Book Name:Guldasta e Durood o Salam

          اَمیرُالْمُؤمِنِین ذُوالنُّورَین حضرتِ سیِّدُنا عُثمان بن عَفّان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نبیوں کے سُلطان ، رَحمتِ عالَمِیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدمتِ والا شان میں حاضر ہو کر عَرْض گزار ہوئے  :  ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !مجھے بتائیے کہ بندے کے ساتھ کتنے فِرِشتے ہوتے ہیں ؟ ‘‘سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا  :  اے عثمان ! ایک فِرِشتہ تیری دائِیں (سیدھی) طرف ہے جو تیری نیکیوں پر مامور ہے اور یہ بائیں (اُلٹی) طرف والے فِرِشتہ کا اَمین ہے ۔ جب تم ایک نیکی کرتے ہو تو اس کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، جب تم کوئی گُناہ کرتے ہو تو بائیں (اُلٹی) طرف والا فِرِشہ دائیں (سیدھی) جانب والے فِرِشتے سے پوچھتا ہے  :  ’’(کیا) میں (اس کا یہ گناہ) لکھ لوں ؟ ‘‘تو وہ کہتا ہے  :  ’’نہیں ، شاید یہ (اپنے گُناہ پر) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اِستِغفار کرے اور توبہ کرے  ۔ ‘‘ تو جب بائِیں طرف والا فِرِشتہ تین مرتبہ گناہ لکھنے کی اِجازت مانگتا ہے تو( دائیں طرف والا) کہتا ہے  :  ہاں (اَب لکھ لو) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں اِس سے محفوظ رکھے ۔ یہ کیسا بُرا ساتھی ہے ، اللّٰہعَزَّوَجَلّ کیمُتَعلِّق کتنا کم سوچتا ہے اورہم سے کس قَدَر کم حیا کرتا ہے  ۔

 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے  :  

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸) (پ ۲۶، قٓ :  ۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان :  کوئی بات وہ زَبان  سے نہیں نکالتا کہ اُس کے پاس ایک محافِظ تیاّر نہ بیٹھا ہو  ۔

            اور دو فِرِشتے تمہارے سامنے اور پیچھے ہیں ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے  :  

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِؕ- (پ۱۳، الرعد  : ۱۱)

ترجَمۂ کنزالایمان  :  آدمی کے لئے بدلی والے فِرِشتے ہیں اُس کے آگے پیچھے کہ بحُکْمِ  خدا اُس کی حفاظت کرتے ہیں  ۔

اور ایک فِرِشتے نے تمہاری پیشانی کو تھاما ہوا ہے ۔ جب تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے تواضُع (یعنی اِنکساری) کرتے ہو تو وہ تمہیں بُلند کرتا ہے اور جب تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر تکبُّر کا اِظہار کرتے ہو تو وہ تمہیں تباہی میں ڈال دیتا ہے ۔ اور دو  فِرِشتے تمہارے ہونٹوں پر (مُتَعَیَّن) ہیں ، وہ تمہارے لئے صِرْف محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑھے جانے والے دُرُود کو محفوظ کرتے ہیں اور ایک فِرِشتہ تمہارے مُنہ پر مُقرَّر ہے وہ تمہارے منہ میں سانپ داخِل ہونے نہیں دیتا ۔  اور دو فِرِشتے تمہاری آنکھوں پر مُقَرَّر ہیں ۔ یہ کل  دس فِرِشتے ہیں جو ہر انسان پر مُقرَّر ہیں ۔ رات کے فِرِشتے دن کیفِرِشتوں پر اُترتے ہیں ، کیونکہ رات کے فِرِشتے دن کے فِرِشتوں کے عِلاوہ ہوتے ہیں ۔ یہ بیس فِرِشتے ہر آدمی پر مُقرَّر ہیں ۔ (تفسیرالطّبری، پ۱۳، الرعد، تحت الآیۃ، ۱۱، ۷ / ۳۵۰، حدیث : ۲۰۲۱۱)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مُقرَّر کردہ معصوم فِرِشتے ہماری اچھی بُری ہر بات لکھتے ہیں لیکن مَعَاذَ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں اس کی بالکل پروا نہیں ہوتی ۔ عام دنوں میں تو گُناہوں کاسلسلہ جاری ہی رہتاہے مگر جب رَمَضان ُالمبارک کامُقدَّس مہینہ تشریف لاتاہے توہم بد قسمتی سے اس کا اِحتِرام نہیں کرتے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رضا و خُوشنودی والے کام کرنے کے بجائے روزے کی حالت میں بھی اپنے قیمتی لمحات کوفُضُولیَّات میں برباد کردیتے ہیں یقینا یہ ذِلَّت و رُسوائی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی ناراضی کا سبب ہے  ۔ چُنانچہ

