Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اے ہمارے پیار ے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں رَمضان المُبارک کا اِحتِرام کرتے ہوئے صَوم و صلوٰۃ کی پابندی کیساتھ ساتھ گُناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما، اپنے وَقت کوفُضُولیَّات میں برباد کرنے کے بجائے زِیادہ سے زِیادہ ذِکر و دُرُود میں مشغول رہنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 34

دلوں کی طہارت

حضرتِ سیِّدُنا محمد بن قاسِم رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ نبیوں کے سلطان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ طہارت نشان ہے  : ’’لِکُلِّ شَیْئٍ طَہَارَۃٌ وَغُسْل، ہر چیز کے لیے طہارت اور غُسل ہے وَطَہَارَۃُ قُلُوْبِ الْمُؤمِنِیْنَ مِنَ الصَّدَئِ اَلصَّلَاۃُ عَلَیَّ ، اور مومنوں کے دِلوں کو زنگ سے صاف کرنے کا سامان مجھ پر  دُرُود پڑھنا ہے  ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص ۲۸۱ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس شخص کو اللّٰہ تَعالٰی نے عَقل وفَہم کی دولت سے نواز رکھا ہے وہ یقینا اس بات سے بَخوبی واقف ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت اَصلِ ایمان ہے ، اگر کسی کا سینہ مَحَبَّتِ رسول سے خالی ہے تو اسے ایمان کی دولت نصیب نہیں کیونکہ حُبِّ رسول ہی ایمان کی کسوٹی ہے ۔ لہٰذا جب بھی حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی ذاتِ طیبہ پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی سعادت نصیب ہو تو دل میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا تَصوُّر باندھ کرعِشق ومَحَبَّت میں ڈوب کر پڑھنا چاہئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکات ضَرور حاصل ہونگی ۔  چنانچہ

ذِکرِ سرکار کے آداب

            بُزُرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْن فرماتے ہیں  : ’’ جب بھی ذِکْرِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیا جائے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تَصَوُّر باندھ کر کیا جائے  ۔ ‘‘مَدارِجُ النَبُوَّت کے تَکْمِلَہ میں حضرتِ سیِّدُناشیخ عبد الحق عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَقّ فرماتے ہیں  :  ’’ذِکْرِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کرتے  وَقْت اپنے آپ کو بارگاہِ مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضِر خیال کر ۔  گویا کہ تو اِن کی ظاہری حیاتِ طَیِّبَہ میں اِن کے سامنے حاضِر ہے اور آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بُزُرگی ، تعظیم ، رُعْب اور حَیا کی وجہ سے اَدَب کے ساتھ دِیدار کر رہا ہے پس یقینا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تجھے دیکھتے ہیں اور تیرے کلام کو سُنتے ہیں ۔ کیونکہ محبوبِ کِبْرِیا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَوْصافِ اِلٰہِیَّہ کے مَظْہَر ہیں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی صِفَات میں سے ایک یہ بھی صِفَت ہے ’’اَنَا جَلِیْسُ مَنْ ذَکَرَنِی یعنی میں اُس کا ہم نَشیں ہوں جو مجھے یاد کرے ۔ ‘‘لہٰذا مَدَنی تاجْدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی اس صِفَت عُظْمٰی کا مَظْہَر بنایا گیا ہے  ۔ ‘‘  (مدارج النبوۃ ، ۲ / ۶۲۱ )

            چُنَانْچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اپنے یاد کرنے والوں کے ہم نشیں ہیں ۔ مزید فرماتے ہیں  :  ’’اے بھائی ! میں تجھے وَصِیَّت کرتا ہوں کہ ہمیشہ محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صورت ِ مُبارَکہ اور سِیرتِ طَیِّبَہ کومَلْحُوظ رکھا کر اگرچہبَتکلُّف ہی اِس صُورت ِ پاک اور سیرتِ والا صِفات کو پیشِ نظر رکھنا پڑے ۔ بَہُت ہی قلیل عرصے میں تیری رُوح اِس تَصَوُّر کی بدولت ذاتِ پاک ِمُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مانُوس ہوجائے گی ۔ پس رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ کریم تیرے سامنے موجود ہوگی اور تو اُن کامُشاہَدہ کرے گا اور اُن سے کلام بھی کرے گا اور شَرَفِ خِطاب سے بھی لُطْفْ اَندوز ہوگا  ۔ ‘‘ (مدارج النبوۃ ، ۲ / ۶۲۳ )

کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خَواہش

جلوۂ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو    (ذوقِ نعت، ص۱۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سلطانِ دو جہاں ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُرُودِ پاک پڑھنے والے عُشاق سے بے اِنتہا مَحَبَّت فرماتے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان پر بارشِ کرم بھی برساتے رہتے ہیں ، کبھی تو بَنفسِ نفیس خود ان کے خَواب میں تشریف لاکر اپنے دِیدارِ پُر بہار سے فَیضیاب فرماتے ہیں ، تو کبھی اپنے چاہنے والوں کو کسی کے ذَرِیعے یہ پیغام ارشاد فرماتے ہیں کہ تم مجھ پر اِتنی اِتنی مِقدار میں روزانہ دُرُودِ پاک پڑھتے ہو جس کو میں خُود سنتا ہوں ، لہذا میرے اس پریشان حال اُمتی کی حاجت کو پورا کرو ۔ چُنانچہ اس ضِمن میں ایک دِلچسپ حکایت سنئے اور جُھوم جائیے ۔ چُنانچہ

 سرکارعَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام نے دَسْتْگِیری فرمائی

            حضرتِ سَیِّدُنا ابُوبَکْربن مُجاہِد رَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ ایک دن اپنے طَلَبہ کو پڑھا رہے تھے کہ ایک شیخ پُرانے عِمَامے ، پُرانی قمیص اور پُرانی چادر میں مَلْبُوس تشریف لائے ۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوبَکْررَحْمۃ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہاِن کی تَعْظِیم کے لیے کھڑے ہوگئے اور اِنہیں اپنی جگہ پر بٹھایا ۔ پھراُن کا اور اُن کے بچوں کا حال دَرْیافْت کیا ۔ اُنہوں نے بتایا کہ آج رات میرے گھر بچہ پیدا ہوا ہے ۔ گھر والوں نے مجھ سے گھی اور شہد مانگا ہے میرے پاس اتنی رَقم نہیں کہ میں اُنہیں یہ چیزیں لاکردوں ۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابُوبَکْررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  میں (اُن کی یہ بات سن کر) پریشانی کی حالت میں سو گیا ۔ میں نے خَواب میں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کی ۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  ’’غمگین کیوں ہو ؟ خلیفہ کے وزیر علی بن عیسٰی کے پاس جاؤ اور اُسے جا کر میرا سلام کہنا اور یہ نشانی بتانا کہ تم جمُعَہ کی رات مجھ پر ہزار مرتبہ  دُرُود پڑھنے کے بعد سوتے ہو ۔ اِس جُمُعَہ کی رات تم نے مجھ پر سات سو مرتبہ  دُرُود پڑھا تھا کہ خلیفہ کا قاصِد آیا اور تمہیں بُلا کر لے گیا ۔  پھر وَاپَس آکر تم نے مجھ پر  دُرُود پڑھا حتی کہ تم نے ہزار مرتبہ  دُرُود شریف مُکَمَّل کرلیا ۔ اُسے کہنا کہ سو دینار نَو مَوْلُوْد کے والِد کو دے دو تاکہ یہ اپنی ضَرورت پوری کریں  ۔ ‘‘ (خَواب سے بیدار ہونے کے بعد) حضرتِ سیِّدُنا ابُوبَکْر بن مُجاہِدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَاحِداِن کو ساتھ لے کر وزیر کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ نے وزیر کو کہا :  اِن کو تیری طرف رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھیجا ہے ۔ وزیر کھڑا ہوا اور آپ (یعنی ابوبَکْررَحْمَۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہکو) اپنی جگہ پر بٹھا کر سارا ماجَرا دَرْیافْت کیا ۔ آپ نے وزیر کو پوراواقِعہ بیان کردیا ۔ وزیرخُوش ہوا اور اپنے غُلام کو مال کی تھیلی نکالنے



Total Pages: 141

Go To