Book Name:Guldasta e Durood o Salam

حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ تم جہاں بھی ہو تمہارے دُرُود کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے جب آج بجلی کی طاقت سے وارلیس اور ریڈیو کے ذَرِیعے لاکھوں میل کی آواز سن لی جاتی ہے تو اگر طاقتِ نَبُوَّت سے دُرُود کی آواز سن لی جائے تو کیا بعید ہے ۔ یعقوب عَلَیْہِ السَّلام نے صدہا میل سے پیراہنِ یوسف عَلَیْہِ السَّلام(یعنی ان کی قمیص) کی خُوشبو پائی ۔  سلیمان عَلَیْہِ السَّلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی حالانکہ آج تک کوئی طاقت چیونٹی کی آواز نہ سنا سکی تو ہمارے حُضُوربھی دُرُودخوانوں کی آواز ضَرور سنتے ہیں  ۔ ‘‘ (مراٰۃ، ۲  / ۱۰۱، ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جو خُوش نصیب لوگ نَبِیِّ مُعَظَّم ، رَسُولِ مُحتَرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودو سلام پڑھنااپنی عادت بنالیتے ہیں ، زِندَگی بھر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی عَظْمَت ومَحَبَّت دل میں بٹھاتے ہیں جب وہ اہلِ دُرُود اور اَہلِمَحَبَّتاس دُنیائے فانی سے عالمِ جاوِدانی کی طرف سفر کرتے ہیں تو ان پر کیسا کرم ہوتا ہے ، آئیے اس کی ایک جھلک مُلاحَظہ فرمائیے  ۔

موت کی تَلْخِی سے مَحفُوظ

          ایک صاحب کسی بیمار کے پاس تشریف لے گئے (ان پر نَزع کاعالم طاری تھا ) ان سے پُوچھا کہ موت کی کڑواہٹ کیسی محسوس کر رہے ہو ؟اُنہوں نے کہا کہ مجھے تو کچھ معلوم نہیں ہورہااس لئے کہ میں نے عُلمائے کرام سے سناہے کہ جو شخص کثرت سے دُرُود شریف پڑھتا ہے وہ موت کی تَلخی سے مَحفُوظ رہتا ہے ۔ (فضائل دُرودشریف ، ص۵۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ القوی اپنی مایہ ناز کتاب جذبُ القُلُوب میں ارشاد فرماتے ہیں  : ’’ دُرُود شریف پڑھنے سے قِیامت کی ہولناکیوں سے نَجات حاصل ہوتی ہے ، سَکراتِ موت میں آسانی ہوتی ہے  ۔ ‘‘ (جذبُ لقلوب،  ص۲۲۹) چنانچہ اس ضِمن میں ایک حکایت سنئے اور جُھوم اُٹھئے  ۔

نصیحتوں کے پُھول

حضرتِ سیِّدنا شیخ احمد بن ثابت مَغْربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوی فرماتے ہیں  :  ’’ایک دن میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے قِبلہ رُخ دُرُودِ پاک کے موضُوع پر مضمون کو ترتیب دے رہا تھا ۔  قلم میرے ہاتھ میں تھا اورتَختی میری گود میں کہ طبیعت بوجھل ہونے لگی، دَریں اَثنا مجھے نیند نے آلیا ۔  میں نے خَواب میں دیکھا کہ میں ایک سُنسان جگہ پرہوں جہاں کوئی عمارت نہیں کچھ لوگ جامع مسجد کے دروازے پر موجود ہیں اور باقی مسجد کے اندر، میں اندر گیا اوران کے درمیان بیٹھ گیا، وہاں میں نے ایک حَسین و جمیل نوجوان کودیکھا نیک بَختی کے آثار اس کے چہرے ہی سے عَیاں تھے ۔ ‘‘

            میں نے کہا :  ’’تجھے تمام نبیوں کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تیرا نام ونسب کیا ہے ؟ ‘‘یہ سن کر اس نے کہا : ’’ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! کے بندے میرا نام رومان ہے اور میں رَحمن کے مَلائکہ میں سے ہوں  ۔ ‘‘اس پر میں نے سوال کیا  :  ’’تو پھر آپ آدمیوں میں کیوں آئے ہیں ؟ ‘‘فرمایا : ’’ یہ سب ، آدمی نہیں بلکہ فِرِشتے ہیں  ۔ ‘‘ میں نے کہا  : ’’میں آپ کی صُحبت میں رہنا چاہتا ہوں  ۔ ‘‘، تو اس فِرِشتے نے کہا : ’’ نہیں ! آپ ایک گھڑی بھی میرے ساتھ نہیں رہ سکتے  ۔ ‘‘

