Book Name:Guldasta e Durood o Salam

رِحم ہوتیسرا وہ کہ قَبول میں جلدی کرے کہ میں نے دُعا مانگی اب تک قَبول نہ ہوئی ایسا شخص گھبرا کر دعا چھوڑ دیتا ہے اور مطلب سے محروم رہتا ہے  ۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الذکر والدعاء ، باب بیان أنہ یستجاب للداعی ما لم یعجلإلخ، ص۱۴۶۳، حدیث : ۲۷۳۵)

قَبُولِیَّتِ دُعامیں تاخیر ہوتو !

          اس کے حاشیے میں اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسنَّت مجدِّدِ دین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن دُعا کی قَبولِیَّت میں جلدی مچانے والوں کو اپنے مخصُوص انداز میں سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’ اواَحْمَق! اپنے سَر سے پاؤں تک نَظَرِ غور کر! ایک ایک رُوئیں میں ہروَقت ہر آن کتنی کتنی ہزاردَرْ ہزار دَرْ ہزار صَد ہزار بے شُمارنعمتیں ہیں ۔ تُو سوتا ہے اور اُس کے مَعْصُوم بندے (یعنی فِرِشتے ) تیری حِفاظت کو پَہرا دے رہے ہیں ، تُو گُناہ کررہا ہے اور (پھربھی) سَر سے پاؤں تک صِحّت و عافِیَّت، بَلاؤں سے حِفاظَت ، کھانے کا ہَضم ، فُضلات ( یعنی جسم کے اندر کی گندَگیوں ) کا دَفع ، خُون کی رَوانی، اَعضاء میں طاقَت، آنکھوں میں روشنی ۔ بے حِساب کرم بے مانگے بے چاہے تُجھ پر اُتر رہے ہیں ۔ پھر اگر تیری بعض خَواہشیں عطا نہ ہوں ، کس مُنہ سے شکایت کرتا ہے ؟ تُو کیا جانے کہ تیرے لئے بھلائی کا ہے میں ہے !تُو کیا جانے کیسی سخت بَلاآنے والی تھی کہ اِس (بظاہر نہ قبول ہونے والی ) دُعا نے دَفع کی ، تُو کیا جانے کہ اِس دُعاکے عِوَض کیسا ثواب تیرے لئے ذَخِیرہ ہورہا ہے ، اُس کا وَعدہ سچّا ہے اور قَبول کی یہ تینوں صُورتیں ہیں جن میں ہر پہلی، پچھلی سے اَعلیٰ ہے ۔ ہاں ، بے اِعتِقادی آئی تَویقین جان کہ ماراگیااور اِبلیسِ لَعِین نے تجھے اپنا سا کر لیا ۔  وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِِ سُبْحٰنَہُ وَتَعَالٰی ۔ ( اور اللّٰہ کی پناہ وہ پاک ہے اورعَظْمَت والا)

          اے ذَلیل خاک!اے آبِ ناپاک!اپنا مُنہ دیکھ اور اِس عظیم شَرَف پر غور کر کہ اپنی بارگاہ میں حاضِر ہونے ، اپنا پاک، مُتَعَالی( یعنی بلند )نام لینے ، اپنی طرف مُنہ کرنے ، اپنے پُکارنے کی تجھے اِجازت دیتا ہے  ۔ لاکھوں مُرادیں اِس فَضْلِ عظیم پر نِثار  ۔ اوبے صبرے !ذرابھیک مانگنا سِیکھ ۔ اِس آستانِ رَفیع کی خاک پر لَوٹ جا ۔  اور لِپٹا رہ اور ٹِکٹِکی بندھی رکھ کہ اب دیتے ہیں ، اب دیتے ہیں ! بلکہ پُکارنے ، اُس سے مُناجات کرنے کی لَذَّت میں ایسا ڈوب جا کہ اِرادہ ومُراد کچھ یاد نہ رہے ، یقین جان کہ اِس دروازے سے ہرگِز مَحروم نہ پِھرے گا کہ مَنْ دَقَّ بَابَ الْکَرِیْم اِنْفَتَحَ(جس نے کریم کے دَروازے پر دَستک دی تو وہ اس پر کُھل گیا ) ۔  (فضائل دعا، ص ۱۰۲)

