Book Name:Guldasta e Durood o Salam

توکسی نے مجھے مَدَنی قافِلے میں سفر کی دعوت دی، میں چُونکہ مُتَذَبْذَب (Confused) تھا اِس لئے تلاشِ حق کے جَذبے کے تحت مَدَنی قافِلے کا مُسافِر بن گیا ۔ میں نے سفید عمامہ باندھا ہوا تھا مگر سبز عمامے والے مَدَنی قافِلے والوں نے سفر کے دَوران مجھ پرنہ کسی قسم کی تَنْقِیدکی نہ ہی طَنز کیا بلکہ اَجْنَبِیَّت ہی محسوس نہ ہونے دی ۔ امیرِ قافِلہ اسلامی بھائی نے مَدَنی اِنعامات کا تعارُف کروایا اور اسکے مُطابِق معمول رکھنے کا مَشوَرہ دیا  ۔ میں نے مَدَنی انعامات کا بغورمُطالَعَہ کیا تو چونک اُٹھا کیوں کہ میں نے اتنے زبردست تربیتی مَدَنی پھول زِندگی میں پہلی ہی بار پڑھے تھے ۔ عاشقِانِ رسول کی صُحبت اور مَدَنی انعامات کی بَرَکت سے مجھ پر ربِّ لَمْ یَزَل عَزَّوَجَلَّ کا فَضْل ہوگیا ۔ میں نے مَدَنی قافِلے کے تمام مُسافِروں کو جمع کر کے اعلان کیا کہ کل تک میں بَدعَقیدہ تھا آپ سب گواہ ہو جایئے کہ آج سے توبہ کرتا ہوں اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ رہنے کی نیّت کرتا ہوں ۔ اسلامی بھائیوں نے اِس پر فرحت و مَسرَّت کا اِظہار کیا ۔ دوسرے دن 30 روپے کی نُکتی ( ایک بَیسن کی مٹھائی جو موتی کے دانوں کی طرح بنی ہوتی ہے ) منگوا کر میں نے سرکارِ بغداد حُضُورِغوثِ اعظم شیخ عبدُالقادِر جِیلانی  قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبّانی کی نیاز دِلوائی اور اپنے ہاتھوں سے تقسیم کی ۔ میں 35 سال سے سانس کے مَرَض میں مُبتَلا تھا ، کوئی رات بِغیر تکلیف کے نہ گزر تی تھی ، نیز میری سیدھی داڑھ میں تکلیف تھی جس کے باعِث صحیح طرح کھا بھی نہیں سکتا تھا ۔ n مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے دورانِ سفر مجھے سانس کی کوئی تکلیف نہ ہوئی اور میں سیدھی داڑھ سے بِغیر کسی تکلیف کے کھانا بھی کھاتا رہا ۔  میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عقائدِ اَہلسنَّتحق ہیں اور میرا حُسنِ ظن ہے کہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں مَقبول ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے عاشقانِ رسول کے سُنَّتوں بھرے مَدَنی قافِلے میں سفر کی کیسی بَرَکتیں ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اُس اسلامی بھائی کو دُرُودِ پاک کی کثرت کی بَرَکت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی قافِلہ بھی مِلا اور اُس پر ہدایت کا راستہ بھی کُھلا، یہ اسلامی بھائی بَد مذہبوں کی صُحبت کی وَجہ سے سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے ، ہم سبھی کو چاہئے کہ بُری صُحبت سے ہمیشہ دُور رہیں اور عاشقانِ رسول ہی کی صُحبت اپنائیں ۔ کیونکہ صُحبت ضَرور رنگ لاتی ہے ، اچّھی صُحبت اچّھا اور بُری صُحبت بُرا بناتی ہے ۔

صُحْبَتِ صالِح تُرا صالِح کُنَند                                                                                                                صُحْبَتِ طالح تُرا طالح کُنَند

(یعنی اچھّوں کی صحبت تجھے اچھّا بنادے گی                         اور بُروں کی صحبت تجھے بُرا بنادے گی )

اَچھی صُحبت سے مُتعلِّق فرامینِ مُصْطفٰے

          اچھی صُحبت سے مُتعلِّق تین احادیثِ مُبارَکہ سنئے اور اَچھے ماحول سے وابستہ ہوجائیے !

