Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کثرت سے دُرُود ِپاک پڑھا کرو  ۔ ‘‘ ’’فَاِنَّ صَلَا تَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَیَّ، کیونکہ تمہارا دُرُود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے  ۔ ‘‘ (ابوداود، کتاب الصلاۃ ، باب فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ، ۱ /  ۳۹۱، حدیث  : ۱۰۴۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سُلطانِ اَنبیائے کرام، شاہِ خیرُالْاَنام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ بابَرَکات پر دُرُودِ پاک پڑھنے کے فوائدِ کثیرہ کے پیشِ نظر یوں تو کسی دن کی تَخصِیص کے بغیر ہر دن ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بکثرت دُرُودِ پاک پڑھنا چاہئے مگر جُمُعۃ المُبارک کی مُبارک گھڑیوں میں ، اَور دنوں کی نِسبت، بطورِ خاص دُرُودِ پاک کی کثرت کا اِہْتِمام کرنا چاہئے کیونکہ بکثرت احادیثِ مُبارکہ میں اس دن دُرُود خوانی کی کثرت کی تاکید فرمائی گئی ہے  ۔

            احادیثِ کریمہ میں روزِجُمُعہ کے بے شُمار فَضائِل بھی بیان کیے گئے ہیں ، اللّٰہ تبارَک وَ تَعَالٰی  کاہم پر کس قَدر احسانِ عَظِیْم ہے کہ اس نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صدقے ہمیں جُمُعۃُ المبارَک کی نِعمت سے سرفراز فرمایا ۔ مگرا فسوس! ہم نا قَدرے جُمُعہ شریف کوبھی عام دنوں کی طرح غَفْلَت میں گزار دیتے ہیں حالانکہجُمُعہ یومِ عید ہے ، جُمُعہ سب دنوں کا سردار ہے ، جُمُعہ کے روز جہنَّم کی آگ نہیں سُلگائی جاتی ، جُمُعہ کی رات دَوزخ کے دروازے نہیں کُھلتے ، جُمُعہ کو بروزِ قِیامت دُلہن کی طرح اُٹھایا جائیگا، جُمُعہ کے روز مرنے والا خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا اور عذابِ قَبْرسے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ مُفسّرِشہیر حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمۃُ المنَّان کے فرمان کے مطابِق، ’’جُمُعہکو حج ہو تو اس کا ثواب ستَّر حج کے برابر ہے ، جُمُعہ کی ایک نیکی کا ثواب ستّر گُنا ہے  ۔ ‘‘ (مراٰۃ، ۲ /  ۳۲۳، ۳۲۵، مُلَخصاً) (چُونکہ اس کاشَرَف بَہُت زِیادہ ہے لہٰذا ) جُمُعہ کے روز گُناہ کا عذاب (بھی) ستّر گُنا ہے ۔ (ایضاًص ۲۳۶)

قَبُولیتِ دُعا کی ساعت

            سرکارِ مکّۂ مکرمہ، سردارِمدینۂ مُنوَّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عنایت نشان ہے ، جُمُعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پاکر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے کچھ مانگے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسکو ضَرور دیگااور وہ گھڑی مختصر ہے ۔ (مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ، ص۴۲۴، حدیث : ۸۵۲ )

            ایک موقع پرحُضُور پُر نور ، شافِعِ یومُ النُّشور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس گھڑی کی نِشاندَہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا  : ’’ جُمُعہ کے دن جس ساعت کی خَواہِش کی جاتی ہے اُسے عَصر کے بعد سے غُروبِ آفتاب تک تلاش کرو ۔ ‘‘ (ترمذی ، کتاب الجمعۃ، باب ماجاء فی الساعۃ اللتی ترجی الخ ، ۲ / ۳۰، حدیث : ۴۸۹)

