Book Name:Guldasta e Durood o Salam

تدبیریں سوچتا ہے  ۔ اُس کا نَفْس اُسے لمبی اُمّیدیں دِلاتا ، غَفْلَت اُسے گھیر لیتی اور یوں وہ بد نصیب سُنتَّوں بھرے مَدَنی ماحَول سے دُور ہوجاتا ہے ۔ ماہِ رَمَضان کی مُبارَک ساعَتیں بلکہ بسا اوقات پوری پوری راتیں ایسا شخص ، کھیل کُود، گانے باجے ، تاش وشَطرنج ، گپ شپ وغیرہ میں برباد کرتا ہے ۔

لَمحۂ فِکرِیہ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خُدا را اپنے حالِ زار پر تَرس کھایئے اور غور فرمایئے ! کہ روزہ دارماہِ رَمَضانُ المُبارَک میں دن کے وَقت کھاناپینا چھوڑ دیتاہے حالانکہ یہ کھانا پینا اِس سے پہلے دِن میں بھی بِالکل جائِز تھا ۔ پھر خُود ہی سوچ لیجئے کہ جو چیزیں رَمَضان شریف سے پہلے حَلال تھیں وہ بھی جب اِس مُبارَک مہینے کے مُقَدَّس دِنوں میں مَنْع کردی گئیں ۔ تو جو چیزیں رَمَضانُ الْمُبارَک سے پہلے بھی حرام تھیں ، مَثَلاً جُھوٹ ، غِیبت ، چغلی ، بد گمانی ، گالم گلوچ، فلمیں ڈِرامے ، گانے باجے ، بَد نگاہی، داڑھی مُنڈانا یا ایک مُٹھی سے گھٹانا، والِدین کو ستانا ، بِلا اجازتِ شَرعی لوگوں کا دل دُکھانا وغیرہ وہ رَمَضانُ المبارَک میں کیوں نہ اور بھی زیادہ حَرام ہوجائیں گی؟ روزہ دار جب رَمَضانُ المبارَک میں حلال وطیِّب کھانا پینا چھوڑدیتا ہے ، حَرام کام کیوں نہ چھوڑے ؟ اب فرمائیے ! جو شخص پاک اور حلال کھانا، پینا تو چھوڑ دے لیکن حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام بدستُور جاری رکھے ۔ وہ کس قسم کا روزہ دار ہے ؟ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ چنانچہ

بھوکے پیاسے رہنے کی کچھ حاجت نہیں

            نبیوں کے سلطان ، سرورِ ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے  : ’’ جو بُری بات کہنا اور اُس پر عَمَل کرنا نہ چھوڑے تَواُس کے بُھوکے پیاسے رہنے کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو کچھ حاجت نہیں  ۔ ‘‘ (بخار ی، کتاب الصوم ، باب من لم یدع قول الزورالخ، ۱ /  ۶۲۸، حدیث : ۱۹۰۳)

            ایک اور مقام پر فرمایا  :  صِرف کھانے اور پینے سے باز رہنے کا نام روزہ نہیں بلکہ روزہ تو یہ ہے کہ لَغو اور بے ہُودہ باتوں سے بچاجائے  ۔ (مستدرک ، کتاب الصوم، باب من افطر فی رمضان ناسیاالخ ، ۲ /  ۶۷، حدیث  : ۱۶۱۱)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رَمَضان ہویاغیررمضان ہمیں گُناہوں سے باز رہتے ہوئے دیگر نیک اَعمال کے ساتھ ساتھ صُبح وشام اپنے پیارے آقا عَلَیْہِ السَّلام پر دُرُود وسلام کے پھول نِچھاور کرتے رہنا چاہیے کہ بعض اَوقات دُرُودِ پاک پڑھنے والے عاشقانِ رسول پر ایسا کرم ہوتاہے کہ انہیں نارِدَوزخ سے آزادی کا پروانہ مل جاتا ہے اسی ضِمن میں ایک حکایت سنئے اور جُھوم جائیے ۔ چنانچہ

