Book Name:Guldasta e Durood o Salam

میں مُشْرِک ، بُغْض رکھنے والے اور قَطْع رِحمی کرنے والے اور تکبُّر کی وَجہ سے اپنے تہبند کو لٹکانے والے اور والدین کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا  ۔ ‘‘( الترغیب والترہیب، کتاب الصوم، باب التر غیب فی صوم شعبان ، ۲ / ۷۳، حدیث :  ۱۱)

آتش بازی کا مُوجد کون؟

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ شبِ بَراء ت جہنَّم کی آگ سے بَرائَ ت یعنی چُھٹکارا پانے کی رات ہے ۔ مگر آج کل کے مسلمانوں کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے کہ وہ آگ سے چُھٹکارا حاصِل کرنے کے بجائے پیسے خرچ کرکے خود اپنے لئے آگ یعنی آتَش بازَی کاسامان خریدتے ہیں اور اِس طرح خُوب خُوب آتَش بازی چلا کر اِس مُقدَّس رات کا تَقدُّس پامال کرتے ہیں ۔ مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں  :  ’’آتَش بازی نَمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اس نے حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تو اس کے آدمیوں نے آگ کے اَنار بھر کر ان میں آگ لگا کر حضرتِ خَلِیْلُ اللّٰہ عَلَیْہِ السَّلام کی طرف پھینکے ۔  (اسلامی زندگی، ص۶۳ )

          ہائے افسوس! آتَش بازی کی ناپاک رَسم اب مسلمانوں میں زور پکڑتی جارہی ہے ، مسلمانوں کا کروڑہا کروڑ روپیہ ہر سال آتَش بازی کی نَذْر ہوجاتا ہے اور آئے دِن یہ خبریں آتی ہیں کہ فُلاں جگہ آتَش بازی سے اِتنے گھر جل گئے اور اِتنے آدَمی جُھلس کر مرگئے وغیرہ وغیرہ ۔ اِس میں جان کا خطرہ، مال کی بربادی اور مکان میں آگ لگنے کا اَندیشہ ہے ، پھر یہ کام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی بھی ہے ۔ حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  :  ’’آتَش بازی بنانا ، بیچنا ، خریدنا اور خریدوانا ، چَلانا اور چلوانا سب حرام ہے ۔ ‘‘ (اسلامی زندگی، ص ۶۳)

اے خاصۂِ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا ہے            اُمّت پہ تِری آکے عَجَب وَقْت پڑا ہے

فَریاد ہے ا ے کِشتی ٔاُمّت کے نگہباں                بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگاہے

            آہ!دین سے دُوری کے سبب آج مسلمانوں کی اکثریت اس مُتبرَّک و مُقدَّس رات کوبھی عام راتوں کی طرح غَفْلَت کی نَذرکر دیتی ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ اس مُبارک رات کا اِحتِرام کریں اورساری رات آتَش بازی میں گزارنے کے بجائے اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کریں اورزِیادہ سے زِیادہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ گرامی پر دُرُودِپاک کے گجرے نچھاور کرتے رہیں اور ہو سکے تو کوئی ایسا دُرُودِ پاک پڑھتے رہیں کہ جس کو کم تعدادمیں پڑھنے سے زیادہ دُرُود شریف پڑھنے کا ثواب ملتا ہو جیساکہ عُلَمائے کِرام فرماتے ہیں کہ جو شخص دس ہزاری دُرُود شریف ایک بار پڑھ لے تو گویا اُس نے دس ہزار بار دُرُود شریف پڑھے ۔ آئیے حُصُولِ بَرَکت کے لئے آپ بھی دس ہزاری دُرُود شریف سُن لیجئے !

