Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر  :  30

غلام آزاد کرنے سے اَفْضَل عمل

            حضرتِ سَیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’اَلصَّلَاۃُ عَلَی النَّبِیِّ اَمْحَقُ لِلْخَطَایَا مِنَ الْمَائِ الْبَارِد، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا ٹھنڈے پانی سے بھی زِیادہ خطاؤں کو مٹاتا ہے ۔ ‘‘ ’’وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ اَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الرِّقَابِاور سرکار مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر سلام پڑھنا گردنیں (غلاموں کو ) آزاد کرنے سے اَفضل ہے  ۔ ‘‘

 (درمنثور، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ : ۵۶، ۶  / ۶۵۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ دُرُودِ پاک پانی کے ذَریعے آگ بجھانے سے بھی بڑھ کرخطاؤں کو مٹانے میں مؤثر ہے یعنی جس طرح ٹھنڈا پانی آگ کی شِدَّت و تَمازت کو بہت جلد خَتْم کرتا ہے اسی طرح پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنا بھی ہماری خطاؤں کو مٹاتا ہے بلکہ خطائیں مٹانے میں یہ تو پانی سے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ سَرِیعُ الاثر ہے ۔ لہٰذا ہمیں بھی آپ عَلَیْہِ السَّلام پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھتے رہنا چاہئے تاکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ دُرُودِ پاک کی بَرَکت سے ہمارے گُناہوں کو مُعاف فرمادے ۔

بارِ عِصْیاں کی ترقّی سے ہُوا ہوں جاں بَلَب

مجھ کو اچھّا کیجئے حالت مِری اچھّی نہیں (ذوقِ نعت، ص۱۲۹)

            میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دُرُودشریف کی کثرت کے بکثرت فَضائل ہم سُنتے ہی رہتے ہیں ، ان فضائل وبرکات کو سن کر ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کسی کے ذِہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آخر کثرتِ دُرُود کی تعریف کیا ہے ؟ کیا چوبیس گھنٹے دُرُود و سلام ہی پڑھتے رہیں جبھی ہم کثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے والے کہلائیں گے ؟ اس عُقْدے (گُتھی) کو حل کرنے کے لیے مُستَنَد کتابوں سے کثرت ِ دُرُود کی تعریف میں چند بُزُرگانِ دین کے اَقو ال پیش کیے جاتے ہیں ۔ ان میں سے کسی بھی بُزُرگ کے بتائے ہوئے عدد کو معمول بنالیں توآپ کا شُمار بھی کثرت سے دُرُود وسلام پڑھنے والوں میں ہوجائے گا ۔  اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ وہ تمام بَرَکات وثَمرات حاصل ہونگے جن کا احادیثِ مُبارکہ میں تذکرہ ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کسی کو کروڑوں سال کی عُمر مل جائے اور وہ ہر لمحہ دُرُود و سلام ہی پڑھتا رہے توپھر بھی اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ

کثرت سے دُرُود پڑھنے کی تعریف

            ابُوالحسن دارمی عَلَیْہِ رَ حْمۃُ اللّٰہِ الْقَوی  نے ابوعبدُاللّٰہ بن حامد عَلیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْمَاجِدکو موت کے بعد کئی مرتبہ خَواب میں دیکھا اور پوچھا  :  اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا سُلوک کیا؟ فرمایا :  مجھیاللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے بَخش دیا اور رَحم فرمایا ۔ ایک مرتبہ حضرت دارمی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے پوچھا کہ کوئی ایسا عمل بتائیے جس کے ذَرِیعے  جَنَّت میں داخل ہونا نصیب ہوجائے ۔ تو اُنہوں نے فرمایا  :  ایک ہزار رَکعات نفل ادا کرو اور ان میں سے ہر رَکعت میں ایک ہزار مرتبہ قُلْ ھُوَاﷲُ اَحَد (پوری سورت) پڑھ لیا کرو ۔  اُنہوں نے کہا  : یہ تو مجھ سے نہیں ہوسکے گا تو حضرت ابو عبدُاللّٰہ بن حامد عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِِ الْمَاجِد نے کہا کہ پھر محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ہر رات ہزار مرتبہ دُرُود و سلام پڑھ لیا کرو ۔  حضرت دارمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِِ الْقَوِی  فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے ہر رات ایک ہزار مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھنا میرا معمول بن گیا ۔ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات الخ، اللطیفۃالسابعۃ والعشرون، ص ۱۳۶)

            حضرت  علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ روزانہ کم از کم سو ۱۰۰بار دُرُودِ پاک ضرور پڑھنا چاہیے ۔ ‘‘(جذبُ القلوب، ص۲۳۱) مزید فرماتے ہیں  : ’’بعض دُرُود شریف کے ایسے صیغے بھی ہیں کہ جن کے پڑھنے سے ہزار ۱۰۰۰کا عدد بآسانی اور جلد پورا ہوجاتا ہے مثلاً ’’صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘لہٰذا اُسی کو وَظیفہ بنالیناچاہئے اور وَیسے بھی جو کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کا عادی ہوتا ہے اُس پر وہ آسان ہوجاتا ہے ۔ غرضیکہ جو عاشقِ صادق  ہوتا ہے اُسے دُرُود و سلام پڑھنے سے وہ لَذَّت و شِیرِینی حاصل ہوتی ہے جو اُس کی رُوح کو تَقْوِیت پہنچاتی ہے ۔ (جذبُ القلوب، ص۲۳۲)

          عَلّامہ نبہانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیْ کثرت کی تعریف میں ایک بُزُرگ کاقول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :  ’’کم اَز کم روزانہ ساڑھے تین سو بار دن میں اور ہر شب میں ساڑھے تین سو باردُرُودِ پاک پڑھاجائے ۔ ‘‘(افضلُ الصَّلوات علٰی سیِّد السَّادات، ص۳۰) مزید فرماتے ہیں  :  کہ حضرتِ امام شعرانی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیْ نے اپنی کتاب ’’انوارُ الْقُدْسِیّہ‘ ‘میں فرمایا ہے  : ’’ہم سے رسُول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے عہد لیا کہ ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر ہر رات بکثرت دُرُود و سلام پڑھا کریں گے اور اپنے بھائیوں کے آگے اِس کا اَجرو ثواب بیان کیا کریں گے اور آپ عَلَیْہِ السَّلامسے اِظہارِ مَحَبَّت کے لیے اُنہیں پوری ترغیب دیں گے اور یہ کہ ہم ہر دن اور رات اور صبح اور شام ایک ہزار سے لے کر دس ہزار تک دُرُود و سلام کا وِرد کیا کریں گے ۔ ‘‘ (لواقح الانوارُ القدسِیّۃ فی بیان العہود المحمدیۃ للشعرانی، ص۲۱۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! روزانہ سو بار، تین سو بار، یا صبح و شام دو دو سو بار بلکہ روزانہ ایک ہزار بار دُرُود و سلام پڑھنا بھی زِیادہ مشکل کام نہیں ۔ لیکن یہ سوال ضَرور پیدا ہوتا ہے کہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہمُ اللّٰہُ الْمُبین روزانہ دس دس ہزار بار بلکہ چالیس چالیس ہزار بار دُرُود شریف کس طرح پڑھتے ہوں گے ؟ اور اُنہیں دوسری عبادات، گھریلو اور معاشی مُعاملات، پھر سُنَّتوں کی تبلیغ اور طَعام و آرام وغیرہ کے لیے کس طرح وَقت ملتا ہوگا ؟

 



Total Pages: 141

Go To