Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 32

مُبارَک پَرچہ

          قِیامت کے دن کسی مسلمان کی نیکیاں میزان(یعنی ترازو) میں ہلکی ہو جائیں گی تو سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات، مَحْبوبِ ربِّ الْارضِِ وَ السَّمٰوٰت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک پرچہ اپنے پاس سے نکال کرنیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیں گے تو اس سے نیکیوں کاپلڑا وَزنی ہو جائے گا ۔  وہ عَرْض کرے گا : ’’ میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کون ہیں ؟‘‘حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرمائیں گے  : ’’میں تیر ا نبی محمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہوں اور یہ تیرا وہ دُرُودِ پاک ہے جو تُونے مجھ پر پڑھا تھا  ۔ ‘‘(موسوعہ ابن ابی دنیا فی حسن الظن باللّٰہ، ۱  / ۱۹، حدیث  : ۹۷)

وہ پرچہ جس میں لکھا تھا دُرُود اس نے کبھی

یہ اس سے نیکیاں اس کی بڑھانے آئے ہیں (سامانِ بخشش، ص۱۲۶)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ روایت سے  دُرُودِپاک کی بَرَکت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں دُنیا میں اس کے فوائد وثَمرات حاصل ہوتے ہیں وہیں اُخروِی فَضائل و بَرَکات کا حُصُو ل بھی ہوتا ہے  ۔ دُرُودِ پاک پڑھنا ایسا عمل ہے کہ جسے خود خالقِ ارض وسمٰوٰت عَزَّوَجَلَّاور اسکے مَعصُوم فِرِشتے بھی کرتے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِرشاد فرماتا ہے  :  

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲، الاحزاب : ۵۶)

ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللّٰہ اور اسکے فِرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پراے ایمان والو! ان پر دُرُود اورخُوب سلام  بھیجو ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور فِرِشتوں کا عَمل

          مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اپنی مایہ ناز کتاب ’’شانِ حبیبُ الرحمن مِن آیاتِ القرآن‘‘میں فرماتے ہیں  :  ’’مَذکورہ بالا آیتِ کریمہ سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صَریح نعت ہے ۔ اِس میں ایمان والوں کو پیارے مُصْطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودو سلام بھیجنے کا حُکْم دیا گیا ہے ۔ لُطْف کی بات یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَََّ نے قُرآنِ کریم میں کافی اَحکامات صادِر فرمائے مَثَلاً نماز، روزہ، حج، وغیرہ وغیرہ ۔  مگر کسی جگہ یہ اِرشاد نہیں فرمایا کہ یہ کام ہم بھی کرتے ہیں ، ہمار ے فِرِشتے بھی کرتے ہیں اور ایمان والو! تم بھی کیا کرو ۔  صِرْف دُرُود شریف کے لیے ہی ایسا فرمایا گیا ہے ۔ اِس کی وجہ بالکل ظاہر ہے ۔ کیونکہ کوئی کام بھی ایسا نہیں جو خُدا عَزَّوَجَلَّکا بھی ہو اور بندے کا بھی ۔  یقیناً اللّٰہتبارک و تعالیٰ کے کام ہم نہیں  کر سکتے اور ہمارے کاموں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بُلند وبالا ہے ۔ اگر کوئی کام ایسا ہے جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا بھی ہو، مَلائکہ بھی کرتے ہوں اور مسلمانوں کو بھی اُس کا حُکْم دیا گیا ہوتو وہ صِرْف اور صِرْف آقائے دوجہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنا ہے ۔ جس طرح ہلالِ عید پر سب کی نظریں جَمْع ہوجاتی ہیں اِسی طرح مَدینہ کے چاند پر ساری مَخلوق کی اور خود خالقعَزَّوَجَلَّ کی بھی نظر ہے ۔

جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسُن و جمال                اے حسیں ! تیری اَدا اُس کو پسند آئی ہے (ذوقِ نعت، ص۱۷۵)

