Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کا حُکْم دیا ۔ پھراِس سے سو دِینار نکال کرنَومَولُود کے والِد کو دے دیئے ۔ اِس کے بعد سو دِینار اور نکالے تاکہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابُوبَکْررَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دے مگر آپ نے لینے سے اِنکار کردیا ۔ وزیر نے کہا  :  حضرت اِس سَچِّی خَبَر کی بِشارَت دینے پر آپ مجھ سے یہ نَذرانہ لے لیں ، یہ مُعَامَلَہ میرے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے درمِیان ایک راز تھا اور آپ رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قاصِد ہیں ۔ پھر وزیر نے مزید سو دِینار نکالے اور آپ سے کہا  :  یہ اِس بِشارَت یعنی خُوشخبری کے سبب لے لیجیے کہ رسُولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو میرے ہر جُمُعَہ کی رات  دُرُودِ پاک پڑھنے کا عِلْم ہے ۔ پھر اِس نے سو دِینار اور نکالے اور کہا :  یہ آپ کی اُس تھکاوٹ کے بدلے میں ہیں جو آپ کو ہماری طرف آتے ہوئے برداشت کرنا پڑی ۔ پھر وزیر صاحِب یَکے بعد دِیگرے (نَو مَوْلُوْد کے والِدکے لیے ) سو سو دِینار نکالتے رہے حتی کہ ہزار دِینار نکال لیے مگر اُس نے کہا  :  ’’ میں صِرْف وہ لوں گا جن کا مجھے رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حُکْم ارشاد فرمایا ہے  ۔ ‘‘ (القول البدیع، الباب الرابع فی تبلیغہ السلام علیہ، وردہ وغیرذلک، ص ۳۲۷)

اُن کے نثار کوئی کیسے ہی رَنج میں ہو                         جب یاد آگئے ہیں سب غم بھلادیئے ہیں

ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اُٹھتے ہونگے               اب تو غَنی کے دَر پر بستر جمادئیے ہیں (حدائقِ بخشش، ص۱۰۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی گُناہگار اُمت پر کس قَدر شفیق ومہربان ہیں کہ اگر آپ کا کوئی بھی اُمَّتی کسی پریشانی میں ہو تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس کی مَدد فرماتے ہیں ۔ تو ہمیں بھی اُمَّتی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے آپ کی ذاتِ کریمہ پر دُرُودِ پاک پڑھنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے اور زِیادہ سے زِیادہ دُرُود شریف پڑھنا چاہئے ورنہ روزِ قیامت حسرت ہمارا مُقدَّر ہوگی ۔ چُنانچہ حضرت سَیِّدُنابوہریرہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے  :  ’’ مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا یَذْکُرُونَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَیُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم، یعنی جو قوم کسی مَجْلِس میں بیٹھے ، ’’‘‘نہ تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرے اور نہ ہی نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودشریف پڑھے ‘‘  ’’اِلَّا کَانَ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاِنْ دَخَلُوا الْجَنَّۃَ لِلثَّوَابِ ، تووہ قِیامت کے دِن جب اُس کی جَزا دیکھیں گے تو اُن پرحسرَت طاری ہوگی، اگرچہ جنَّت میں داخِل ہوجائیں ۔ ‘‘(مسند احمد، مسند ابی ہریرۃ، ۳ / ۴۸۹، حدیث : ۹۹۷۲)

