Book Name:Guldasta e Durood o Salam

          ہِنْد(اِنڈیا)کے مُقِیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ خُوش قِسمتی سے مجھے دعوتِ اِسلامی کا مَدَنی ماحول مُیَسَّر آگیا اور کرَم با لائے کرَم کہ اِس مَدَنی ماحول میں اِحیائے سُنَّت کاجَذْبہ لے کر سفر کرنے والے مَدَنی قافِلوں میں جہاں میں نے فَرْض عُلُوم سیکھے وَہاں پرمیٹھے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سُنَّتوں پر عمل کا جَذْبہ بھی نصیب ہوا اور میں نے سر پر سُنَّت کے مُطابق زُلفیں اور سبزسبز عِمَامہ شریف کا تاج سجالیا ۔ n مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے مجھے اور میرے بچوں کی اَمّی کو دُرُودِ پا ک سے اس قَدر مَحَبَّت ہوگئی کہ ہم کثرت سے  دُرُودِپاک پڑھنے کے عادی بن گئے ۔ دُرُودِپاک کے فَیضان سے ایک رات ہماری قِسمت کا ستارہ چَمک اُٹھا اور ہم دونوں کوحُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خَواب میں زِیارت نصیب ہوگئی ۔

تیرا شُکر مولا دیا مَدَنی ماحول                                         نہ چھوٹے کبھی بھی خُدا مَدَنی ماحول

خُدا کے کرَم سے خُدا کی عطا سے                                   نہ دُشمن سکے گا چُھڑا مَدَنی ماحول(وسائلِ بخشش، ص۶۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تَعْظِیم کر تے ہوئے آپ کی ذاتِ طیبہ پر کثرت سے  دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما  ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 37

تین قِسم کے بَد بَخْت

حضرت ِ سَیِّدُنا جابِر بن عبدُاللّٰہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عبرت نشان ہے  :  ’’مَنْ اَدْرَکَ شَہْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ یَصُمْہُ فَقَدْ شَقِیَجس نے ماہِ رَمَضان کو پایا اورا سکے روزے نہ رکھے وہ شخص شَقِی (یعنی بد بخت) ہے ۔ ‘‘ ’’ وَمَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَہُمَا فَلَمْ یَبِرَّہُ فَقَدْ شَقِیَجس نے اپنے والِدین یا کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ اچّھا سُلوک نہ کیا وہ بھی شَقی (یعنی بدبخت )ہے  ۔ ‘‘  ’’ وَمَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَقَدْ شَقِیَ اور جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود نہ پڑھا وہ بھی شقی (یعنی بد بخت) ہے  ۔ ‘‘  (مجمع الزَّوائد، کتاب الصیام ، باب فیمن ادرک  شہررمضان فلم یصمہ، ۳ / ۳۴۰، حدیث : ۴۷۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا بڑا ہی بَدبَخت ہے وہ شخص کہ جس کے سامنے حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ذِکر ہواور وہ آپ عَلَیْہِ السَّلام کی ذاتِ اَطہر پر دُرُودِپا ک نہ پڑھے اوراس کی بَرَکتیں حاصل کرنے سے مَحروم رہے ۔ جبکہ دُرُودِ پاک پڑھنے والا کس قَدر نصیب والاہے کہ اس پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بے اِنتہا رَحمتوں کا نُزُول ہوتاہے ۔ چنانچہ

نِفاق و نار سے آزادی

          حضرتِ سَیِّدُنا اِمام سخاوِی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نَقل فرماتے ہیں  :  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْراً، جس نے مجھ پر ایک باردُرُودِپاک بھیجا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُس پر دس رَحمتیں نازِل فرماتا ہے  ‘‘ ’’وَمَنْ صَلَّی عَلَیَّ عَشْراً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ مِائۃً اور جو مجھ پر دس بار دُرُودِ پاک بھیجے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر سو رَحمتیں نازِل فرماتا ہے ‘‘ ’’وَمَنْ صَلَّی عَلَیَّ مِائَۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗ بَیْنَ عَیْنَیْہِ بَرَائَۃً مِّنَ النِّفَاقِ وَبَرَائَۃً مِّنَ النَّار اور جو مجھ پر سو بار دُرُودِ پاک بھیجے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی دونوں آنکھوں کے دَرمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ بندہ نِفاق اور دَوزخ کی آگ سے بَری ہے ‘‘ ’’وَاَسْکَنَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ الشُّہَدَاء، اور قِیامَت کے دن اللّٰہ تعالیٰ اُس کوشَہیدوں کیساتھ رکھے گا ۔  ‘‘(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۳۳)

گرچہ ہیں بے حَدقُصُور تم ہو عَفوّ وغَفور!                         بَخش دو جُرم و خطا تم پہ کروڑوں دُرُود

اپنے خَطاواروں کو اپنے ہی دامن میں لو                         کون کرے یہ بھلا تم پہ کروڑوں دُرُود(حدائقِ بخشش، ص۲۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

        سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!دیکھا آپ نے کہ دُرُودِ پاک پڑھنے والا اَللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بے شُمار رَحمتوں کا حَقدار بن جاتا ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے دل میں عَظْمتِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بڑھانے ، سینے میں اُلفتِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شمع جلانے ، نَمازوں اور سُنَّتوں کی عادت بنانے اور کثرتِ  دُرُودِپاک کی سَعادت پانے کیلئے تبلیغِ قرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں سُنَّتوں کی تربِیَت کیلئے عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر کی سَعادت حاصِل کریں اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے نہ صرف ہمارے عَقائد واَعمال دُرُست ہونگے بلکہ ہماری دُنیا و آخرت بھی سنور جائے گی ۔ چُنانچہ ترغیب کے لئے ایک مَدَنی بہا ر گوش گزار کی جاتی ہے ۔

بَد عَقیدَگی سے توبہ

          حَیدر آباد (بابُ الاسلام، سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے  :  مجھے بَد قسمتی سے بَدمذھبوں کی صُحبت نصیب ہوگئی، اس بُری صُحبت کی بِنا پر میرا ذِہن خراب ہوگیا اور میں تین سال تک نیاز شریف اور میلاد شریف وغیرہ پر گھر میں اِعتراض کر تا رہا مجھے پہلے دُرُود شریف سے بَہُتشَغَف (یعنی بے حد دِلچسپی ورَغبت تھی) مگر غَلَط صُحبت کے سبب دُرُودِپاک پڑھنے کا جَذبہ ہی دَم توڑ گیا ۔  اتِّفاق سے ایک با رمیں نے دُرُود شریف کی فضیلت پڑھی تو وہ جَذبہ پھر سے بیدار ہوا اور میں نے کثرت کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھنے کا معمول بنا لیا ۔  ایک رات جب دُرُود شریف پڑھتے پڑھتے سو گیا تو اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ مجھے خواب میں سبز گنبد کا دیدار ہو گیا اور بے ساخْتہ میری زَبان پر اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یا رسُوْلَ اللّٰہجاری ہو گیا ۔ صُبح جب اُٹھا تو میرے دل کے اندر ہل چل مچی ہوئی تھی، میں اِس سوچ میں پڑ گیا کہ آخِر حق کا راستہ کون سا ہے ؟ حُسنِ اتِّفاق سے دعوتِ اسلامی والے عاشقانِ رسول کا سُنَّتوں کی تربیّت کا مَدَنی قافِلہ ہمارے گھر کی قریبی مسجِد میں آیا



Total Pages: 141

Go To