ایسا تجھے خالِق نے طَرَحْدار بنایا                          یوسُف کو تِرا طالبِ دیدار بنایا(ذوقِ نعت، ص ۳۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس آیتِ مُبارَکہ کے نازِل ہونے کے بعدمحبوبِ ربِّ ذُوالجلال، سُلطانِ شیریں مَقال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چِہرۂ نور بار خوشی سے جھوم اُٹھااور فرمایا :  ’’مجھے مبارَک باد دو کیونکہ مجھے وہ آیتِ مُبارَکہ عطا کی گئی ہے جو مجھے ’’دُنْیَا وَمَا فِیْہَا‘‘(یعنی دُنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس ) سے زِیادہ محبوب ہے  ۔ ‘‘  ( روح البیان، پ۲۲، الاحزاب ، تحت الآیۃ : ۵۶، ۷  / ۲۲۳)

دُرُود بھیجنے کی حِکمت

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!  اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّنے آیتِ مُبارَکہ میں یہ خَبَر دی ہے کہ ہم ہر آن اور ہر گھڑی اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رَحمتوں کی بارش برساتے ہیں ۔ یہاں ایک سُوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ خود ہی رَحمتیں نازل فرمارہا ہے تو ہمیں دُرُود شریف پڑھنے یعنی رَحمت کے لیے دُعا مانگنے کا کیوں حُکْم دیا جارہا ہے کیونکہ مانگی وہ چیز جاتی ہے جو پہلے سے حاصل نہ ہو، تو جب پہلے ہی سے رَحمتیں اُتر رہی ہیں پھر مانگنے کا حُکْم کیوں دیا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ کوئی سُوالی کسی دروازہ پر مانگنے جاتا ہے تو گھر والے کے مال و اَولاد کے حق میں دُعائیں مانگتا ہوا جاتا ہے ۔ سخی کے بچے زِندہ رہیں ، مال سلامت رہے ، گھر آباد رہے وغیرہ وغیرہ ۔  جب یہ دُعائیں مالکِ مکان سنتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ یہ بڑ ا مُہَذَّب سُوالی ہے ۔ بھیک مانگنا چاہتا ہے مگر ہمارے بچوں کی خیر مانگ رہا ہے ۔ خُوش ہو کر کچھ نہ کچھ جھولی میں ڈال دیتا ہے ۔ یہاں حُکْم دیا گیا :  اے ایمان والو! جب تم ہمارے یہاں کچھ مانگنے آؤ تو ہم تو اَولاد سے پاک ہیں مگر ہمارا ایک پیارا حبیب ہے محمدمُصْطفٰیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اُس حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُس کے اَہلِ بیت (عَلَیْہِم الرِّضْوان) کی اور اُس کے اَصحاب (عَلَیْھِم الرِّضْوان) کی خَیر مانگتے ہوئے ، اُن کو دُعائیں دیتے ہوئے آؤ تو جن رَحمتوں کی اُن پر بارش ہورہی ہے اُس کا تُم پر بھی چھینٹا ڈال دیا جائے گا ۔  دُرُود شریف پڑھنا دَراَصْل اپنے پروَرْدگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے مانگنے کی ایک اعلیٰ ترکیب ہے  ۔ اِس آیتِ مُقَدَّسہ میں مسلمانوں کو مُتَنَبَّہ (خبردار) فرمادیا گیا کہ اے دُرُود و سلام پڑھنے والو! ہرگز ہرگز یہ گُمان بھی نہ کرنا کہ ہمارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہماری رَحمتیں تمہارے مانگنے پرمَوقوف ہیں اور ہمارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تمہارے دُرُود و سلام کے مُحتاج ہیں ۔ تم دُرُود پڑھو یا نہ پڑھو، اِن پر ہماری رَحمتیں برابر برستی ہی رہتی ہیں ۔ تمہاری پیدائش اور تمہارا  دُرُود و سلام پڑھنا تو اَب ہوا، پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رَحمتوں کی برسات تو جب سے ہے جب کہ ’’جب‘‘ اور ’’کب‘‘ بھی نہ بنا تھا ۔  ’’جہاں ‘‘ ’’وہاں ‘‘ ’’کہاں ‘‘ سے بھی پہلے اِن پر رَحمتیں ہی رَحمتیں ہیں ۔ تم سے دُرُود و سلام پڑھوانا یعنی پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے دُعائے رَحمت منگوانا تمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے ۔ تم  دُرُود و سلام پڑھو گے تو اِس میں تمہیں کثیر اَجر و ثواب ملے گا ۔



Total Pages: 141

Go To