Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کھانا کھالو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ دیدار بھی ہو جائے گا ۔ میں نے کھانا کھایا، پھر ہم نکلے توکیا دیکھتے ہیں کہ رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایک جَماعت کے ہمراہ تشریف لارہے ہیں اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کی گردن مُبارک سب سے بُلند ہے اور اپنی گردن مُبارک اور شانۂ اقدس کے لحاظ سے سب پر فائق ہیں ، جب حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے دیکھا تو فرمایا  :  ’’احمد !کیا ساری نیکیاں دفعۃً سمیٹنا چاہتے ہو؟اپنے نَفْس پر نرمی کرو ، تم پر یہی لازِم ہے ‘‘ اور یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’ مجھ پر کثرت سے دُرُود پڑھا کرو تمہارے لئے بہتری ہی بہتری ہے  ۔ ‘‘میں نے عرض کی  : ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !میرے ضامن ہوجائیں ؟‘‘ فرمایا : ’’ مجھ پر دُرُود پڑھنا لازم کر لو جو مانگو گے ملے گا ۔ ‘‘  ( سعا دۃ ا لدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایاتالخ ، اللطیفۃ السادسۃ عشرۃ، ص ۱۳۱)

مانگ مَن مانْتی مُنہ مانگی مُرادیں لے گا

نہ یہاں ’’نا‘‘ہے نہ منگتے سے یہ کہنا’’کیا ہے ‘‘(حدائقِ بخشش، ص۱۷۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

روزِ مَحْشر کی پیاس سے مَحْفُوظ

            حضرت سَیِّدُناکَعْبُ الاَحْبار رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  ’’حضرتِ سَیِّدُنا مُوسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلیْہ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کی طرف جو وَحْی کی گئی تھی اس میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت سَیِّدُنامُوسیٰ علَیْہِ السَّلامکو وَصیت کرتے ہوئے ارشادفرمایا :  ’’یَا مُوْسٰی لَوْ لَا مَنْ یَحْمَدُنِیْ ، اے مُوسیٰ !(علَیْہِ السَّلام )اگر میری حمد کرنے والے نہ ہوتے ‘‘، ’’مَا اَنْزَلْتُ مِنَ السَّمَائِ قَطْرَۃً، تو میں آسمان سے ایک قَطرہ بھی پانی کا نہ اُتارتا ‘‘’’وَلَااَنْبَتُّ مِنَ الْاَرْضِ وَرَقَۃً، اور نہ ہی زمین پر کوئی پتا اُگاتا ‘‘ ’’یَامُوْسٰی لَوْلَا مَنْ یَّعْبُدُنِیْ ‘‘ا ے مُوسیٰ! (علَیْہِ السَّلام ) اگر میرے عِبادت گُزارنہ ہوتے ، ’’مَااَمْہَلْتُ مَنْ یَعْصِیْنِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، تومیں نافرمانوں کو پَلک جھپکنے کی بھی مُہلَت نہ دیتا  ۔ ‘‘ ’’یَا مُوْسٰی لَوْلَا مَنْ یَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ، اے مُوسیٰ!(علَیْہِ السَّلام ) اگر لَااِلٰہ َ اِلاَّاللّٰہ کی شَہادت دینے والے نہ ہوتے لَسَیَّلْتُ جَہَنَّمَ عَلَی الدُّنْیَا، تو جہنَّم کو دُنیا پر بہا دیتا، ‘‘ پھر ارشاد فرمایا : ’’یَا مُوْسٰی اَتُحِبُّ اَنْ لَّا یَنَالَکَ مِنْ عَطْشِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ؟، اے مُوسیٰ!( علَیْہِ السَّلام)کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ قِیامت کے دن تمہیں پیاس محسوس نہ ہو ؟عرض کی  : اے میرے پروردگار! ہاں میں یہ پسند کرتا ہوں  ۔ ارشاد فرمایا :  ’’فَاَکْثِرْ مِنَ الصَّلَاۃِ عَلٰی مُحَمَّدٍ، تو ایسا کرو کہ محمد عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھا کر و ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۶۴)

