Book Name:Guldasta e Durood o Salam

نیکیوں میں اِضافے کا باعث ہے  ۔ ‘‘  (شعب الایمان ، باب فی الزکاۃ ، فصل فیمن اتاہ اللّٰہ مالامن غیرمسالۃ، ۳  / ۲۸۲، حدیث :  ۳۵۵۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{3}دُرُودِ پاک

حدیث شریف میں تیسری چیزجس کی ہمیں تعلیم دی گئی وہ حَبِیبِ مُکَرَّم، مَحبوبِ ربِّ اَکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مُحترم پر دُرُودِ پاک پڑھنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس قَدر مُفلِس و نادار ہے کہ اس کے پاس اپنی حاجت سے زائد مال نہیں جسے وہ راہِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّمیں صَدَقہ کرے تو اسے چاہئے کہ غم نہ کرے بلکہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابَرَکت پر دُرُودِ پاک پڑھ لیاکرے کہ اس کا یہ دُرُودِ پاک پڑھنا ہی اس کی طرف سے زکوٰۃ(صدقہ کے قائم مقام)ہوگاجیسا کہ بیان کردہ حدیثِ پاک میں صَدَقہ کرنے والے اور دُرُود شریف پڑھنے والے ، دونوں کے حق میں سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ہی بات ارشاد فرمائی : ’’فَاِنَّہا لَہُ زَکَاۃٌ، یہ اس کے لئے زکوٰۃ ہے  ۔ ‘‘

            یُوں بھی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل کرتے ہوئے دُرُود پاک پڑھنا باعثِ سعادت ہونے کے علاوہ ایک عَظیم عِبادت بھی ہے ، بُزُرگوں نے دُرُود شریف پڑھنے کی حِکمتیں بھی بیا ن فرمائی ہیں ۔ جس کا خُلاصہ یہ ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیبہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے بعد مَخلُوقات میں سب سے زِیادہ کریم ، رَحیم اورشَفیق ہے اور حبیبِ خدا، تاجدارِ انبیاء ، سَروَرِ ہر دوسَرا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مومنوں پر سب سے زِیادہ اِحسانات ہیں اس لئے مُحسنِ اَعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احسان کے شُکریہ کے طورپرہم پردُرُودِ پاک پڑھنا مُقرَّرکیاگیاہے ۔ چُنانچہ علَّامہ سَخاوی فرماتے ہیں  : ’’ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود پڑھنے کا مَقْصد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم کی پَیروی کرکے اس کاقُرب حاصل کرنا اور نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق کو اَداکرنا ہے  ۔ ‘‘ بعض بُزرگوں نے مزید فرمایا  :  ’’ہمارا نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنا ہماری طرف سے آپعَلَیْہ السَّلام کے دَرَجات کی بُلندی کی سفارش نہیں ہوسکتاکیونکہ ہم جیسے ناقص بندے ، آپ جیسی کامل واکمل ذاتِ بابَرَکت کے لئے شَفاعت نہیں کرسکتے  ۔ لیکن حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہم پر بے پناہ احسانات ہیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے لئے دوزخ سے نَجات، جَنَّتمیں دخول ، آسان ترین اسباب کے ذَرِیعے کامیابی کے حُصُول، ہر طرف سے سَعادت کے وُصول اور بلند مرتبوں اور عَظیم فَضیلتوں تک پہنچنے کا ذَرِیعَہ ہیں اس لئے اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے ہمیں اس کا بدلہ چکانے کا حکم ارشاد فرمایا ۔  ہم چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلامکے اِحسان کا بدلہ چکانے سے عاجزتھے تو اس نے دُرُود شریف پڑھنے کی طرف ہماری رَہنمائی فرمائی  ۔ تاکہ ہمارے پڑھے ہوئے دُرُود آپ عَلَیْہ السَّلامکے احسان کا بدلہ بن جائیں ۔ ‘‘(رحمتوں کی برسات ، ص۳۷تا۳۸ )

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُودِپاک پڑھنے میں سراسرہماراہی فائدہ ہے چنانچہ ابومحمدفرماتے ہیں  : ’’نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنے کانَفْع حقیقت میں تیری طرف لوٹتاہے گویا تو اپنے لئے ہی دُعاکررہا ہے  ۔ ‘‘ جیساکہ

دُرُودِ پاک اپنے پڑھنے والے  کیلئے اِسْتِغْفار کرتا ہے

          اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہاسے مروی ہے کہ رسُولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  مَامِنْ عَبْدٍ یُصَلِّی عَلَیَّ صَلَاۃًاِلَّاعَرَجَ بِہَا مَلَکٌ، جب کوئی بند ہ مجھ پردُرُودِپاک پڑھتا ہے تو فِرِشتہ اس دُرُود کو لے کراوپر جاتاہیحَتّٰی یَجِیَٔ بِہَاوَجْہَ الرَّحْمٰنِ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پہنچاتاہے ، تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے  :  ’’اِذْھَبُوْابِہَا اِلٰی قَبْرِ عَبْدِیْ، اس دُرُودِپاک کو میرے بندے کی قَبر میں لے جاؤ‘‘’’ تَسْتَغْفِرُ لِقَائِلِہَا وَتُقِرُّبِہَاعَیْنُہُ ‘‘یہ دُرُود اپنے پڑھنے والے کے لئے اِسْتِغْفار کرتا رہے گا اور اُس کی آنکھیں اسے دیکھ کرٹھنڈی ہوتی رہیں گی ۔ ‘‘ (کنز العمال ، کتاب الاذکار، الباب السادس فی الصلاۃ علیہ وعلی آلہ۱ /  ۲۵۲، حدیث : ۲۲۰۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!ہمیں رزقِ حَلال کمانے اوراس کے ذَرِیعے اپنی راہ میں صَدَقہ وخَیرات کرنے اورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی سَعادت نصیب فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 23

رِضائے اِلٰہی والا کام

            اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشۃ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہا فرماتی ہیں  :  میرے سر تاج ، صاحِبِ مِعراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فرحت نشان ہے  :  ’’مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَلْقَی اللّٰہَ رَاضِیاً فَلْیُکْثِرْمِنَ الصَّلَاۃ عَلَیَّ، جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے اس حال میں ملے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس سے راضی ہو اسے چاہئے کہ وہ مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھے ۔ ‘‘

(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۶۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اگر ہم روزِ قیا مت اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگارہ میں سُرخرو ہونا چاہتے ہیں تو مَحَبَّت وشوق کیساتھ سرکارِ مکّۂ مکرمہ، سردارِمدینۂ منوّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ طیبہ پردُرُودِ پاک پڑھنے کو اپنے رو زو شب کا وَظِیفہ بنالیں کیونکہ دُرُودِ پاک نہ صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا وخُوشنُو دی اور حُصُولِ رَحمت کابہترین ذَرِیعہ ہے بلکہاللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے قَہروغَضب سے امان کا ضامن بھی ہے  ۔ چنانچہ

غَضبِ الٰہی سے امان

 



Total Pages: 141

Go To