Book Name:Guldasta e Durood o Salam

آگ ہے ، ذِی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مَذہب(بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مَشہور ہے ، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ، خارِجی مَذہب کی عورت (سے شادی کرکے اس) کی صُحبت میں (رہ کر) مَعاذَاللّٰہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے ) اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے  ۔ (یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت ’’پکّاسُنّی‘‘ تصوُّر کرتے اور کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مَسلَک سے کوئی ہِلا نہیں سکتا ، ہم بَہُت ہی مَضْبوط ہیں ! ) میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں  :  جب صُحبت کی یہ حالت(کہ اتنا بڑا محدِّث گمراہ ہو گیا ) تو (بدمَذہب کو) اُستاد بنانا کس دَرَجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عَظیم اورنہایت جلد ہوتا ہے ، تو غیر مَذہب عورت (یا مرد) کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ( خودہی) دِین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا ۔         (فتاوٰی رضویہ، ۲۳ /  ۶۹۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں بری صُحبت سے محفوظ رکھ اور مَدنی ماحول میں اِسقامت عطافرما اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر زِیادہ سے زِیاہ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 38

زیارتِ سرکار کا وظیفہ

            حضرت سَیِّدُناابن عباس رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہنبیِّ رَحمت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے  :  ’’جو مومن جُمُعہ کی رات دو رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سُورَۃُ الْفَاتِحَہ کے بعد 25 مرتبہ ’’قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ‘‘ پڑھے ، پھر یہ دُرُود ِپاک ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الاُمِّیْ‘‘ہزار مرتبہ پڑھے تو آنے والے جمعہ سے پہلے خَواب میں میری زِیارت کرے گا اور جس نے میری زِیارت کی اَللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کے گُناہ مُعاف فرمادے گا ۔ ‘‘(القول البدیع ، الباب الثالث فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۳۸۳ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مندرجہ بالا دُرُود شریف کے فَضائل میں شیخ عبدالحق محدِّث دِہلوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل کرتے ہیں  : ’’جو شخص جُمُعہ کے دن ایک ہزار بار یہ دُرُود شریف پڑھے گا تو وہ سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خَواب میں زِیارت کرے گا ، یا جنَّت میں اپنی منزل دیکھ لے گا ، اگر پہلی بار میں مَقصد پورا نہ ہو، تو دوسرے جُمُعہ بھی اِس کو پڑھ لے ، اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ پانچ جُمعوں تک اس کو سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت ہوجائے گی ۔ ‘‘ (تاریخِ مدینہ، ص۳۴۳)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضورِ پاک، صاحبِ لَولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مِعراج ، دیدارِ کبریاہے اور ایک عاشقِ رسول کی مِعراج دیدارِ مصطفٰے ہے ۔ کون ایسا بدنصیب ہوگا جس کے دل میں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دیدار کی تمنَّا نہ ہو، یقیناً ہر عاشقِ رسول کی یہی آرزو ہوگی کہ مجھے دیدارِ مصطفٰے نصیب ہوجائے ۔

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

اُنہیں نہ دیکھا تو کِس کام کی ہیں یہ آنکھیں

کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار، آنکھوں میں (سامانِ بخشش، ص۱۳۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            حضرت سَیِّدُناشیخ ابُوالمَواہب شاذْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوی فرماتے ہیں  :  ’’جو شخص نبیِّ مکرم ، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زِیارت کرنا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ حُضُور سیدعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کثرت سے ذِکر کرتا رہے اور سادات و اولیاء سے مَحَبَّت رکھے وگرنہ خَواب (میں زِیارت ) کا دَروازہ اِس پر بند ہے ، کیونکہ یہ نُفوسِ قُدسیہ تمام لوگوں کے سردار ہیں ، یہ جن سے ناراض ہوتے ہیں اَللّٰہعَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اُن سے ناراض ہوجاتے ہیں ۔ ‘‘(افضل الصلوات علی سید السادات ، ص۱۲۷)

          اگر ہم بھی اَللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول کی رضا چاہتے ہیں اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کے خَواہشمند ہیں تو دُرُودِپاک کو اپنے صُبح و شام کا وَظیفہ بنالینا چاہیے ، سچی لگن کے ساتھ اس میں مگن رہیں گے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایک نہ ایک دن ضَرور ہم پر کرم ہوگا اور ہمیں بھی زِیات نصیب ہوجائے گی ۔

          میرے آقا ئے نعمت ، سرکارِ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مختلف اَوقات میں پڑھے جانے والے وَظائف اور دُعاؤں کے مَدَنی گلدستے ’’اَلْوَظِیْفَۃُ الْکَرِیْمَہ‘‘میں حصولِ زِیارتِ مُصْطفٰے کے لئے دُرُودِپاک کے چند مَخصوص صیغے ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں  :  (دُرُودِپاک ) خالص تَعْظِیمِ شانِ اَقدس کے لئے پڑھے ، اس  نِیَّت  کو بھی (دل میں )جگہ نہ دے کہ مجھے زِیارت عطا ہو ، آگے اُن کا کرم بے حد و اِنتہا ہے ۔ مُنہ مَدینہ طیبہ کی طرف ہو اور دل حُضُور ِاَقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ، دَستْ بستہ پڑھے  (اور) یہ تَصوُّر باندھے کہ رَوضۂ انور کے حُضُور حاضِر ہوں اور یقین جانے کہ حُضُور انور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے دیکھ رہے ہیں ، اس کی آواز سن رہے ہیں ، اس کے دل کے خطروں پر مُطَّلع ہیں ۔  (الوظیفۃ الکریمہ، ص ۲۸)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُرُودِپاک پڑھنے کی بَرَکت سے بعض عاشقانِ رسول کو خَواب میں حُضُور سَیِّد عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے دِیدارِ پُر بہار سے تو مُسْتَفِیْض فرماتے ہی ہیں مگر کچھ ایسے بھی عاشقانِ رسول ہوتے ہیں کہ جن کی بے اِنتہا مَحَبَّت کو دیکھ کر دریائے رَحمت جوش میں آجاتا ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرَوضۂ انور سے باہر جلوہ گر ہوکر ان خوش نصیبوں کو



Total Pages: 141

Go To