گرمیٔ مَحْشر کا عالَم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ رِوایت سے بَخُوبی اَندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کاروانِ حَیات اگر رَواں دَواں ہے تو صِرف اورصِرف اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا بجالانے والوں اور اس کی اِطاعَت و فرمانبرداری کرنے والوں کے طُفیل ، اگر یہ مقبولانِ بارگاہ نہ ہوتے تو نجانے ہم گُناہگاروں کا کیا بنتا ۔ نیز اس رِوایت سے یہ بھی پتا چلاکہ روزِ محشر کی پیاس سے نَجات کا بہترین ذَرِیعہ پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھنا ہے ۔ یاد رکھئے کہ مَحشر کی پیاس کوئی مَعمُولی پیاس نہ ہوگی کیونکہ اُس دن اس قَدرشدَّت کی گرمی ہوگی کہ اہلِ مَحشر سرتاپا پسینے میں نہاتے ہونگے اور پیاس کی شدَّت سے بے حال ہو رہے ہونگے ، حدیث شریف میں ہیغیب دان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’یَعْرَقُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، قیامت کے دن لوگ پسینے سے شرابور ہونگے ‘‘’’حَتّٰی یَذْھَبَ عَرَقُہُمْ فِی الْاَرْضِ سَبْعِیْنَ ذِرَاعًا‘‘  حتّٰی کہ اس کثرت سے پسینہ نکلے گاکہ ستّر گز زَمین میں جَذْب ہوجائے گا ۔  (بخاری، کتاب الرقاق، باب قول اللّٰہ تعالی الا یظن اولئک انہم مبعوثونالخ ، ۴ / ۲۵۵ حدیث :  ۶۵۳۲)

یا الہٰی! گرمیٔ محشر سے جب بھڑکیں بدن                                 دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو

یاالٰہی !جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے                                  صاحبِ کوثر شہِ جُود و عطا کا ساتھ ہو(حدائقِ بخشش، ص۱۳۲)

صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علّامہ مولانامُفْتِی محمد اَمجد علی اَعْظَمِی علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوِیقیامت کے دن کی پیاس کے بارے میں فرماتے ہیں  : ’’اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی مُحتاجِ بیان نہیں ، زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہو جائیں گی ، بعضوں کی زبانیں مُنہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے (بہارِ شریعت، ۱ /  ۱۳۴) اگرایسی کڑی دھوپ اور شدید پیاس سے نَجات ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ بابرکات پر کثرت سے دُرودِپاک پڑھنے سے حاصل ہوجائے تو یقین جانئے کہ یہ انتہائی سستا سودا ہے ۔

سُوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہوجائے                               چھائے رَحمت کی گَھٹا بن کے تمہارے گیسو

ہم سِیاہ کاروں پہ یارَبّ تپشِ محشر میں                                سایہ اَفگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو(حدائقِ بخشش، ص۱۱۹)

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ!ہمیں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیقِ رفیق مَرحمت فرما اور اس کی بَرَکت سے ہماری دُنْیوِی اور اُخْرَوِی پریشانیاں دُور فرما  ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

 بیان نمبر : 21

ایک عَظِیْم نُور

            امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ بے مثال ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ ، جو شخص روزِ جُمُعہ مجھ پر سو بار دُرُودِ پاک پڑھے ‘‘، ’’جَائََ یَوْمَ القِیَامَۃِ وَمَعَہُ نُورٌ ، جب وہ قِیامت کے روز آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک نُور ہوگا‘‘، ’’ لَوْ قُسِّمَ ذَلِکَ النُّورُ بَیْنَ الْخَلْقِ کُلِّہِمْ  لَوَسَعَہُمْ ، اگر وہ نُور پُوری مَخلُوق میں بھی تَقْسِیم کردیا جائے تو سب کو کِفایت کرے  ۔ ‘‘        (حلیۃ الأولیاء، ابراہیم بن ادہم، ۸ /  ۴۹، حدیث : ۱۱۳۴۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To