(۱) اچّھا ساتھی وہ ہے کہ جب تو خُداعَزَّوَجَلَّکو یا د کرے تو وہ تیری مدد کرے اور جب تُوبُھولے تووہ یاد دلائے ۔ (جامع صغیر، الجزء الثانی، حرف الخاء، ص ۲۴۴، حدیث : ۳۹۹۹)

(۲)اچّھاہَمنَشیں ( یعنی اچھاساتھی)وہ ہے کہ اُس کو دیکھنے سے تُمہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یاد آجائے اور اُس کا عمل تمہیں آخِرت کی یاد دلائے ۔ (ایضاً ، ص۲۴۷، حدیث : ۴۰۶۳)

(۳)امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عُمر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا  : ایسی چیز میں نہ پڑو جوتمہارے لیے مُفید نہ ہو اور دُشمن سے الگ رہو اور دوست سے بچتے رہو مگر جبکہ وہ امین( یعنی امانت دار) ہو کہ امین کی برابری کا کوئی نہیں اور امین وُہی ہے جواَللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرے ۔ اور فاجِر کے ساتھ نہ رہو کہ وہ تمہیں فُجُور(یعنی نافرمانی ) سکھائے گا اور اُس کے سامنے بھید کی بات نہ کہو اور اپنے کام میں اُن سے مَشورہ لو جو اَللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہیں ۔ (کنزالعمال ، کتاب الصحبۃ، باب فی آداب الصحبۃ، ۵ / ۷۵، الجزء التاسع، حدیث : ۲۵۵۶۵)

          شیخِ طریقت، امیرِاہلِسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علَّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالیہ اپنی کتاب ’’  غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ میں بَد مَذہبوں کی صُحبت سے خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :  بَدمَذہبوں کی صُحبت ایمان کیلئے زہرِ قاتل ہے ، ان سے دوستی اور تعلُّقات رکھنے کی احادیثِ مُبارکہ میں مُمانَعَت ہے ۔ چُنانچِہ جنا بِ رحمتِ عالمیان ، مکّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے  :  ’’جو کسی بدمَذہب کو سلام کرے یا اُس سے بَکُشادہ پیشانی (یعنی خوش دلی سے ) ملے یا ایسی بات کے ساتھ اُس سے پیش آئے جس میں اُس کا دل خُوش ہو، اس نے اس چیز کی تَحقیر کی جو اَللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اُتاری ۔ ‘‘ (تاریخ بغداد، عبدالرحمن بن نافع، ۱۰ / ۲۶۲، حدیث : ۵۳۷۸)

          رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ دِل پذیر ہے  :  ’’جس نے کسی بَدمَذہب کی(تَعْظِیم و) تَوقیر کی اُس نے دِین کے ڈھا دینے پر مَدد دی ۔ ‘‘ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵  /  ۱۱۸، حدیث : ۶۷۷۲)

          میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت ، مجدِّدِ دین و مِلَّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 21 صَفْحَہ 184پر فرماتے ہیں  :   سُنیّوں کو غیر مَذہب والوں سے اِختِلاط( یعنی میل جول) ناجائز ہے خُصُوصاً یُوں کہ وہ (بَدمَذہب ) افسر ہوں (اور) یہ (سُنّی ) ماتحت (ہوں ) ۔ قالَ اللّٰہ تعالٰی :  (یعنی اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے  ۔ )

وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) (پ۷، الانعام : ۶۸)

ترجَمۂ کنزالایمان : اور جو کہِیں تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ  ۔

بَدمَذہبوں سے میل جول مَنْع ہے

            نبیِّ



Total Pages: 141

Go To