Book Name:Guldasta e Durood o Salam

’’کیا آج آپ نے اپنے شجرہ کے کچھ نہ کچھ اَوراد اورکم از کم ۳۱۳بار دُرُود شریف پڑھ لئے ؟‘‘ یہی وَجہ ہے کہ تبلیغِ قُرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا طرّۂ امتیاز ہے کہ اس سے وابستہ اسلامی بھائی اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ نہ صرف خود دُرُودِ پاک کی کثرت کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ دُرُود شریف کو اپنے روز و شب کے معمولات میں شامل کرلیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت ِ سَیِّدُناشیخ ابوالعباس تیجانی قُدِّ سَ سِرُّہُ النُّورانی نے ایک طالب علم کے پاس خط بھیجااور اس میں بِسْمِ اللّٰہاور صلوٰۃ و سلام کے بعد لکھا کہ میں جس چیز کی تجھے نَصیحت ووصیَّت کرتاہوں وہ یہ ہے کہ َصفا ئے قلب کے ساتھ ظاہر وباطن، ہر حال میں رَبّ عَزَّوَجَلَّکے حکم کی مُخالفت سے بچتے رہنا اور دل سے اس کی طرف متوجہ رہنا اورہر حال میں اسکے حکم پر راضی رہنا، بَہر صُورت اس کی تَقدیر پر صبر کرتے رہنا ، ان تمام اُمور میں بَقدرِ اِستطاعت حُضُورِ قلب کے ساتھ بکثرت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرنا اور اس سے مَدد چاہنا ۔ جن اُمور کی میں نے تجھے وَصیَّت کی ہے ان میں وہ تیری مَدد کرے گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاسب سے بڑھ کرمُفید ذِکر رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حُضُورِقلب کے ساتھ دُرُود بھیجنا ہے ۔ بلاشُبہ یہ دُنیوِی اور اُخروی تمام مَقاصد کے حُصُول کا ضامن اور تمام مُشکلات کا حل ہے اور جو شخص اس پر عمل کرے گا وہی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاسب سے بڑھ کربَرگُزیدہ ہوگا ۔           (سعاد ۃ الدارین، ص۱۰۹، ایضاً)

لُطفِ الٰہی کا ذریعہ

            حضرت سَیِّد احمد دَحلان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرحمٰن اپنی کتاب تَقریبُ الاصول میں اِبن عَطا کایہ قول نَقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’جو شخص کثرت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا لُطف اس سے کبھی جدا نہیں ہوگا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کو کبھی غیر کا محتاج نہیں رکھتا ۔ ‘‘

ذِکْر کی اَفْضل ترین قِسم

علاَّمہ  نَبْہانی قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبَّانیفرماتے ہیں  : ’’دُرُود شریف سے ذِکرکی تَجدید ہوتی ہے ۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہحُضُور عَلَیْہِ السَّلام پر دُرُود شریف پڑھنا ذِکر خُداوندی عَزَّوَجَلَّ کی اَفْضل ترین قسموں میں سے ہے  ۔ ‘‘(سعادۃ الدارین، المسئلۃ الرابعۃ فی سبب مضاعفۃ اجرالصلاۃ علیہ، ص۵۱)

