Book Name:Guldasta e Durood o Salam

عَین حالتِ بیداری میں شربتِ دِیدار سے نوازتے ہیں ۔ چُنانچہ

اَعلٰی حَضْرت کا شوق دیدار

          میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت، مجدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن جب دوسری مرتبہ زِیارتِ نبوِی کے لئے مَدینہ طیبہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْماً حاضِر ہوئے ، شوقِ دیدار میں رَوضہ شریف کے مُوَاجَہہ میں دُرُود شریف پڑھتے رہے ، یقین کیاکہ ضرورسرکارِ ابد قرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عزَّت اَفزائی فرمائیں گے ، اور باِلمُوَاجَہ(رُوبرو) زِیارت سے مُشرَّف فرمائیں گے ۔ لیکن پہلی شب ایسا نہ ہوا تو کچھ کبیدہ خاطِر (غمزَدہ) ہو کرایک غزل لکھی جس کا مَطْلَع یہ ہے  ۔

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں (حدائق بخشش، ص۹۹)

اس غزل کے مَقْطَع میں اسی کی طرف اشارہ کیا ، فرماتے ہیں  :

کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا!

                     تجھ سے شیدا ہزار پھرتے ہیں (حدائق بخشش، ص۱۰۰)

            یہ غزل مُوَاجَہہ میں عرض کر کے اِنتظار میں مؤدَّب بیٹھے ہوئے تھے کہ آخر کار راحتُ الْعاشِقین مُراد الْمُشْتاقینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے عاشقِ حقیقی کے حال زار پر خاص کرم فرمایا، اِنتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور قسمت انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھی…نِقابِ رُخ اُٹھ گیا ۔ خُوش نصیب عاشق نے عَین بیداری میں اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چشمانِ سر سے دیدار کرلیا ۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۱ /  ۹۲)

اب کہاں جائے گا نقشہ تیرا میرے دل سے

                        تہہ میں رکھا ہے اِسے دل نے گمانے نہ دیا(سامانِ بخشش، ص۶۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کے لیے جتنے بھی دُرُودِپاک کے صیغے ہیں جس پر چاہیں عمل کریں ، لیکن اِس  نِیَّت  سے پڑھنا کہ میں دُرُودِپاک پڑھوں گا تو سرکار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے خَواب میں تشریف لائیں گے ، مناسب نہیں ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ عملِ خاص کوحُضُور اَقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تَعْظیم اورحُصُولِ ثواب کی  نِیَّت  سے کیا جائے آگے اُن کے کرم کی کوئی اِنتہا نہیں اگر وہ چاہیں گے تو شربت دِیدار سے ضَرورمُسْتَفِیْض فرمائیں گے ۔

            اگربالفرض زِیارت میں تاخیر ہوبھی جائے یا پھر کسی کو زِیارت ہوتی ہی نہیں تو اس میں بھی دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ، بلکہ اسی شوق ولگن کے ساتھ حُضُور   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ عالی میں دُرُود وسلام کے گجرے نِچھاور کرتے رہنا چاہیے ، تاخیر میں بھی ضَرورکوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ تاخیر کی وجہ سے دل برداشتہ ہونے والے اسلامی بھائی اس واقعہ سے درس حاصل کریں ۔

            حضرتِ سیِّدُنامالک بن دینا ر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں  :  میں متواتر چودہ (14) سال تک حج کی سَعادتِ عظمیٰ سے سرفراز ہوتارہااور ہر سال ایک دَرویش کو کعبۂ معظمہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفاًوَّتَعْظِیْماً کا دروازہ پکڑے دیکھا ۔  جب وہ ’’لَبَّیْک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک‘‘ کہتا تو غیب سے آواز سنائی دیتی لَالَبَّیْکَ ۔ میں نے چودھویں (14)سال اس شخص سے پوچھا  :  اے دَرویش ! تو بہرا تو نہیں ؟ اُس نے جواب دیا  :  میں سب کچھ سُن رہا ہوں ۔ میں نے کہا  : پھر یہ تکلیف کیوں اُٹھاتا ہے ؟ اس نے کہا  :  یاشیخ ! میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ اگر بجائے چودہ سال کے چودہ ہزار سال میری عُمر ہو اور بجائے سال بھر کے ، ہر روز ہزار بار یہ جواب ’’لَالَبَّیْکَ‘‘ سُنائی دے تو پھر بھی اِس دروازے سے سر نہ اُٹھاؤں گا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ابھی ہم مصروفِ گُفتگُو تھے کہ اچانک آسمان سے ایک کاغذ اُس کے سینے پر گرا ۔ اُس نے وہ کاغذ میری طرف بڑھایا ، میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا  :  ’’اے مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ! تو میرے بندے کو مجھ سے جُدا کرتا ہے کہ میں نے اِس کے چودہ سال کے حج قَبول نہیں کیے ، ایسا نہیں بلکہ اِس مُدَّت میں آنے والے تمام حاجیوں کے حج بھی اِس کی پکار ہی کی بَرَکت سے قَبول کیے ہیں تاکہ کوئی میری بارگاہ سے محروم نہ جائے  ۔ ‘‘

(عاشقان رسول کی ۱۳۰حکایات مع مکے مدینے کی زیارتیں ، ص ۹۶)

جلوئہ یار ادھربھی کوئی پھیرا تیرا

حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا(ذوقِ نعت، ص۱۵)

الہٰی منتظر ہوں وہ خرامِ ناز فرمائیں

بچھا رکھا ہے فرش آنکھوں نے کمخواب ِ بصارت کا(حدائقِ بخشش، ص۳۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی کے ذِہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ہمیں پتا کس طرح چلے گا کہ ہم نے خَواب میں سرکارِ دو عالم، نُورِمجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کی زِیارت کی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ خَواب میں پتا چلنے کی تین صورتیں ہیں ۔ (۱) جس شخصیت کی خَواب میں آپ زِیارت کررہے ہیں ان کے بارے میں دل ہی میں اِلقا ہوتا ہے کہ یہ سرکار مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ۔ (۲) کوئی دوسرا تَعارُف کروادیتاہے کہ یہ مَدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں ۔ (۳) خود سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفسِ نفیس اپناتَعارُف کرادیتے ہیں ۔

 

 



Total Pages: 141

Go To