            میں نے عرض کی : ’’ حُضُور! یہ تو فرمائیں کہ ان فِرِشتوں میں کون کون ہے ؟‘‘ فرمایا :  ’’ان میں حضرتِ سَیِّدُناجبرائیل عَلَیْہِ السَّلام، حضرتِ سَیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلام، حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام اور حضرتِ سَیِّدُنا عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام ہیں  ۔ ‘‘ میں نے تمام نبیوں کا واسطہ دے کر حضرتِ سیِّدنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلامکی زِیارت کی خَواہش ظاہر کی جو ہمارے آقا حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مَحَبَّت کرنے والے ہیں ۔ اچانک محراب کے پاس سے آواز آئی  :   ’’میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا بندہ جبرائیلہوں  ۔ ‘‘ میری آنکھ نے پہلے کبھی ایسا حَسین وجمیل نہ دیکھا تھا ۔  میں ان کے پاس حاضِر ہوا، سلام عرض کیا اور ان سے دُعائے خَیرکی دَرخواست کی ۔ آپ نے دُعا فرمائی، تب میں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا واسطہ دے کر عرض کی کہ آپ مجھے کوئی نَصیحت فرمائیں جس سے مجھے فائدہ ہو تو اُنہوں نے فُضُول و بے کارکام سے بچے رہنے اور اَمانت کو اَدا کرنے کی نَصیحت فرمائی ۔ ‘‘

            پھر میں نے حضرتِ سَیِّدُنامیکائیل عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارت کی خَواہش ظاہر کی تو ان بیٹھے ہوئے حضرات میں سے ایک بولے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ میکائیل ہوں ۔ میں ان کے پاس حاضر ہوا اوردُعا اورنَصیحت کی دَرخواست کی ، اُنھوں نے دُعادی اور فرمایا : ’’تم پرعَدل واِنصاف اوراِیفائے عہد (وَعدے کی پاسداری ) لازم ہے ۔ ‘‘

            پھر میں نے سوال کیا کہ میں حضرتِ سَیِّدُنااسرافیل  عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارت کرنا چاہتا ہوں ، تو ان میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اورکہا :  میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا بندہ اسرافیل ہوں ۔ ان جیسا پرنور چہرہ بھی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، میں نے ان سے بھی دُعائے خیر طلب کی، اُنھوں نے بھی دُعا فرمائی ۔ پھردل میں خیال آیا کہ نجانے یہ واقعی فِرِشتے ہیں یا میں غلطی پر ہوں ؟ اور یہ حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام ہو بھی کیسے سکتے ہیں ؟ جبکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنااسرافیل عَلَیْہِ السَّلام کا سر عرش تک ہے اور پاؤں ساتویں زمین کے نیچے ہیں ، یہ خیال آتے ہی دیکھا کہ حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام اُٹھ کھڑے ہوئے سر آسمان تک بلند ہوگیا اور پاؤں زمین کے نیچے چلے گئے ۔ تو ان کیمَحَبَّت میرے دل میں مزید بیٹھ گئی پھر میں نے عرض کی  : تمام نبیوں کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اس پہلی صُورت میں آجائیں ، میں مانتا ہوں کہ آپ واقعی حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلام ہیں ۔

            پھر میں نے عرض کی  :  مجھے کوئی مُفیدنَصیحت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا  :   ’’دُنیا کو چھوڑ دے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل ہوگی اور جو تیرے پاس ہے اسے خَیر باد کہہ دے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی مَحَبَّت پالے گا ۔ ‘‘ پھر میں نے عرض کی  :  میں حضرتِ سَیِّدُنا عزرائیل عَلَیْہِ السَّلام کی زِیارت کرنا چاہتا ہوں ۔ فوراً ایک صاحب اُٹھے ، وہ بھی نہایت حسین تھے ، فرمایا :  میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ عزرائیل ہوں ۔ حسبِ سابق میں نے ان سے بھی دُعائے خیر کی درخواست کی، آپ علیہ السَّلام  نے دُعا فرمائی ۔ آخر میں مَیں نے حضرتِ سَیِّدُنا عزرائیل  عَلَیْہِ السَّلام سے عرض کی : ’’ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہوں کہ آپ میری جان نکالتے وَقت مجھ پر نرمی فرمائیں  ۔ ‘‘ فرمایا :  ’’رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر



Total Pages: 141

Go To