Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھا کرو ۔ ‘‘ میں نے نَصیحت طلب کی تو فرمایا  : ’’لذَّتوں کو توڑنے والی، باپوں اور ماؤں کوقتل کرنے والی ، بیٹوں اور بیٹیوں کو (ماں ، باپ) سے جدا کرنے والی اورخالقُ السَّموات والارض کے ماسوا کی رُوحوں کو کھینچ لینے والی موت کو یا د رکھا کرو!‘‘ اس پرمیں بیدار ہوگیا ۔   (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات، اللطیفۃ السادسۃ، ص۱۲۴، ملخصاً)

بے وَفا دُنیا پہ مت کر اِعتبار                                         تو اچانک موت کا ہو گا شکار

موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ                                     جان جا کر ہی رہے گی یادرکھ

جب فِرِشتہ موت کا چھا جائے گا                                  پھر بچا کوئی نہ تجھ کو پائے گا

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے                                 کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت میں ہمارے لئے نصیحت کے بے شُمار مَدنی پھول ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ جانکَنی کے کڑے اور کٹھن وقت میں دُرُودِ پاک کی کثرت ہماری مشکلوں کو آسان کردے گی اور اس کی بَرَکت سے ہمیں موت کی سختیوں سے نَجات حاصل ہوجائیگی ۔  روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان کی رُوح اس کے جسم سے جُدا ہورہی ہوتی ہے تو وہ بڑی آزمائش کا وَقت ہوتا ہے ۔ چنانچہ

موت کانٹے دار شاخ کی مانِنْد ہے

          امیرُالمؤمنینحضرت سَیِّدُنا عُمر فارُوقِ اَعظم  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے حضرت سَیِّدُنا کعبُ الْاحْبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہسے فرمایا  :  ’’اے کعبرَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہ !ہمیں موت کے بارے میں بتاؤ ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُناکعبُ الْاحْباررَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ موت اُس ٹہنی کی مانند ہے جس میں کثیر کانٹے ہوں اور اُسے کسی شخْص کے پیٹ میں داخل کیا جائے اور جب ہر کانٹا ایک ایک رگ میں پیوسْت ہو جائے پھر کوئی کھینچنے والا اُس شاخ کوزور سے کھینچے تو وہ( کانٹے دار ٹہنی) کچھ( گوشت کے ریشے وغیرہ)ساتھ لے آئے اور کچھ باقی چھوڑ دے  ۔ ‘‘ (مکاشفۃالقلوب،  ص۱۶۸)

تکالیفِ موت کا ایک قطرہ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی بے حد تشویشناک مُعامَلہ ہے ۔ بندہ جب بُخار یا دَردِ سر وغیرہ میں مبتلاہوتاہے تو اُس سے کسی بات میں فیصلہ کرنا دُشوار ہوجاتا ہے ۔ پھر نزع کی تکالیف توبہُت ہی زیادہ ہوتی ہیں ۔ ’’شرحُ ا لصُّدور‘‘ میں ہے ، ’’ اگر موت کی تکالیف کا ایک قطرہ تمام آسمان وزمین میں رہنے والوں پر ٹپکا دیا جائے تو سب کے سب ہَلاک ہوجائیں  ۔ ‘‘

(شرح الصدور، باب من دنا اجلہ وکیفیۃ الموت وشدتہ، ص۳۲ )

سُوئے خاتمہ سے امن چاہتے ہو تو!

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تشویش ...... تشویش ...... نہایت ہی سخت تشویش کی بات ہے ، ہم نہیں جانتے کہ ہمارے بارے میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خُفْیہ تَدبیر کیا ہے ، نہ معلوم ہمارا خاتمہ کیسا ہوگا! حُجّۃُ الْاسلام حضرت سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالی کا فرمانِ عالی ہے  : ’’ بُرے خاتمے سے اَمن چاہتے ہو تو اپنی ساری زِندگی  اللّٰہُ ربُّ الْعزّتعزَّوجلَّ کی اِطاعت میں بسر کرو اور ہر ہر گُناہ سے بچو، ضَروری ہے کہ تم پر عارِفین جیسا خوف غالب رہے حتّٰی کہ اس کے سبب تمہارا رونا دھونا طویل ہو جائے اور تم ہمیشہ غمگین رہو ۔ ‘‘ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں  :  تمہیں اچّھے خاتمے کی تیاری میں مشغول رہنا چاہئے ۔ ہمیشہ ذکرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیں لگے رہو، دل سے دُنیا کی مَحَبَّت نکال دو، گُناہوں سے اپنے اَعضاء بلکہ دل کی بھی حِفاظت کرو، جس قَدر ممکن ہو بُرے لوگوں کو دیکھنے سے بھی بچو کہ اس سے بھی دل پر اثر پڑتا ہے اورتُمہارا ذِہن اُس طرف مائل ہو سکتا ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان معنی سوء الخاتمۃ، ۴  / ۲۱۹، مُلخصاً )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطافرمااوراس کی بَرَکت سے ہمیں موت کی سختیوں سے نجات ، ایمان پر خاتمہ اور وَقتِ نزع اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے حَسین جلوے دکھا ۔

نزع کے وَقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا

تیراکیا جائے گا میں شاد مروں گا یارَبّ!   (وسائلِ بخشش ، ص۹۰)

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 26

خُدا چاہتا ہے رضائے محمد

          حضرت سَیِّدُناابوطلحہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک دن رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمین، شَفِیْعُ الْمُذْنِبین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تشریف لائے اور حالت یہ تھی کہ خُوشی کے آثار آپ عَلَیْہِ السَّلام کے چہرۂ والضُّحٰی سے عَیاں تھے ، فرمایا : ’’جبرئیل میرے پاس حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے ، آپ کا رَبّ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے  : ’’ اَمَا یُرْضِیْکَ یَا مُحَمَّدُاَنْ لَّا یُصَلِّیَ عَلَیْکَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِکَ اِلَّا صَلَّیْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا، اے محمد ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ آپ کا جو بھی اُ مَّتِی آپ پر ایک بار دُرُودِ پاک بھیجے تو میں اس پر دس بار رَحمت بھیجوں ‘‘  ’’وَلَا یُسَلِّمَ عَلَیْکَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِکَ اِلَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا، اور اگر وہ آپ پر ایک بار سلام بھیجے تو میں اس پر دس بار سلام بھیجوں ۔ ‘‘(مشکاۃ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی النبی وفضلہا، ۱ / ۱۸۹، حدیث : ۹۲۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To