دس ہزاری دُرُود شریف

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ مَّااخْتَلَفَ الْمَلَوَانِ وَتَعَاقَبَ الْعَصْرَانِ وَکَرَّ الْجَدِیْدَانِ وَاسْتَقَلَّ الْفَرْ قَدَانِ وَبَلِّغْ رُوْ حَہٗ وَاَرْوَاحَ اَھْلِ بَیْتِہٖ مِنَّا التَّحِیَّۃَ وَالسَّلَامَ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ عَلَیْہِ کَثِیْرًا ترجَمہ :  اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!  ہمارے سردار محمد( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پر دُرُود بھیج جب تک کہ دن گردش میں رہیں اور باری باری آئیں صُبح و شام اور باری باری آئیں رات دن ، اور جب تک کہ دو ستارے بُلندہیں اور ہماری طرف سے آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کی اور اَہلِبیت (رِضْوَانُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعیْن )کی اَرواح کو سلام پہنچا اور بَرَکت دے اور ان پر بَہُت سلام بھیج ۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ! ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ ہم پر کتنامہربان ہے کہ ہمارے ایک بار دُرُود شریف پڑھنے پر ہمیں دس ہزار دُرُود پاک کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ آئیے اس ضِمن میں ایک حکایت بھی سنتے چلئے جس میں جنابِ صادق و امین علَیْہ اَفضَلُ الصَّلٰوۃِ والتّسْلِیمِ کی زبانِ مُبارک سے دُرُودِ ہزاری کے بارے میں علمائے کرام کے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے کہ جس نے دس ہزاری دُرُود شریف ایک بار پڑھا تو گویا اس نے دس ہزار بار دُرُود شریف پڑھا ۔ چنانچہ

ہر رات ساٹھ ہزار دُرُودِ پاک

            حضرتِ سُلطان محمود غزنوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکی خدمت میں ایک شخص حاضِر ہوا اور عرض کی کہ میں مُدّتِ مَدید سے حبیبِ ربِّ مجید صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دید کی عیدِ سعید کا آرزو مند تھا قسمت سے گزَشتہ رات سرورِ کائنات ، شاہِ موجودات  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت کی سعادت مِلی ۔

حُضُورمُفِیْضُ النُّور، شاہِ غَیُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَسرور پاکر عرض کی  :  یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں ایک ہزار دِرہم کا مقروض ہوں ، اِس کی ادائیگی سے عاجِز ہوں اور ڈرتا ہوں کہ اگر اسی حالت میں مرگیا تو بارِقرض (یعنی قرض کا بوجھ) میری گردن پر ہوگا ۔ رَحْمتِ عالَم ، نورِمُجسَّم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  :  ’’محمود سُبُکْتَگِین کے پاس جاؤ وہ تمہا را قرض اُتار دے گا ۔ ‘‘میں نے عرض کی  :  وہ کیسے اعتِماد کریں گے ؟ اگر اُن کیلئے کوئی نِشانی عنایت فرمادی جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا ۔ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  :  ’’جاکر اس سے کہو :  اے محمود! تم رات کے اَوَّل حصّے میں تیس ہزار بار دُرُود پڑھتے ہو اور پھر بیدا ر ہوکر رات کے آخِری حصّے میں مزید تیس ہزار بار پڑھتے ہو  ۔ اِس نشانی کے بتانے سے  وہ تمہارا قرض اُتار دے گا ۔ ‘‘ سلطان محمود عَلَیْہِِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُود نے جب شاہِ خیرُالْاَنامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا رَحْمتوں بھرا پیغا م سنا تو رونے لگے اور تَصدیق کرتے ہوئے اُس کا قرض اُتار دیا اور ایک ہزار دِرْہم مزید پیش کئے ۔ وُزَراء وغیرہ  مُتَعَجِّبہوکر عرض گزار ہوئے ۔ عا لیجاہ ! اِس شخص نے ایک ناممکن سی بات بتائی ہے اور آپ نے بھی اس کی تَصدیق فرمادی ؟ حالانکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضِر ہوتے ہیں آپ نے کبھی اتنی تعداد میں دُرُود شریف پڑھا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی آدَمی رات بھر میں ساٹھ ہزار بار دُرُود شریف پڑھ سکتا ہے ۔ سلطان محمود عَلَیْہِِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُود نے فرمایا  : ’’تم سچ کہتے ہو لیکن میں نے عُلَمائے کِرام سے سنا ہے کہ جس شخص نے دس ہزاری دُرُود شریف ایک بار پڑھ لیا تو گویا اُس نے دس ہزار بار دُرُود شریف پڑھے ۔ میں تین بار اوّل شب میں اور تین بار آخرِ شب میں یہ دُرُود شریف پڑھ لیتا ہوں ۔ میرا گمان تھا کہ اِس طرح گویا میں ہر رات ساٹھ ہزار بار دُرُود شریف پڑھتا ہوں ۔ جب اس خوش نصیب عاشقِ رسول نے سلطانِ دو جہاں ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ



Total Pages: 141

Go To