Book Name:Guldasta e Durood o Salam

ذَریعہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابرکت پر دُرُود ِپا ک پڑھنا بھی ہے اور یہ وہ بہترین عمل ہے کہ جو شخص اس کا عادی ہو اس سے نہ صرف سرکار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوش ہوتے ہیں بلکہ اسے اپنے دِیدار سے بھی مُشرَّف فرماتے ہیں نیز اللّٰہعَزَّوَجَلَّاور اس کے معصوم فِرِشتے اس کا ذِکر آسمانوں میں کرتے ہیں ۔ چنانچہ

            صاحبِ’’تَنْبیہُ الْاَنام‘‘ حضرت عَبدُالْجَلِیْل مَغْرَبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ القوی نے دُرُودِپاک کے فَضائل پر جو کِتاب لکھی ہے ۔ اُس کے مُقدمہ میں فرماتے ہیں  : ’’ مَیں نے اِس کے بے شُمار بَرَکات دیکھے اور بارہا سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت نصیب ہوئی ۔  ‘‘اِسی ضِمن میں فرماتے ہیں کہ ایک بار خَواب میں دیکھا کہ ماہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطَّر پسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں ، چہرئہ انور کی تابانی سے پورا گھر جگمگا رہا ہے ۔ میں نے تین مرتبہ عرض کی ، ’’اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ اللّٰہ ‘‘یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !میں آپ کے جوار میں ہوں اور آپ کی شَفاعت کا اُمید وار ہوں نِیز میں نے دیکھا کہ میرا ہمسایہ جو کہ فوت ہوچکا تھا مجھ سے کہہ رہا ہے  : ’’توحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اُن خُدَّام میں سے ہے جو ان کی مَدح سَرائی کرنے والے ہیں ۔ ‘‘میں نے اُس سے کہا کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ اس پر اُس نے کہا :  ’’ہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! تیر ا ذِکر آسمانوں میں ہورہاتھا ۔ ‘ ‘اور میں نے دیکھا کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہماری گفتگو سُن کر مسکرارہے ہیں  ۔ اتنے میں میری آنکھ کھل گئی اور میں نہایت ہشاش بَشَّاش تھا ۔  (سعادۃ الدارین، الباب الرابع  فیماوردمن لطائف المرائی والحکایاتالخ، اللطیفۃ الثانیۃ والتسعون، ص۱۵۱)

 

تُم کو تو غُلاموں سے ہے کچھ ایسی مَحَبَّت

ہے ترکِ ادب ورنہ کہیں ہم پہ فِدا ہو(ذوقِ نعت ، ص۱۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جتنا گُڑ، اتنا میٹھا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رہے کہ جب بھی دُرُودِ پاک پڑھا جائے تو انتہائی شوقمَحَبَّت میں ڈوب کر بصد عَقیدت و اِخلاص پڑھا جائے کہ جس قَدر مَحَبَّتواِخلاص زیادہ ہوگا اَجرو ثواب بھی اسی قَدر زِیادہ ہوگا اور یقینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اعمال کی قَبولیَّت کا دارومدار اِخلاص و تقویٰ پر ہے جیساکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے  :

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ- (پ۱۷، الحج : ۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان  : اللّٰہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خُون ، ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے ۔

حضرتسَیِّدُنا عبد العزیز دَبَّاغ عَلَیْہ رَحْمَۃُ ربِّ الْعِبادنے ’’اَلْاِبْرِیْز‘‘ کے باب سوئم میں ایک سلسلۂ کلام کے بعد فرمایا : ’’اسی لئے تم دیکھو گے کہ دو شخص نَبِیِّ مُعَظَّم، رَسُولِ مُحتَرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود شریف پڑھتے ہیں ، ایک کو تو تھوڑا سا اَجر ملتا ہے جبکہ دوسرے کو اتنا زِیادہ ثواب ملتا ہے جس کا نہ تو بیان کیا جاسکتاہے اور نہ شُمار کیا جاسکتا ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے شخص کی زبان سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود غَفْلَت کے ساتھ نکل رہا ہے اس کا دل اَور بہت سی باتوں سے بھرا پڑا ہے گویا اس کی زبان سے دُرُود شریف مَحض ایک عادت کی بنا پر نکل رہا ہے اسی لئے اسے کم اَجر ملا ۔ اور دوسرے کی زبان سے دُرُود شریف مَحَبَّت وتَعْظِیم کے ساتھ نکلا ہے ، مَحَبَّتاس لئے کہ وہ اپنے دل میں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی جَلالت و عَظْمَت کاتَصوُّر کرتا ہے اور یہ تَصوُّر بھی کرتا ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کائنات کے وجود میں آنے کا سبب ہیں اور ہر نور آپ ہی کے نور سے ہے اور یہ کہ آپ کائنات کے لئے رَحمت اور ہدایت ہیں اور یہ کہ اگلوں پچھلوں سب کے لئے رحمت اور مخلوق کی ہدایت، آپ ہی کی طرف سے اور آپ ہی کے صَدقے سے ہے ۔ پس وہ آپ عَلَیْہِ السَّلام کی عزَّت وعَظْمَت کے پیشِ نظر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود شریف پڑھتا ہے نہ کہ کسی اور وَجہ سے جس کا تعلُّق آدمی کے اپنے ذاتی مَفاد سے ہو ۔ ‘‘(الابریز، الباب الثالث فی ذکرالظلام الذی یدخل علی ذوات العبادالخ ، ۱ / ۴۴۶)

            پس جب آدمی کی زبان سے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   پر دُرُود شریف نکلتاہے تو اس کا اَجر حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کے مرتبے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے فَضل وکرم کے مطابق ہی ملتا ہے کیونکہ اس دُرُود شریف پڑھنے کا سبب اور اس پر آمادہ کرنے والی چیز آپعَلَیْہِ السَّلام کی یہی قَدرومنزلت ہے لہٰذا دُرُود شریف پر جو اَجر وثواب ملتاہے اس کا دارومدار بھی اسی مَحَبَّت کے جَذبے کے مطابق ہوگا ، پہلے شخص کے دُرُود پڑھنے میں جَذبہ اس کا ذاتی مَفاد ہے  ۔ لہٰذا اس کا ثواب بھی اس کے مطابق ملے گا ، یہی حال اس عمل کا ہے ، جو بندہ اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّکے لئے بجالاتا ہے ۔ جب اس نیک عمل پر اُبھارنے والا جَذبہ َربّ کی  عَظْمَت و جلال اور رِفعت وکِبریائی ہو تو اس کا اَجر بھی رَبّ کی عَظْمَت کے مطابق ہوگا اور جب اس عمل پر اُبھارنے والی صرف بندے کی اپنی غرض ہو اور اس کی اپنی ذات کی طرف لوٹنے والا مَفاد ہوتواَجروثواب بھی اسی کے مطابق ہوگا ۔

          لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھیں کہ دُرُودِ پاک اور کسی بھی عملِ صالح سے مَقصود دُنیاوِی اَغراض کا حُصول یامسائل کا حل نہ ہوبلکہ رضائے رَبُّ الانامعَزَّوَجَلَّ اور خوشنودیٔ شہنشاہِ خیرُ الانام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی ہمارا مطلوب ومقصود ہو ۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور حضورعَلَیْہِ السَّلام پر بکثرت دُرُود و سلام پڑھنے کی توفیق عطافرمائے ۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

 



Total Pages: 141

Go To