Book Name:Guldasta e Durood o Salam

دَم بَدم صَلِّ عَلٰی

            حضرتِ سَیِّدُنااُبیّ بِن کَعب  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے عرض کیا :  ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میں تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   پربہت زِیادہ دُرود شریف پڑھا کرتا ہوں ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بتادیجئے کہ دن کا کتنا حصہ دُرُود خوانی کے لیے مُقرَّر کردوں ؟ ‘‘تو نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا  :  ’’ مَاشِئْتَ یعنی تم جس قَدر چاہو مُقرَّر کرلو ۔  حضرت اُبیّ بِن کَعب  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ دن رات کا چوتھائی حصہ دُرُود خوانی کے لیے مُقرَّر کرلوں ؟ تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ یعنی تم جس قدر چاہو مقرر کرلو، ‘‘ہاں اگر تم چوتھائی سے زِیادہ حصّہ مُقرَّر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا ۔ حضرت اُبیّ بِن کَعب  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُنے عرض کی کہ میں دن رات کا نِصف حصہ دُرُود خوانی کے لیے مُقرَّر کرلوں ؟ تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’ مَا شِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ تم جس قَدر چاہومُقرَّر کرلو اور اگر تم اس سے بھی زِیادہ وقت مُقرَّر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا ۔  ‘‘تو حضرت اُبیّ بِن کَعب  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے کہا میں دِن رات کا دوتہائی مُقرَّر کرلوں ؟ تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا  : ’’ مَا شِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکتم جتنا چاہو وقت مُقرَّر کرلو اور اگر تم اس سے زِیادہ وَقت مُقرَّر کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا ۔  ‘‘تو حضرت اُبیّ بِن کَعبرَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے عرض کی  :  ’’اَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِی کُلَّہَا، میں دِن رات کا کل حصِّہ دُرُود خوانی ہی میں صرف کروں گا ۔  ‘‘تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا :  ’’اِذًا تُکْفَی ہَمُّکَ وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُکَ اگرتم  ایسا کرو گے تو دُرُود شریف تمہاری تمام فِکروں اور غموں کو دُور کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کَفَّارہ ہوجائے گا ۔ ‘‘(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب۲۳، ۴  / ۲۰۷، حدیث : ۲۴۶۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنی کتاب’’انوارِ جمالِ مصطفیٰ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ بُزُرگ ترین ثَمرات اور گرامی ترین فوائدِ صلوٰۃ یہ ہیں کہ جب آدمی دُرُودِپاک کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے سردارِ مکۂ مکرمہ، سلطانِ مدینۂ منوَّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِ طیبہ پر کثرت کے ساتھ دُرُود بھیجتا ہے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کیمَحَبَّت اس کے تمام دل کو گھیر لیتی ہے اور اس شجرِ مَحَبَّتسے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی طَاعت و اِتباع کا ثَمرہ حاصل ہوتا ہے ۔      (انوار جمال مصطفیٰ، ص۲۴۰مفہوماًو ملخصاً)

اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  کی رضا ضَروری ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم جب بھی نبیِّ رَحمت، شفیع ِاُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ذات ِ بابَرَکت پر دُرُودِ پاک پڑھیں تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اس سے مَقصود صرف اللّٰہعَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا ہو نہ کہ کوئی اور غرض اور اگر بالفرض ہماری کوئی مُشکل ہے بھی تو دُرُودِ پاک اسنِیَّت  سے نہ پڑھا جائے کہ میری یہ غرض پوری ہو ، یامجھے یہ فائدہ حاصل ہو، یا میری یہ مُشکل حل ہوجائے بلکہ آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے نبی پاک ، صاحبِ لَولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود شریف پڑھنا چاہیے اور اس کے وسیلے سے رَبّ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر عاجزی و اِنکساری کے ساتھ اپنے مَقاصد و مَطالب کے لئے بھی دُعا کرنی چاہئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے قَبولیَّت کی اُمید ہے ۔

            جیسا کہ شیخ ابُو اسحاق شاطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی شرحِ اَلفیہ میں فرماتے ہیں کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں پیش کیا جانے والا دُرُودِ پاک یقینا مقبول ہے اور اس کے ساتھ جب کو ئی دُعا مانگی جائے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فَضل سے وہ بھی قَبول کی جائے گی ۔   (مطالع المسرات، ص۳۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حالتِ بیداری میں جَوابِ سَلام

حضرتِ سَیِّدُنامحمود الکردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَلِیْاپنی کتاب ’’اَلباقِیَاتُ الصَّالِحَات‘‘میں فرماتے ہیں  : ایک رات جب میں سویاتو میری قِسمت کا ستارہ چَمک اُٹھا!کیادیکھتاہوں کہ میرے خَواب میں شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتشریف لے آئے  ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے کمالِ شَفْقَت فرماتے ہوئے مجھے سینے سے لگالیا اور ارشاد فرمایا :  ’’اَکْثِرُوْاعَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِمجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھو! ‘‘نیز مجھے اپنی اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رِضا وخُوشنودی کی خُوشخبری سنائی ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اس قَدر مَحَبَّت دیکھ کرمیری آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے ، مجھے اپنی قِسمت پر رَشک آرہا تھا کہ آپ عَلیْہ السَّلام نے میرا ایسا والہانہ اِستقبال فرمایا اور مجھے اتنی عزَّت سے نوازا میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارک آنکھوں سے بھی فرطِ شَفقت اور جوشِ مَحَبَّتسے آنسو رَواں تھے ، اتنے میں میری آنکھ کُھل گئی میرے رُخسار پر اب تک آنسوبہہ رہے تھے اس کے بعدمیں مُواجَہہ شریف کی طرف گیا تو میں نے رَوضۂ مبارکہ کے اندرسے ایسی ایسی بشارتیں سنیں جو بیان سے باہر ہیں ۔ ابھی میں مُواجَہہ شریف کے پاس ہی کھڑا تھا کہ عَین بیداری کے عالَم میں میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زبانِ مُبارک سے اپنے سلام کا جواب سنا تومجھے اس بات کا کامل یقین ہوگیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنے رَوضۂ انور میں نہ صِرف حیات ہیں بلکہ مسلمانوں کے سلام کا جواب بھی عطا فرماتے ہیں ۔ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی الخ، اللطیفۃ الحادی والتسعون، ص۱۵۱ملخصاً)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ دُرُودوسلام پڑھنے والے سے سرکار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کس قَدرمَحَبَّت فرماتے ہیں اور اس کی زبان سے اَدا ہونے والے دُرُودوسلام کے کلمات کو نہ صرف بنفسِ نفیس سماعت فرماتے ہیں بلکہ خُوش ہو کراُسے اپنے دیدار سے بھی مُشرَّف فرماتے ہیں ۔

تم کو  تو غلاموں سے  ہے کچھ  ایسی مَحَبَّت

ہے ترکِ اَدب ورنہ کہیں ! ہم پہ فدا ہو  (ذوقِ نعت ، ص۱۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں سرکار عَلَیْہ السَّلام کی بارگاہ میں مَحَبَّت وشوق کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمااور ہمیں اس کے فوائد وبَرکات سے بہرہ مند فرما ۔

 



Total Pages: 141

Go To