دُرُود کئی نیکیوں کا مَجْمُوعہ ہے

اِحْیا ء العلوم کی شرح میں ہے حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑھے جانے والے دُرُودِپاک کے ثواب میں (بے پناہ) اِضافہ کردیا جاتا ہے کیونکہ دُرُود شریف مَحض ایک نیکی نہیں بلکہ کئی نیکیوں کا مَجموعہ ہے وہ اس طرح کہ  (۱)اللّٰہعَزَّوَجَلَّپر ایمان کی تجدید ہوتی ہے  ۔ (۲)پھر رسُول اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان کی تجدید ہوتی ہے ۔ (۳)پھرآپ عَلَیْہِ السَّلام کی تَعْظِیم کی تجدید ہوتی ہے ۔ (۴)پھر آپ عَلَیْہِ السَّلام  کے لئے عزَّت وعَظْمَت طلب کی جاتی ہے  ۔ (۵)پھرروزِقِیامت پر ایمان کی تجدید اورکئی طرح کی بُزرگیوں کی طلب ہوتی ہے ۔ (۶)پھر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ذِکر کی تجدید ہوتی ہے اور نیکوں کے ذِکرکے وَقت رَحمت نازل ہوتی ہے ۔ (۷) پھر آپ عَلَیْہِ السَّلام  کی آل کے ذکر کی تجدید ہوتی ہے کیونکہ آل کی نِسبت بھی آپ عَلَیْہِ السَّلام ہی کی طرف ہے ۔ (۸)اس سے اِظہار ِمَحَبَّت کی تجدید ہوتی ہے کیونکہ خود حُضُور عَلَیْہِ السَّلام نے اپنی اُمَّت سے اپنے اَہلِ قرابت کی مَحَبَّت کے سوا کسی چیز کا سوال نہیں کیا ۔ (۹)پھر اس میں دورانِ عاجزی دُعاکرنا اور گڑگڑانا ہے اور دُعا عبادت کا مغز ہے ۔ (۱۰)پھر اس میں اِعتراف ہے کہ تمام اختیار اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہے اور یہ کہ نبیِّ کریم عَلَیْہِ السَّلام  اپنی تمام شان و شوکت اور مرتبے کے باوجود رَحمتِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّ کے مُحتاج ہیں  ۔ پس یہ دس نیکیاں ان کے سواہیں جس کا شریعت نے ذِکرکیا ہے کہ ایک نیکی دس کے برابر ہے ۔  (سعادۃ الدارین ، ص ۵۱ایضاً)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تاجدارِ رسالت ، مَنبعِ جُود وسخاوت، قاسِمِ نِعمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف کی کثرت اپنے اوپر لازم کر لیجئے کہ دُرُودِپاک بیماریوں سے شِفادیتا ہے اور مَصائب و آلام کو دُور کردیتا ہے اور بسااوقات درود پاک کے وسیلے سے بگڑی بھی بن جاتی ہے ۔ چُنانچہ

اَنوکھا مِنْبر

            حضرت سَیِّدُنا احمد بن ثابِت علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الواحِد فرماتے ہیں  :  ’’نبیِّ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنے سے مُتعلِّق جو مُشاہَدات مجھے کرائے گئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں نے خَواب میں دیکھا کہ جنگل میں ایک مِنْبر ہے جس پر میں چڑھ بیٹھا، جب میں اس کی سیڑھیوں پر چڑھ گیا تومیں نے زمین کی طرف نظر کی تو کیا دیکھتاہوں کہ زمین سے دُورہَو امیں ایک منبر ہے ، میں کئی دَرَجے اُوپر چڑھ گیا ، جب مڑکر دیکھا تو صرف وہ درجہ نظر آیا جس پر میرے پاؤ ں تھے باقی کچھ نظر نہ آیا ، میں نے دُرُود وسلام کا واسطہ دے کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعاکی  :  یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! مجھے سلامتی کی راہ چلا ۔  اتنے میں پُل صِراط کی مانند ایک سیاہ دھاگہ دکھائی دیا ، میں نے دل میں سوچاکہ ہو نہ ہو یہ پُل صِراط ہے جس نے مجھے آگھیراہے ، میرے پا س اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے فَضل وکرم اور رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودوسلام کے سوا کوئی عمل ایسا نہیں تھا جو اس کٹھن اور دُشوار گُزار منزل کو عُبُور کرنے میں کام آئے ۔

            اتنے میں ہاتفِ غیبی سے یہ آواز سنائی دی کہ اگرتم اس منزل کو عُبُور کرلو تو اُس پار رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوانکی مُلاقات سے مشرَّف ہوگے ، یہ بات سن کرمیں پھولے نہ سمایا اور میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی جناب میں دُرُود و سلام کا وسیلہ پیش کیا تو دَفعۃً مجھے ایک نُورانی بادل نے اُٹھا کر رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَدموں میں لاڈالا، کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار عَلَیْہِ السَّلام تشریف فرما ہیں اور آپ کے دائیں جانب حضرتِ سیِّدُنا صدیقِ اکبر رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ ، بائیں جانب حضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اعظم رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ، آپ کے عَقب میں حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ موجود ہیں اور حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بھی آپ کے رُوبرو کھڑے ہیں ، میں نے عرض کیحُضُور! آپ میرے



Total Pages: 141

Go To