہلے تمام ضَروریات سے جن کا لگاؤ دل بٹنے کا باعث ہو، نہایت جلد فارِغ ہو ان کے سِوا کسی بیکار بات میں مشغول نہ ہو معاً وضو و مسواک کرو اورغُسل بہتر، سفید پاکیزہ کپڑے پہنو اور نئے بہتر، سُر مہ اورخُوشبو لگاؤ اور مُشک اَفضل ۔ اب فوراً آستانۂ اَقدس کی طرف نہایت خُشوع و خُضو ع سے متوجِّہ ہو، رونا نہ آئے تو رونے کا مُنہ بناؤ اور دل کو بزور رونے پر لاؤ اور اپنی سنگ دلی سے رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف اِلتجا کرو ۔ اب دَرِ مسجد پر حاضر ہو، صلوٰۃ و سلام عرض کرکے تھوڑا ٹھہرو جیسے سرکار سے حاضِری کی اجازت مانگتے ہو، بِسْمِ اﷲ کہہ کر سیدھا پاؤں پہلے رکھ کر ہمہ تن اَدب ہو کر داخل ہو ۔  اس وَقت جو اَدب وتَعْظِیم فرض ہے ہر مسلمان کا دل جانتا ہے آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں (اور) دل سب، خیالِ غیر سے پاک کرو، مسجدِ اَقدس کے نَقْش و نگار نہ دیکھو ۔  اگر کوئی ایسا سامنے آئے جس سے سلام کلام ضَرور ہو تو جہاں تک بنے کترا جاؤ، وَرنہ ضرورت سے زیادہ نہ بڑھوپھر بھی دل سرکار ہی کی طرف ہو ۔ ‘‘ (بہارِ شریعت، ۱ / ۱۲۲۳)

مزید فرماتے ہیں  : ’’ (کہ جب رَوضۂ اَنور کے قریب پہنچے تو) اب اَدب و شوق میں ڈوبے ہوئے گردن جھُکائے ، آنکھیں نیچی کئے ، آنسو بہاتے ، لرزتے کانپتے ، گناہوں کی نَدامت سے پسینہ پسینہ ہوتے ، سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فَضل و کَرَم کی اُمید رکھتے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَدَمینِ شَرِیفَین کی طرف سے سنہر ی جالیوں کے رُوبَرُو مواجَھہ شریف میں حاضِرہوں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے مزارِ پُر اَنوار میں رُو بَقبلہ جلوہ اَفروز ہیں ، مُبارَک قدموں کی طرف سے آپ حاضِر ہوں گے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نِگاہِ بے کس پناہ براہِ راست آپ کی طرف ہوگی اور یہ بات بے حد ذَوق اَفزا ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے لئے سَعادتِ دارَین کا سبب بھی ہے ۔ ‘‘  (بہارِ شریعت، ۱ / ۱۲۲۴، ملخصاً)

قبلہ کو پیٹھ کئے کم اَز کم چار ہاتھ (یعنی دو گز)دُور نَماز کی طرح ہاتھ باندھ کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ اَنور کی طرف رُخ کر کے کھڑے  ہوں کہ ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘وغیرہ میں یہی ادب لکھا ہے کہ یَقِفُ کَمَا یَقِفُ فِی الصَّلٰوۃ ، یعنی سر کارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَربار میں اِس طرح کھڑا ہو جس طرح نَماز میں کھڑا ہوتا ہے ۔ یاد رکھیں ! سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے مزارِ پُر اَنوار میں عین حیاتِ ظاہری کی طرح زِندہ ہیں اور آپ کو بھی دیکھ رہے ہیں بلکہ آپ کے دِل میں جو خَیالات آرہے ہیں اُن پر بھی مُطَّلع ہیں ۔ خبردار! جالی مُبارَک کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچیں کہ یہ خِلافِ اَدَب ہے کہ ہمارے ہاتھ اِس قابِل ہی نہیں کہ جالی مُبارَک کو چھو سکیں ، لہٰذا چار ہاتھ (یعنی دو گز) دُور ہی رہیں ، یہ کیا کم شَرَف ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو اپنے مواجَھَہ اَقدس کے قریب بُلایا اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نِگاہِ کَرَم اب خُصُوصِیَّت کے ساتھ آپ کی طرف ہے ۔ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۱۲۲۴-۱۲۲۵، ملخصاً)

اب اَدب اور شوق کے ساتھ دَرد بھری آواز میں مگر آواز اتنی بُلند اور سخت نہ ہو کہ سارے اَعمال ہی ضائع ہوجائیں ، نہ بالکل ہی پَست کہ یہ بھی سُنَّتکے خِلاف ہے  ۔ بلکہ مُعتَدِل آوازمیں اِن الفاظ کے ساتھ سلام عرض کریں  :

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَیْرَ خَلْقِ اللّٰہِ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْنَ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ وَاُمَّتِکَ اَجْمَعِیْنَ ، (یعنی) اے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ پر سلام اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت اوربَرَکتیں ۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ پر سلام ۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی تمام مخلوق سے بہتر، آپ پر سلام ۔  اے گُناہ گاروں کی شَفاعت کرنے والے آپ پر سلام، آپ پر، آپ کی آل و اَصحاب پر اور آپ کی تمام اُمَّت پر سلام ۔

محفوظ سدا رکھنا شہا! بے اَدَبوں سے

اور مجھ سے بھی سرزَد نہ کبھی بے اَدَبی ہو   (وسائل بخشش، ص۱۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

امام قسطلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیْ نقل فرماتے ہیں  : ’’جوکوئی حُضورِاکرم ، نورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبرِمُعَظَّم کے رُوبَرُو کھڑا ہوکر یہ آیتِ شریفہ پڑھے  :  اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰئِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ (پ ۲۲،



Total Pages: 141

Go To