حُقُوقِ رَمَضان سے مُتَعلِّق نَصیحتیں

            حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہاسے روایت ہے کہ دوجہاں کے سلطان ، شَہَنشاہِ کون و مکان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے  :  ’’میری اُمَّت ذَلیل و رُسوا نہ ہوگی جب تک وہ ماہِ رَمَضان کا حق ادا کرتی رہے گی ۔ ‘‘عرض کی گئی :  یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! رَمَضان کے حق کو ضائع کرنے میں ان کا ذَلیل و رُسوا ہونا کیا ہے ؟ فرمایا ، اِس ماہ میں انکا حرا م کاموں کا کرنا ، پھر فرمایا :  جس نے اِس ماہ میں زِنا کیا، یا شراب پی تواگلے رَمَضان تک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور جتنے آسمانی فِرِشتے ہیں سب اُس پر لعنت کرتے ہیں ۔ پس اگر یہ شخص اگلے ماہ ِ رَمَضان کو پانے سے پہلے ہی مرگیا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جو اسے جہنَّم کی آگ سے بچاسکے ۔ پس تم ماہِ رَمَضان کے مُعامَلے میں ڈرو کیونکہ جس طرح اِس ماہ میں اور مہینوں کے مُقابلے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں اِسی طرح گُناہوں کا بھی مُعامَلہ ہے ۔ (معجم صغیر، من اسمہ عبدالملک ، ص۲۴۸، حدیث : ۱۴۸۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لرز اُٹھئے ! اورماہِ رَمَضان کی ناقَدری سے بچنے کا خُصُوصیَّت کے ساتھ سامان کیجئے ۔ اس ماہِ مبارَک میں دوسرے مہینوں کے مقابَلے میں جس طرح نیکیاں بڑھادی جاتی ہیں اِسی طرح دیگر مہینوں کے مقابَلے میں گُناہوں کی ہَلاکت خَیزیاں بھی بڑھ جاتی ہیں ۔ ماہِ رَمَضان میں شراب پینے والا اور زِنا کرنے والا تو ایسا بد نصیب ہے کہ آئندہ رَمَضان سے پہلے پہلے مرگیا تو اب اس کے پاس کوئی نیکی ایسی نہ ہوگی جو اسے جہنَّم کی آگ سے بچا سکے ۔ یاد رہے ! آنکھوں کا زِنا بَدنگاہی، ہاتھوں کا زِنا اَجْنبیہ کو(یا شہوت کے ساتھ اَمْرَد کو) چُھونا ہے ۔ لہٰذا خبردار ! خبردار! خبردار! ماہِ رَمَضان میں بالخصوص اپنے آپ کو بدنِگاہی اور اَمْرَد بِینی سے بچائیے ۔ حتَّی الامکان آنکھوں کا قُفلِ مدینہ لگا لیجئے یعنی نگاہیں نیچی رکھنے کی بھرپور سعی کیجئے ۔ آہ! صد ہزار آہ!بَسا اوقات نَمازی اور روزہ دار بھی ماہِ رَمَضان کی بے حُرمتی کرکے قہرِقَہّا ر اور غَضبِ جبّار کا شِکار ہوکر عذابِ نار میں گَرِفتار ہوجاتے ہیں ۔

دل پر ایک سیاہ نُقطہ

            یادرکھئے ! حدیثِ مُبارَک میں آتا ہے ، جب کوئی انسان گُناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک سیاہ نُقطہ بن جاتا ہے ، جب دوسری بار گُناہ کرتا ہے تو دُوسرا سِیاہ نُقطہ بنتا ہے یہاں تک کہ اُس کادِل سِیاہ ہوجاتا ہے ۔ نتیجۃً بَھلائی کی (کوئی ) بات اُس کے دِل پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ (درمنثور، پ۳۰، المطففین، تحت الآیۃ : ۱۴، ۸  / ۴۴۶)

اب ظاہِر ہے کہ جس کا دِل ہی زَنگ آلُودا ور سیاہ ہوچُکاہو اُس پر بَھلائی کی بات اور نصیحت کہاں اثر کرے گی؟ ماہِ رَمَضان ہویا غیرِ رَمَضان ایسے انسان کا گُناہوں سے باز و بیزار رہنا نِہایت ہی دُشوار ہوجاتا ہے ۔ اُس کا دِل نیکی کی طرف مائِل ہی نہیں ہوتا ۔ اگروہ نیکی کی طرف آبھی گیا تو بسا اَوقات اُس کا جِی اِسی سِیاہی کے سَبَب نیکی میں نہیں لگتا اور وہ سنَّتوں بھرے مَدَنی ماحَول سے بھاگنے ہی کی



Total Pages: 141

Go To