Book Name:Guldasta e Durood o Salam

            یاد رکھئے ! جس نے سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خَواب میں دیکھا اُس نے آپ ہی کی زِیارت کی ، کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صورتِ مُبارکہ میں شیطان نہیں آسکتا ۔ جیساکہ

            سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مشکبار ہے  :  ’’ مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِی فَاِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَتَمَثَّلُ فِیْ صُوْرَتِیْ یعنی جس نے مجھے خَواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صُورت اِختیار نہیں کرسکتا ۔ ‘‘ (بخاری ، کتاب الادب ، من سمی باسماء الانبیاء، ۴ / ۱۵۴، حدیث : ۶۱۹۷)

            ایک اور مَقام پر ارشاد فرمایا  :  ’’مَنْ رَاٰنِیْ فِی الْمَنَامِ فَسَیَرَانِی فِی الْیَقَظَۃِ، یعنی جس نے مجھے خَواب میں دیکھا تووہ عنقریب مجھے بیداری میں بھی دیکھے گا  ۔ ‘‘(بخاری ، کتاب التعبیر ، باب من رأی النَّبی فی المنام ، ۴ / ۴۰۶، حدیث : ۶۹۹۳)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیدار کی کئی صُورتیں ہوتی ہیں ، ہر ایک زائر (یعنی زِیارت کرنے والا )اپنی اپنی ایمانی حیثیت کے مُطابق زِیارت کرتا ہے ، حضرت سیدی شیخ محمد اسمٰعیل حقّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی تفسیرِ روح ُالبیان میں سُورَۃُ النَّجمکی تفسیر کے تَحت فرماتے ہیں  :  ’’جس شخص نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خَواب میں زِیارت کی اور کوئی ناپسندیدہ بات نہیں تھی ( یعنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ناراض نہیں تھے ) تو وہ ہمیشہ عُمدہ حال میں رہے گا ۔  اگر ویران جگہ میں دیدار کیا تو وہ ویرانہ سبزہ زار میں بدل جائے گا ، اگر مظلوم قوم کی سرزمین میں دیکھا تو اُن مظلوموں کی مَدد کی جائے گی ۔ اگر مَغموم ( غمزَدہ ) نے زِیارت کی تو اس کا غم جاتا رہے گا اگر مَقروض تھا تواللّٰہ تَبارَکَ وَتَعالٰیاس کے قرض کو ادا فرمائے گا، اگر مَغلوب تھا تو اس کی مَددکی جائے گی، اگر غائب تھا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّصحیح وسلامت اُسے گھرلوٹا دے گا ۔ اگر تنگدَست تھا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے رِزق میں کُشادَگی عطا فرمائے گا، اگر مریض تھا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے شفا عطا فرمائے گا  ۔ (روح البیان، پ۲۷، النجم، تحت الآیۃ : ۱۸، ۹ / ۲۳۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں کثرت کے ساتھ دُرودِپاک پڑھنے کی توفیق عطافرما اور اس کی بَرَکت سے ہمیں سرکارِنامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدارِ پُربہار سے مُسْتَفِیْض فرما ۔

تو ہی بندوں پہ کرتا ہے لُطف و عَطا، ہے تجھی پہ بھروسہ تجھی سے دُعا

مجھے جلوئہ پاکِ رسول دکھا، تجھے اپنے ہی عِزّ و عُلا کی قسم(حدائقِ بخشش، ص۸۱)

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 39

اَہلِ مَحَبَّت کا دُرُود میں خود سُنتا ہوں

            سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے  :  ’’اَسْمَعُ صَلٰوۃَ اَھْلِ مَحَبَّتِیْ وَاَعْرِفُھُمْ ، یعنی اہلِ مَحَبَّت کادُرُود میں خُود سنتا ہو ں اور انہیں پہچانتا ہوں ، وَتُعْرَضُ عَلَیَّ صَلٰوۃُ غَیْرِھِمْ عَرْضًا ، جبکہ دوسروں کا دُرُود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے  ۔ ‘‘ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات، ص ۱۵۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ آقائے دوجہان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابَرَکات پر بے حد دُرُود اور لاکھوں سلام پڑھا کریں یقینا صِدق و اِخلاص کے ساتھ پڑھا ہوادُرُود شریف حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ صرف سَماعت فرماتے ہیں بلکہ اپنے ان سچے عاشِقوں کوجوابِ سلام بھی عطا فرماتے ہیں ۔ جیساکہ

رَوضۂ اَقدس سے جوابِ سلام

حضرتِ شیخ ابونَصر عبدُالواحد صُوفی کَرخیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’میں حج سے فارِغ ہوکر مَدینہ منوَّرہ رَوضہ اَنور پر حاضِر ہوا، حُجرہ شریفہ کے  پاس بیٹھا ہواتھا کہ اتنے میں حضرتِ شیخ ابوبکردیار بِکری وہاں حاضِر ہوئے اور (حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ) مواجہہ شریف کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا  :  ’’اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ اللّٰہ‘‘تو میں نے اور تمام حاضِرین نے سُنا کہ رَوضہ شریفہ کے اَندر سے آواز آئی  : وَعَلَیْکَ السَّلامُ یَا اَبَابَکْرٍ، اے ابو بکر تجھ پر سلامتی ہو ۔  (الحاوی للفتاوی، کتاب البعث، تنویر الحلک فی امکان رؤیۃ النبی والملک ، ۲ / ۳۱۴)

وہ سلامت رہا قِیامت میں

پڑھ لئے دل سے جس نے چار سلام

اس جوابِ سلام کے صدقے

تاقیامت ہوں بے شمار سلام  (ذوقِ نعت، ص۱۱۹)

بلکہبَعض خُوش نصیبوں پر تو اس قَدر کرمِ خاص فرماتے ہیں کہ انہیں عَین بیداری کے عالَم میں دَست بوسی کا شَرَف عطافرماتے ہیں ۔ چُنانچہ علَّامہ شہابُ الدِّین خفاجی مصریعَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِیاپنی کتاب نسیم ُالرِیاض فی شَرح شفائِ القاضی عیاض میں فرماتے ہیں  :  ’’حضرت شیخ احمدرَفاعی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کا معمول تھا کہ آپ  رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ہر سال حاجیوں کے ذَرِیعے بارگاہِ رسالت ماٰب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اپنا سلام بھجوایا کرتے تھے ۔ لیکن جب بذاتِ خُود انہیں مَدینہ طیبہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْماً  کی حاضِری کا شَرَف نصیب ہوا ۔ تورَوضہ اَنور کے سامنے کھڑے ہوکرچند اَشعار پیش



Total Pages: 141

Go To