سوار کے پیالے کی مانِنْد نہ بناؤ

حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہخاتَمُ النَّبِیِّین، صاحِبِ قراٰنِ مُبین، محبوبِ ربُّ العٰلَمِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے سوار کے پیالے کی مانند نہ بناؤ کہ سوار اپنے پیالے کو پانی سے بھرتا ہے پھر اسے رکھتا ہے اور سامان اُٹھاتا ہے ، پھر جب اسے پانی کی حاجت ہوتی ہے تو اسے پیتا ہے ، وضو کرتا ہے ورنہ اسے پھینک دیتا ہے لیکن مجھے تم اپنی دُعا کے اَوَّل وآخِر اور دَرمیان میں یادرکھو ۔ ‘‘ (مجمع الزوائد، کتاب الادعیہ ، باب فیما یستفتح بہ الدعاء من حسن الثناء الخ، ۱۰ /  ۲۳۹، حدیث : ۱۷۲۵۶)

حضرتِ سَیِّدُنااِبن عَطاء رَحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ دُعا کے اَرکان، پَر، سامان اور اَوقات ہیں ، پس اگر دُعا اَرکان کے مُوافِق ہوئی تو قَوی ہو گی اور اگر پَروں کے مُوافِق ہوئی توآسمان کی طرف اُڑ جائے گی اور اگر وَقتوں کے مُوافق ہوئی تو کامیاب ہو جائے گی اور اگر اَسباب کے مُوافق ہوئی تو کمال تک پہنچ جائے گی ، دُعا کے اَرکانحُضُورِ قلب، رِقَّت، سُکون ، قرار ، خُشوع ، اللّٰہ کے ساتھ دِلی لگاؤ اور اَسباب وعَلائق سے قَطْعِ تَعلُّق ہے اور اس کے پَر صِدْق وسچائی اور اس کے اَوقات صُبح اور اس کے اَسباب نبی پر دُرُود پڑھنا ہے ۔ (شفا شریف مترجم ، ص۷۱ )

حضرتِ سَیِّدُناابُوسُلیمان دارانی  قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورانیفرماتے ہیں  :  ’’مَنْ اَرَادَ اَنْ یَّسْأَلَ اللّٰہَ حَاجَتَہُ، جو شخص اللّٰہعَزَّوَجَلَّسے اپنی حاجت کاسوال کرناچاہے ‘‘ فَلْیُکَثِّرْ بِالصَّلَاۃِ عَلَی النَّبِیِّ، تو اسے چاہئے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھے ثُمَّ یَسْئَلُ اللّٰہَ حَاجَتَہُ پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اپنی حاجت طلب کرے ، وَلْیَخْتِمْ بِالصَّلٰوۃِ عَلَی النَّبِیِّاور اپنی دُعا کو نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھ کر ختم کرے ،  فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقْبَلُ الصَّلَاتَیْنِ ، کیونکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ دونوں دُرُودوں کوقَبول فرماتا ہے ، وَھُوَاَکْرَمُ مِنْ اَنْ یَّدَعَ مَابَیْنَھُمَااور وہ پاک ہے اس بات سے کہ(دُعا کے اَوَّل وآخر) دونوں دُرُودوں (کو تو قبول کرے اوران ) کے درمیان (والی چیز یعنی)دُعا کو چھوڑ دے ۔ (دلائل الخیرات، ص۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمااور اس کی بَرَکت سے ہماری تمام جائزحاجات کو پورا فرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 22

صَدقے کی اِسْتِطاعت نہ ہو تو!

محبوبِ خدائے تَوّاب ، جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’اَیُّمَارَجُلٍ کَسَبَ مَالًا مِنْ حَلَالٍ فَاَطْعَمَ نَفْسَہُ اَوْکَسَاھَا، جو شخص حَلال مال کمائے پھر خُود کھائے یا پہنے ‘‘فَمَنْ دُوْنَہُ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ فَاِنَّہَا لہُ زَکَاۃٌ، یاپھراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی مَخلُوق میں سے کسی کو کھلائے یاپہنائے (یعنی صَدَقہ کرے ) تو یہ اس کے لئے زَکوٰۃ ہے ، وَاَیُّمَا رَجُلٍ لَمْ یَکُنْ لَہُ عِنْدَہُ صَدَقَۃٌفَلْیَقُلْ فِیْ دُعَائِہِ، اور جس شخص کے پاس صَدَقہ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو تواس شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی دُعا میں یہ دُرُودِ پاک پڑھ لیا کرے ، اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِبے شک یہ دُرُود اس کے لئے زکوٰۃ ہوگا ۔  (شعب الایمان، باب التوکل باللّٰہ عز و جل و التسلیم ، ۲ /  ۸۶، حدیث : ۱۲۳۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیثِ پاک میں تین چیزوں کا ذکر ہے ۔ (۱)کسبِ حَلال(۲)صَدَقہ (۳)دُرُودِپاک

 



Total Pages: 141

Go To