Book Name:Guldasta e Durood o Salam

شیخ ِطریقت، امیرِاہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ رزق میں بے بَرَکتی کے اسباب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  : ’’آج کل رِزق کی بے قَدری اور بے حُرمتی سے کون سا گھر خالی ہے ، بنگلے میں رہنے واے اَرَبْ پَتِی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والا مزدورتک اس بے احتیاطی کا شکار نظر آتا ہے ، شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کا شوربا ، چاول اور ان کے ا َجْزابہا کر مَعَاذَاللّٰہ نالی کی نذر کردیئے جاتے ہیں ، ان سے ہم سب واقف ہیں ، کاش رِزق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظر ہوتی ۔ ‘‘

          مزید فرماتے ہیں  :  ’’بِغیر ہاتھ دھوئے کھانا کھانا، ننگے سر کھانا ، چارپائی پر بِغیر دسترخوان بچھائے کھانا چینی یا مِٹّی کے ٹوٹے ہوئے برتن استعمال میں رکھنا خواہ اِس میں پانی پینا ، یہ سب روزی میں تنگی کے اسباب ہیں اگر ان سے بچا جائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ روزی میں بَرَکت ہی بَرَکت دیکھیں گے  ۔ ‘‘(تنگدستی کے اسباب اور ان کاحل)(سنی بہشتی زیور، ص ۵۹۵ تا۶۰۱، ملخصاً)

حضرتِ سیِّدُنا امام بُرہان ُالدِّین زَرنُوجی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تنگدستی کے جو اَسباب بیان فرمائے ہیں اُن میں سے چند یہ بھی ہیں  :  چہرہ لباس سے خُشک کرلینا ، گھر میں مکڑی کے جالے لگے رہنے دینا ، نَماز میں سُستی کرنا ، گُناہ کرنا خُصُوصاً جھوٹ بولنا ، ماں باپ کیلئے دُعائے خیر نہ کرنا ، عِمامہ بیٹھ کر باندھنا اور پاجامہ یا شلوار کھڑے کھڑے پہننا ، نیک اعمال میں ٹال مٹول  کرنا ۔  

(تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص ۷۳ تا ۷۶)

رِزق میں بَرَکت کے طالب کو چاہیے کہ بے بَرَکتی کے ذِکر کردہ اسباب کا خیال رکھتے ہوئے ان سے نَجات کی ہر ممکن صورت میں کوشش کرے یہ بھی معلوم ہوا کہ کثرتِ گناہ کے سبب رِزق سے بَرَکت ختْم ہو جاتی ہے ، لہٰذا گناہوں سے ہر صورت بچنے کی کوشش کرے کہ گناہ، کثیر آفات و بَلِیَّات کے نُزول کا سبب بھی ہوتے ہیں  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کا مسلمان سخت گرمی میں روزگار کی تلاش میں مارا مارا توپھرتا ہے ، مگر بدقسمتی سے رِزق میں بَرَکت کے اس آسان اور یقینی حل کو اپنانے کیلئے تیار نہیں ۔ کاش! ہر مسلمان اَحکامِ اسلام پر صحیح معنوں میں کار بند ہو جائے تو بے روز گاری کا مُعامَلہ، جو آج بینَ الاقوامی مَسْئَلہ بن چکا ہے اس پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے ۔

نمازِ چاشت کی برکت

تنگدستی سے نَجات کے چند مَدَنی حل بیان کئے جاتے ہیں آپ بھی ہمہ تن گوش ہوکر سنئے اور عمل کی نیت بھی فرما لیجئے ۔ چنانچہ مشائخِ کِرام فرماتے ہیں  :  دوچیزیں کبھی جمع نہیں ہوسکتیں مُفلسی اور چاشت کی نماز (یعنی جو کوئی چاشت کی نماز کا پابند ہوگا ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کبھی مُفلس نہ ہوگا ) ۔  

حضرت شقیق  بَلْخِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی فرماتے ہیں  :   ہم نے پانچ چیزوں کی خَواہش کی تو وہ ہم کو پانچ چیزوں میں دستیاب ہوئیں ۔ (اس میں سے  ایک یہ بھی ہے ) کہ جب ہم نے روزی میں بَرَکت طلب کی تو وہ ہم کو نمازِچاشت پڑھنے میں مُیَسَّر ہوئی ۔ (یعنی رِزْق میں بَرَکت پائی)  (نزہۃ المجالس، باب فضل الصلوات لیلا ونہاراًومتعلقاتہا، ۱ /  ۱۶۶)

