Book Name:Guldasta e Durood o Salam

ضامن ہو جائیں ، تو فرمایا  : میں تمہارا ضامن ہوں اورتمہارا خاتمہ بالخیر ہوگا ۔ ‘‘پھر میں نے دُعا کی دَرخواست کی تو آپ عَلَیْہِ السَّلام  نے ارشاد فرمایا :  مجھ پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنا لازم کرلو اور فُضُولیات سے کنارہ کَشی اِختیار کرو ۔    (سعادۃالدارین ، الباب الرابع فیما ورد من لطائف المرائی الخ، اللطیفۃ السابعۃ، ص۱۲۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی ذاتِ طیبہ پر کثرت سے دُرُودوسلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور دُرُود و سلام کی بَرکتوں سے مالا مال فرما ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 28

حضرتِ علی  رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ  کی کرامت

            ایک دفعہ یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس ایک سائل نے آکر سوال کیا ۔ اُنہوں نے اَزراہِ مَذاق کہا ، وہ علی کھڑا ہے وہ اَمیر آدمی ہے اس کے پاس جاؤ وہ تمہیں بہت کچھ دے گا ۔ حالانکہ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اس وَقت خُودتہی دَست تھے ۔ سائل آپ کے پاس آیا اور آتے ہی سوال کیا ۔ آپ اپنی مومنانہ فَراست سے بھانپ گئے کہ یہ یہودیوں کی شَرارت ہے ۔ چُنانچہ آپ نے دس بار دُرُود پڑھ کر سائل کے ہاتھ پر دم کر دیا اور فرمایا ، اس مٹھی کو یہودیوں کے پاس جاکر کھولنا ۔ جب وہ یہودیوں کے پاس گیا تو اُنہوں نے پوچھا کہ کیا دیا ہے ؟ اِس پر اُس سائل نے ان کے سامنے ہتھیلی کھولی تو اس میں دس اَشرفیاں موجود دیکھ کر یہود دَم بخود رہ گئے اور کئی ایک یہودی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ کرامت دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔  (راحۃ القلوب ، ص ۷۲، مفہوماً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شعبان میرا مہینہ ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یوں تو اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے جب کبھی ہمیں موقع ملے حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کی ذات ِبابَرَکات پر دُرُود ِپاک کے پھول نچھاور کرتے ہی رہنا چاہئے اور پھر ماہ شَعْبانُ الْمُعَظَّم میں تو خاص طور پر کثرت کے  ساتھ دُرُودوسلام پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے ، کیونکہ یہ وہ خوش نصیب مہینہ ہے جس کی نِسبت ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنی طرف کرتے ہوئے فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے جیسا کہ نبی اکرم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظم ہے  :  ’’شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ اللّٰہِ، یعنی شعبان میرا مہینہ ہے اور رَمَضان اللّٰہ تَبارَکَ وَتَعالٰی کا مہینہ ہے ۔ (جامع صغیر، حرف الشین،  ص :  ۳۰۱، حدیث : ۴۸۸۹)

شعبان میں دُرُودِ پاک کی کثرت

          یاد رکھئے ! یہ دونوں مہینے اِنتہائی بَرَکت والے ہیں ۔ ان میں نیکیوں کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے اور نیکیوں کے دَروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، بَرَکات کا نُزُول ہوتا ہے ، خطائیں تَرک کردی جاتی ہیں اور گُناہوں کا کَفّارہ ادا کیا جاتا ہے ، لہٰذا ہمیں بھی ان دونوں مُبارک مہینوں کا اِحتِرام کرتے ہوئے ان میں زِیادہ سے زِیادہ عبادت کرنی چاہئے اور اپنے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابَرَکت پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنا چاہیے ، یوں بھی یہ مہینہ آپ عَلَیْہِ السَّلام پر دُرُود شریف پڑھنے کا مہینہ ہے ۔ چنانچہ غُنیۃ الطَّالبین میں ہے کہ شَعْبانُ الْمُعَظَّم میں خیرُالْبَرِیّہ سیِّدُ الْوَریٰ جنابِ محمّدِمُصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود پاک کی کثرت کی جاتی ہے اور یہ نبیِّ مُختار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنے کا مہینہ ہے  ۔ (غنیۃ الطّالبین، مجلس فی فضل شہر شعبان، ۱ / ۳۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شعبان کی آمد پر اَسلاف کا معمول

          صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کا معمول تھا کہ اس مُبارک مہینے کی آمد ہوتے ہی اپنا زِیادہ تر وَقت نیک اَعمال میں صرف کرتے ۔ چُنانچہ

            حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  :  ’’ماہِ شَعْبانُ الْمُعَظَّم کا چاند نظر آتے ہی صَحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان تِلاوت ِقرآنِ پاک میں مشغول ہو جاتے ، اپنے اَموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ کمزور ومسکین لوگ ماہِ رَمَضَان المُبارَک کے روزوں کے لئے تیاری کرسکیں ، حُکّام قیدیوں کو طَلَب کرکے جس پر حَد (یعنی سزا) قائم کرنا ہوتی اُس پرحَد قائم کرتے بقیّہ کو آزاد کر دیتے ، تاجِر اپنے قرضے اَدا کردیتے ، دوسروں سے اپنے قرضے وُصُول کر لیتے ۔ (یوں ماہ ِ رَمَضانُ الْمبارَک کا چاند نظر آنے سے قبل ہی اپنے آپ کو فارِغ کر لیتے ) اور رَمَضان شریف کا چاند نظر آتے ہی غُسل کر کے (بعض حضرات پورے ماہ کے لئے ) اِعتِکاف میں بیٹھ جاتے  ۔ ‘ ‘(غنیۃ الطالبین، مجلس فی فضل شہر شعبان، ۱ /  ۳۴۱)

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ! پہلے کے مُسلمانوں کو عِبادت کا کِس قَدَر ذَوق تھا! مگر افسوس ! آج کل کے مُسلمانوں کو زیادہ تر حُصُولِ مال ہی کا شوق ہے ۔ پہلے کے مَدَنی سوچ رکھنے والے مسلمان مُتَبرَّک اَیّام میں رَبُّ الانام عزَّوَجَلَّکی زِیادہ سے زِیادہ عبادت کرکے اُس کا قُرب حاصِل کرنے کی کوشِش کرتے تھے اور آج کل کے مُسلمان اِن مُبارک اَیّام کی قدرتک نہیں کرتے اور اپنا قیمتی وَقت فُضُولیات میں برباد کردیتے ہیں ۔ حالانکہ اس مہینے میں شبِ براء ت ایسی مُبارک رات ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں بے شُمار لوگوں کی بَخشِش فرما کر انہیں جہنَّم سے آزادی عطا فرماتا ہے ۔ چُنانچہ

نِصْف شعبان کی فَضیلت

            اُمُّ المومنین حضرت ِ سَیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقہ  رَضِی اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ بخشِش نشان ہے  : ’’ میرے پاس حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام آئے اور عرض کی کہ یہ نصف شعبان کی رات ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس رات میں بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنَّم سے آزاد فرماتا ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس رات



Total Pages: 141

Go To