Book Name:Guldasta e Durood o Salam

دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سَحر کی ہے

یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروڑوں کی آس جائے

اور بارگاہ مرحمتِ عام تر کی ہے

مَعْصُوموں کو تو عُمر میں صِرف ایک بار ، بار

عاصِی پڑے رہیں تو صَلا عُمر بھر کی ہے (حدائقِ بخشش، ص۲۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دن ہویارات ہمیں اپنے مُحسن وغمگسار آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُدوسلام  کے پُھول نِچھاور کرتے ہی رہنا چاہیے ۔ اِس میں ہرگز کوتاہی نہیں کرنی چاہے  ۔ یُوں بھی سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم پر بے شُماراِحسانات ہیں ۔ بَطَنِ سَیِّدہ آمنِہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے دُنیائے آب و گِل میں جَلوہ اَفروز ہوتے ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سَجدہ فرمایا اور ہونٹوں پر یہ دُعا جاری تھی : رَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِییعنی پَرْوَرْدَگار! میری اُمَّت میرے حوالے فرما ۔(فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۷۱۲)

          امام زرقانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانی نَقْل  فرماتے ہیں  : ’’ اُس وَقْت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُنگلیوں کو اِس طرح اُٹھا ئے ہوئے تھے جیسے کو ئی گِرْیَہ وزاری کرنے والا اُٹھا تا ہے ۔ ‘‘(زرقانی علی المواہب، ذکرتزویج عبداللّٰہ آمنۃ، ۱ /  ۲۱۱)

حدیث شریف میں ہے  : آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  

’’یَااُمَّ ہَانِیْ اِنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَام اَخْبَرَنِیْ فِیْ مَنَامِیْ اَنَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَہَبَ لِیْ اُمَّتِیْ کُلَّہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘اے اُمِّ ہانی! جِبریل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے مُجھے سوتے میں خَبر دی کہ میرا رَبّ قیامت کے دن میری ساری اُمَّت (کامعاملہ ) میرے سِپُرد کردے گا ۔ ‘‘ (تفسیرمقاتل، ۲ /  ۳۴۹)

’’رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی‘‘کہتے ہوئے پیدا ہوئے حق نے فرمایا کہ بخشا ’’الصَّلٰوۃُ والسَّلام ‘‘(قبالۂ بخشش ، ص۹۴)

اِسی طرح رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفرِمِعراج پر روانگی کے وقت اُمَّت کے عاصِیوں کو یاد فرما کر آبدیدہ ہوگئے ، دیدارِ جمال خداوندی عَزَّوَجَلَّاور خصُوصی نواز شات کے وقت بھی گُنہگارانِ اُمَّت کو یاد فرمایا ۔ (بخاری، کتاب التوحید، باب قولہ تعالٰی وکلم اللّٰہ موسٰی تکلیمًا، ۴ /  ۵۸۱، حدیث : ۷۵۱۷ مفہوماً) عُمر بھر(وقتافوقتا) گُنہگارانِ اُمَّت کے لیے غمگین رہے ۔ (مسلم، باب دعاء النبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لامتہ وبُکائہ شفقۃ علیہم، ص۱۳۰، حدیث : ۳۴۶ مفہومًا) جب قَبر شریف میں اُتارا لبِ جاں بخش کو جُنْبِش تھی ، بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے کان لگا کرسُنا، آہستہ آہستہ اُمَّتِیْ (میری اُمَّت) فرماتے تھے ۔

قِیامت میں بھی اِنہیں کے دامن میں پناہ ملے گی، تمام اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامسے ’’نَفْسِی نَفْسِی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی‘‘(یعنی آج مجھے اپنی فکر ہے کسی اور کے پا س چلے جاؤ )سُنو گے اوراس غَمْخوارِ اُمَّت کے لب پر ’’یَارَبِّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ‘‘ (اے رَبّ !میری اُمَّت کو بخش دے ) کا شور ہوگا ۔  (مسلم، باب ادنی اہل الجنَّۃ منزلۃ فیہا، ص۱۲۶، حدیث : ۳۲۶ )

لہٰذا مَحَبَّت اور عَقیدت بلکہ مُروَّت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ غَمْخوارِ اُمَّت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یاد اوردُرُدوسلام  سے کبھی غَفْلَت نہ کی جائے  ۔

جو نہ بھُولا ہم غریبوں کو رضا

                       ذِکر اُس کا اپنی عادت کیجئے (حدائقِ بخشش ، ص۱۹۸)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہم سے کس قَدرمَحَبَّت فرماتے ہیں کہ ہر وقت اپنی گُناہ گار اُمَّت کی بخشش کے لیے اپنے رَبّ کے حُضُور التجائیں اور دُعائیں کرتے ہیں یقینا آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم پربے شُمار احسانات ہیں ۔ مگر یہ کب مُمکن ہے کہ ہم اُن کا شکریہ ادا کرسکیں ۔ بس اِتنا ہی کریں کہ اُن پردُرُدوسلام  کے تُحفے بھیجا کریں یعنی آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں دُعائے رَحمت کیا کریں ۔ جیسے فُقرا سخی داتا کو دعائیں دیتے ہیں ۔

شُکر ایک کرم کا بھی اَدا ہو نہیں سکتا

                 دِل تم پہ فِدا جانِ حسن تم پہ فِدا ہو (ذوقِ نعت، ص۱۴۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جوخُوش نصیب لوگ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُدوسلام بھیجنے کو وظِیفہ بنالیتے ہیں اور لوگوں کو بھی دُرُودپاک پڑھنے کی ترغیب دِلاتے ہیں ، زِندَگی بھر سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عَظْمَتو مَحَبَّت کا دَرس دیتے ہیں اور لوگوں کو عشقِ رسُول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رَنگ میں رَنگ دیتے ہیں ، جب وہ اَہلِ دُرُود اور اَہلِمَحَبَّت اس دُنیائے فانی سے عالَمِ جاوِدانی کی طرف سَفر کرتے ہیں تو اُن پر کیسا کرم ہوتا ہے ، آئیے اس کی ایک جھلک مُلاحَظَہ فرمائیے ۔

قَبْرسے مُشْک کی خُوشبُو!

حضرتِ سَیِّدُنا ابُوعَبْدُاللّٰہ مُحمَّدبن سُلیمان اَلجُزُوْلی  عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے دُرُود شریف کی بہت ہی جامع کِتاب بنام  ’’دَلائِلُ الْخَیْرات‘‘ لکھی ہے جو بہت ہی مشہور اور اَہلِ مَحَبَّت میں کافی مَقبول ہے ۔ چُنانچہ صاحب ِ’’مَطَالِعُ الْمَسَرَّات‘‘ لکھتے ہیں  :  ’’یہی وہ حضرتِ شیخ جزولی ہیں جن کے مُتعلِّق یہ بات پایۂ ثُبوت تک پہنچ چُکی ہے کہ آپ کی قبرِ اَنور سے کستُوری (یعنی مُشک ) کی خُوشبُو مَہکتی تھی کیونکہ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اپنی زِندگی میں دُرُودِپاک بہت زِیادہ پڑھا کرتے تھے  ۔ ‘‘ (مطالع المسرات مترجم، ص۵۴)

 77 سال بعد بھی جِسم سَلامَت

 



Total Pages: 141

Go To