Book Name:Guldasta e Durood o Salam

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا رَحْمتوں بھرا پیام پہنچایا تو مجھے اس دس ہزاری دُرُود شریف کی تَصدیق ہوگئی اور میراگِریہ کرنا ( یعنی رونا ) اس خوشی سے تھا کہ عُلَمائے کِرام کا فرمان صحیح ثابِت ہوا کیونکہ حضور عَلَیْہِ السَّلام نے اِس پر گواہی دی ہے ۔ ‘‘(روح البیان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ ۵۶، ۷ /  ۲۳۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں اس ماہِ مُبارک کا اِحْتِرام کرنے ، اس میں زِیادہ سے زِیادہ عبادت کرنے اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 29

روزی میں بَرَکت

تاجدار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا  : ’’ جسے کوئی سخت حاجت در پیش ہو تو اسے چاہیے کہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھے ۔ کیونکہ یہ مصائب و آلام کو دور کردیتا اور روزی میں برکت اور حاجات کو پورا کرتا ہے ۔ ‘‘ (بستان الواعظین وریاض السامعین لابن جوزی، ص ۴۰۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ  وَجَلَّ!دیکھا آپ نے کہ دُرُودِپاک پڑھنے کی کس قدر برکات ہیں کہ فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مطابق دُرُود شریف روزی میں برکت کا سبب، حاجتوں کوپورا کرنے والا ، مُصیبتوں اور پریشانیوں کا دافع ہے ۔ آج اگرہم اپنے گرد و پیش پر طائرانہ نگاہ دوڑائیں تو ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگاکہ ہمارے معاشرے کا تقریباً ہر فرد ہی کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتارہے ، کوئی قرضدار ہے تو کوئی گھریلو ناچاقیوں کا شکار ، کوئی تنگدست ہے تو کوئی بے رُوزگار ، کوئی اَولاد کا طلبگار ہے تو کوئی نافرمان اَولاد کی وجہ سے بیزار ، الغَرَض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے ۔ ان میں سر فہرست، تنگ دستی اور رزق میں بے برکتی کا مسئلہ ہے ، شاید ہی کوئی گھرانا اس پریشانی سے محفوظ نظر آئے ۔ تنگ دستی کا سبب عظیم خود ہماری بے عملی ہے جس کو سورۂ شوریٰ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے  :   

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) (پ ۲۵، الشُّوریٰ : ۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان : اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایااور بہت کچھ تو مُعاف کردیتا ہے ۔

جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتُوت                              شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلہ ہے

دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت                               سچ ہے کہ بُرے کام کا انجام بُرا ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! افسوس صدافسوس! کہ آج ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے مشکل ترین دُنیوی ذَرائع استعمال کرنے کو تو تیار ہیں مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اسکے پیارے رَسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عطا کر دہ روزی میں بَرَکت کے آسان ذَرائع کی طرف ہماری توجُّہ نہیں ۔ آج کل بیروزگاری و تنگدستی کے گمبھیر مسائل نے لوگوں کو بے حال کردیا ہے ۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو تنگدستی کا شکار نہ ہو ۔ ان مسائل کے باعث ہر شخص پریشان ہے ہرفرد یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تنگدستی کے اس عذاب سے چھٹکارا مل جائے اور روزی میں برکت ہو جائے ۔ یادرکھئے ! اگرہم اپنے مسائل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے مطابق حل کرنے کی سَعیِ پیہم (مسلسل کوشش) کریں تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ دُنیا و آخِرت کی بے شمار بھلائیاں حاصل کرنے میں ضَرور کامیاب ہونگے ۔ چنانچہ

تَنْگدَسْتی سے نَجات کا ذَریعہ

            زبردست مُحَدِّث حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد عَلَیْہِ رَحْمۃُ الْمَاجِدکو خلیفۂ بغداد مامونُ الرشید نے اپنے ہاں مَدعو کیا ، طَعام سے فراغت کے بعد کھانے کے جو دانے وغیرہ گر گئے تھے ، مُحَدِّث موصوف چُن چُن کر تناوُل فرمانے لگے ۔ مامون نے حیران ہوکر کہا ، اے شیخ! کیا ابھی تک آپ کا پیٹ نہیں بھرا ؟ فرمایا :  کیوں نہیں ! دراصل بات یہ ہے کہ مجھ سے حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد بن سَلَمہ  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ نے ایک حدیث بیان فرمائی ہے کہ ’’جو شخص دسترخوان پر گرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائے گا وہ تنگدستی سے بے خوف ہوجائے گا ۔ ‘‘ (اتحاف السادۃالمتقین، الباب الاول، ۵ / ۵۹۷) لہٰذا میں اِسی حدیثِ مبارَک پر عمل کررہا ہوں ۔ یہ سُن کر مامون بے حد متأثر ہوا اور اپنے ایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار دینا ر رومال میں باندھ کر لایا ۔ مامون نے اس کو حضرتِ سیِّدُنا ہُدبہ بن خالِد علَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَاجِد کی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کردیا ۔  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرما یا اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ حدیثِ پاک پر عمل کی ہاتھوں ہاتھ بَرَکت ظاہر ہوگئی ۔ (یعنی بیٹھے بٹھائے مجھے ایک ہزار دینار حاصل ہونا حدیثِ مذکور پر عمل ہی کی بَرَکت سے ہے )  (ثمرات الاوراق ، ۱ /  ۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے ! جس طرح روزی میں بَرَکت کی وجوہات ہیں اِسی طرح روزی میں تنگی کے بھی اسباب ہیں اگر ان سے بچا جائے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ روزی میں بَرَکت ہی بَرَکت ہوگی ۔ کیونکہ رِزق میں بَرَکت کے طالب کیلئے ضَروری ہے کہ وہ پہلے بے بَرَکتی کے اسباب سے آگاہی حاصل کرکے ان سے چُھٹکارا حاصل کرے ، تاکہ رِزق میں بَرَکتکے ذَرائع حاصل ہونے میں کوئی رُکاوٹ پیش نہ آئے ۔ آپ کی معلومات کے لئے تنگدستی کے چند اَسباب بیان کیے جاتے ہیں ۔ چُنانچہ

تَنْگدَسْتی کے اَسباب

 



Total Pages: 141

Go To