آگ سے نَجات کا پَروانہ

حضرتِ سیِّدُنا خَلَّاد بن کثیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نَزْع کی حالت میں ان کے تَکْیَہ کے نیچے ایک کاغذ کا ٹکڑا پایا گیا جس پر یہ لکھا تھا :  ’’ھَذِہٖ بَرَائَۃٌ مِّنَ النَّارِ لِخَلَّادِ بْن کَثِیریعنی یہ خَلَّاد بن کثیرکے لیے آگ سے نَجات کا پروانہ ہے  ۔ ‘‘ لوگوں نے ان کے گھر والوں سے حضرتِ سیِّدُنا خَلَّاد بن کثیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا عمل پوچھا تو اُنہوں نے بتایا کہ یہ ہر جُمُعَہ کو ہزار مرتبہ یہ دُرُود شریف اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ پڑھا کرتے تھے ۔ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ الخ، ص۳۸۲)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کثرت کے ساتھ دُرُودِپاک پڑھنے کی عادت بنانے ، نمازوں اور سُنَّتوں کی عادت ڈالنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ۔ سُنَّتوں کی تربِیَت کیلئے مَدَنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سُنَّتوں بھرا سفر کیجئے اورکامیاب زِندگی گزارنے اور آخِرت سنوار نے کیلئے مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مَدینہ کے ذَرِیعے رسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کے ابتدائی 10 دن کے اندر اندر اپنے ذِمّے دار کو جَمْع کروایئے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مَکْتبۃُ المدِینہ کے جاری کردہ رَسائل اور ویڈیو سی ڈیز تُحفے میں بانٹتے رہئے نہ جانے کب کس کا دل چوٹ کھا جائے اوروہ راہِ راست پر آجائے اور آپ کا بھی بیڑا پار ہو جائے ۔ آپ کی ترغیب کیلئے ایک اِیمان اَفروزمَدنی بہار سنئے اور عمل کا جذبہ بیدار کیجئے ۔ چُنانچِہ

شرابی، مُؤَذِّ ن بن  گیا

          مَہاراشْٹَر(ہند)کے ایک اِسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے  :  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قَبْل میں مرضِ عِصْیاں میں اِنتہائی دَرَجے تک مُبْتَلا ہو چکا تھا ۔  دن بھر مزدوری کرنے کے بعدجو رَقم حاصل ہوتی رات کو اِسی سے مَعَاذَ اللّٰہَ شراب خرید کرخُوب عَیَّاشی کرتا ، شورشرابا کرتا ،  گالیاں تک بکتا اور والدین واہلِ مَحلَّہ کوخُوب تنگ کرتا اِسکے علاوہ میں پَرلے دَرَجے کا  جُواری و بے نمازی بھی تھا ۔ اِسی غَفْلَت میں میری زِندگی کے قیمتی اَیَّام ضائع ہوتے رہے ۔ آخرکار میری قسمت کا ستارہ چمکا، ہوا یوں کہ خُوش قسمتی سے میری مُلاقات دعوتِ اِسلامی کے ایک ذِمَّہ دار اِسلامی بھائی سے ہوئی ۔  اُنہوں نے انتہائی شَفْقت بھرے اَنداز میں اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مَدَنی قافِلے میں سَفَر کرنے کی ترغیب دلائی تو مجھ سے اِنکار نہ ہوسکا اور میں ہاتھوں ہاتھ تین دن کے مَدَنی قافِلے کامُسافِربن گیا ۔ مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کی صُحْبَت ملی اور مَکْتبۃُ المدِینہ سے جاری شُدہ رَسا ئل بھی پڑھنے کو ملے ۔ جس کی یہ بَرَکت حاصل ہوئی کہ مجھ جیسا پَکّابے نمازی، شرابی وجُواری تائِب ہو کر نہ صِرْف نماز پڑھنے والا بن گیا بلکہ صدائے مَدینہ لگانے اور دوسروں کو مَدَنی قافِلوں کا مسافِر بنانے والا بن گیا ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میری اِنفرادی کوشش سے اب تک 30 اِسلامی بھائی مَدَنی قافِلوں کے مُسافِر بن چکے ہیں اور اِس وَقْت میں ایک مسجِد میں مؤذِّن ہوں اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی خُوب خُوب دُھومیں مچارہا ہوں ۔

دل کی کالک دُھلے ، دَردِعِصْیاں ٹلے

آؤ سب چل پڑیں قافِلے میں چلو(وسائل ِ بخشش ، ص۶۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To