سورۂ واقعہکا ہمیشہ بالخُصوص بعدِ مغرب پابندی سے پڑھنا ۔ نمازِتَہَجُّد پڑھتے رہنا، توبہ کرتے رہنا اور فجر کی سُنَّتوں اور فرضوں کے درمیان ستّر بار اِسْتِغْفار کرنا ، گھر میں آیَۃُ الْکُرْسی اور سورۂ اِخْلاص پڑھنا اور بکثرت دُرُود شریف پڑھنا رزق میں بَرَکت کے اسباب میں سے ہے ۔ (سنی بہشتی زیور، ص ۶۰۹، ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          صاحبِ تحفۃُ الاخیارعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْغَفَّار نے ایک حدیثِ پاک نقل کی ہے کہ سرکارِ نامدار ، دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشادِ مُشکبار ہے  :  ’’جومجھ پر روزانہ پانچ سو بار دُرُود شریف پڑھے وہ کبھی مُحتاج نہ ہوگا  ۔ ‘‘ (المستطرف، الباب الرابع والثمانون، فیماجاء فی فضل الصلاۃ علی الرسول ، ۲ / ۵۰۸) (روح البیان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ : ۵۶، ۷ / ۲۳۱)پھر اس حدیث شریف کو نَقل کرنے کے بعد یہ واقعہ بیان فرمایا  : ’’ ایک نیک آدمی تھا اُس نے یہ حدیث سُنی تو غلبۂ شوق کے ساتھ پانچ سو بار دُرُود شریف کا روزانہ وِرْد شروع کردیا ۔ اِس کی بَرَکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اُس کو غَنی کردیا اور ایسی جگہ سے اُسے رِزق عطا فرمایا کہ اُسے پتا بھی نہ چل سکا ، حالانکہ اِس سے پہلے وہ مُفلِس اور حاجتمند تھا ۔  

امیرِ اَہلسنَّت دامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  : ’’ اگر کوئی شخص مَذکورہ تعداد میں دُرُودِپاک کا وِرد کرے اورمَذکورہ تنگدستی کے اسباب سے بچتے ہوئے اس سے نَجات کے حل بھی اپنائے ، مگر پھر بھی اس کا فَقْر (یعنی تنگدستی و محتاجی) دور نہ ہو تو یہ اس کی نیت کا فُتُور (یعنی فساد) ہے کہ اس کے باطن میں خرابی کی وَجہ سے کام نہیں بن سکا ۔  ‘‘

دَرْاَصْل دُرُودِپاک پڑھنے یا مذکورہ اسباب سے بچنے اورنَجات کے حل اپنانے میں نِیَّت اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہوتو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّمحتاجی ضَرور دُور ہوگی ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مُحتاجی صرف مال کی کمی کانام نہیں ہے بلکہ بسا اَوقات مال کی کثرت کے باوُجود بھی انسان مُحتاجی کا شکوہ کرتا ہے اور یہ مَذمُوم فِعْل ہے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّمذکورہ اعمالِ صالحہ کی بَرَکت سے قَناعت کی دولت نصیب ہوگی اور قناعت (یعنی جو مل جائے اس پر راضی رہنا ) ہی اَصْل میں غَنا (یعنی دولت مندی)ہے اور دُنیاوی مال کا حریص (یعنی لالچی) ہی حقیقت میں محتاج ہے ۔ کوئی خواہ کتنا ہی مالدار ہو ، قَناعت وہ خزانہ ہے جو کہ ختم ہونے والا نہیں اور دُنیاوی مال سے یقینا اَفضل ہے ، کیونکہ دُنیاوی مال فانی بھی ہے اور وبال بھی ، کہ قِیامت میں حساب دینا پڑے گا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!ہمیں مالِ دُنیا کی مَحَبَّت سے نَجات عطا فرما کرقَناعت کی لازَوال نِعمت نصیب فرما اورتنگدستی کے اسباب سے بچنے اور رزق کی قد رکرنے اور سنت کے مطابق کھانا کھانے کی توفیق عطافرما  ۔

 



Total Pages: 141

Go To