سب سے بڑا بَخیل شخص

ایک روایت کے مطابق حُضُور عَلَیْہِ السَّلام  کا نامِ مبارک سن کر دُرُودِ پاک نہ پڑھنے والا سب سے بڑا کنجوس ہے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے  :  ’’اَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ یعنی جس کے پاس میرا ذِکر ہوا ور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو وہ لوگوں میں سے کنجوس ترین شخص ہے  ۔ ‘‘ (مسند احمد، مسند حدیث الحسین بن علی، ۱ / ۴۲۹، حدیث : ۱۷۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو خُوش نصیب لوگ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سلام پڑھنا اپنے روزو شب کا وَظیفہ بنالیتے ہیں ، لوگوں کو اس کی ترغیب دلاتے ہیں ، زِندگی بھر لوگوں کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَظْمَت ومَحَبَّتکے جام بھر بھر کے پلاتے ہیں اور عشقِ رَسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رنگ میں رَنگ دیتے ہیں ، جب وہ اہلِ دُرُود اور اہلِ مَحَبَّت اس دُنیائے فانی سے عالَمِ جاوِدانی کی طَرَف سَفَر کرتے ہیں تو بعدِ وصال ایسی عجیب اور ایمان اَفروز بشارتیں نصیب ہوتی ہیں کہ دیکھنے والے انکی قِسمت پر رَشک کرتے ہیں ۔ کسی کی تُربَتِ اطہر خُوشْبُو سے مہَک اُٹھتی ہے تو کسی کے جَنازَہ پر اَبرِرَحمت انوار کی بارشیں برساتے ہیں اور کہیں مَلائکہ کرام جَنازَہ میں قِطار در قِطارنظر آتے ہیں ۔ اسی مضمون کی عکاسی کرتی ہوئی ایک حکایت سنئے ۔ چنانچہ

جَنازہ میں فِرشْتَوْں کا نُزُول

            حضرتِ سیِّدُنا سَہَل تُسْترَی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہالوَلِی کا جب وِصال ہوا تو ایک شور برپا ہوگیا ۔ آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہتَعالٰی عَلَیْہِکے جَنازئہ مُبارَکہ میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوئے ۔ شہر میں ایک یہودی بھی رہتا تھا جس کی عمر ستر برس سے کچھ زیادہ کی تھی ۔ اُس نے جب شور سُنا تو وہ بھی دیکھنے کے لیے نِکلا ۔ لوگ جَنازہ مُبارَکہ کو اُٹھائے ہوئے جارہے تھے ۔ اُس نے جَنازہ کا جُلُوس دیکھ کر پُکارا  :  ’’اے لوگو! جو میں دیکھ رہا ہوں کیا تُم بھی دیکھ رہے ہو ؟ ‘‘لوگوں نے پوچھا  :  ’’تو کیا دیکھ رہا ہے ؟ ‘‘ اُس نے کہا  :  ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان سے اُترنے والوں کی قِطار لگی ہوئی ہے اوروہ (فِرِشْتے ) جَنازہ سے بَرَکَتیں حاصِل کر رہے ہیں  ۔ ‘ ‘یہ مَنْظَر دیکھ کر وہ یہودی مُسلمان ہوگیا اور بَہُت اچھا مُسلمان ثابت ہوا ۔ (الرسالۃ القشیریۃ ، باب احوالہم عبد الخروج من الدنیا، ص۳۴۱ )

عرش پر دُھومیں مچیں وہ مومنِ صالِح مِلا

فرش سے ماتَم اُٹھے وہ طیِّب و طاہِر گیا    (حدائقِ بخشش، ص۵۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیار ے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنَّتوں پر عمل اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ اطہر پر زیادہ سے زیادہ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 35

جنَّت کُشادہ ہوجاتی ہے

            حضرتِ سَیِّدُنا عبد العزیز دَبَّاغ عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الوہَّاب فرماتے ہیں  :  ’’اِس میں کوئی شُبہ نہیں کہ نبیِّ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر  دُرُودِ پاک تمام اَعمال سے اَفضل ہے اور یہ اُن مَلائکہ کا ذِکْر ہے جو اَطرافِ جنَّت میں رہتے ہیں اور جب وہ حُضُور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گِرامی پر  دُرُودِ پاک پڑھتے ہیں تو اُس کی بَرَکت سے جنَّت کُشادہ ہوجاتی ہے  ۔ ‘‘

 



Total Pages: 141

Go To