          مُفسّرِ شہیر حکیم الامَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ المنّان فرماتے ہیں  :  ’’ہر رات میں روزانہ قَبولیّتِ دُعا کی ساعت آتی ہے مگر دِنوں میں صِرف جُمُعہ کے دن ۔  مگریقینی طور پر یہ نہیں معلوم کہ وہ ساعت کب ہے ، غالِب یہ کہ دو خُطبوں کے درمِیان یا مغرب سے کچھ پہلے  ۔ ‘‘ایک اور حدیثِ پاک کے تَحت مفتی صاحِب فرماتے ہیں  : ’’اس ساعت کے متعلِّق عُلَماء کے چالیس قول ہیں ، جن میں دو قول زِیادہ قوی ہیں ، ایک دو خُطبوں کے دَرمیان کا ، دوسرا آفتاب ڈوبتے وقت کا ۔ ‘‘

حکایت : حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہااس وَقت خُود حُجرے میں بیٹھتیں اور اپنی خادِمہ فِضَّہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا کو باہَر کھڑا کرتیں ، جب آفتاب ڈوبنے لگتا تو خادِمہ آپ کو خبر دیتیں ، اس کی خبر پر سیِّدہ اپنے ہاتھ دُعا کیلئے اُٹھا تیں ۔ بہتر یہ ہے کہ اس ساعت میں (کوئی) جامِع دُعا مانگے جیسے یہ قراٰنی دُعا : ’’ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (پ ۲، البقرہ :  ۲۰۱) (ترجَمۂ کنز الایمان :  اے ہمارے رب ہمیں دُنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دَوزخ سے بچا) ۔ ‘‘(مراٰۃ ، ۲ / ۳۱۹ تا ۳۲۵، ملخصًا)

          دُعا کی نِیَّت سے دُرُود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں کہ دُرُود بھی عَظِیم الشَّان دُعا ہے بلکہ اگر ہم اِخلاص کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھ کر صِدقِ دل سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کسی حاجت کا سوال کریں تو اس کی رَحمت سے قَوی اُمید ہے کہ وہ ہمارا سوال رَد نہیں فرمائے گااور ہمارے خالی دامن گوہرِمُراد سے بھر دے گا ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ۔ اس ضِمن میں ایک حِکایت سُنئے اورجُھوم اُٹھئے ۔ چُنانچہ

جو مانگنا ہے مانگو

            حضرتِ سَیِّدُنااحمد بن ثابت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی علَیْہ فرماتے ہیں  :  دُرُودوسَلام کے فَضائِل میں سے جو میں نے دیکھے ہیں ایک یہ بھی ہے کہ ایک رات (خَواب میں ) کیا دیکھتا ہوں کہ جِنَّا ت کی ایک جماعت کے رُوبرو کھڑا ہوں ، میں نے ان سے پوچھا  : تم کہاں سے آئے ہو؟اُنہوں نے کسی بُزُرگ کا نام لیا کہ ان کے ہاں سے  ۔ وہ بُزُرگ ہمارے اہلِ قَرابت میں سے تھے ، میں نے پوچھا :  تمہارا ارادہ کہاں کا ہے ؟کہنے لگے  :  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ مکہ معظمہ اور رَوضۂ نبوی عَلٰی صَاحِبہا الصَّلٰوۃُ والسّلامکا اِرادہ ہے ۔ میں نے کہا :  مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ۔  بولے اگر ارادہ ہے تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ برکت دے گا ۔  میں اُٹھ کھڑا ہوا اور وہ مجھے لے کر ہوا میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اُڑنے لگے ، ایک ساعت کے بعد ہم مکہ میں تھے  ۔ وہ بولے  :  یہ رہابَیْتُ الْحَرَام ۔ اُنہوں نے طَواف کیا اور میں نے بھی ان کے ہمراہ طَواف کیا، پھر اُنہوں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا نام لے کر مجھے ساتھ لیا اور اگلے ہی لمحے ہم لوگ مسجدِنَبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ والسَّلام میں تھے ، ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک خُوبصورت شخص ہاتھ میں ایک بڑا برتن جس میں ثَرید (شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی )اور شہد لے کر آیااور کہا شُروع کیجئے  ۔ میں نے اسے کہا  :  میں رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اس نے کہا کھانا کھالو، رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تشریف لائیں گے اور اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم ان کی زِیارت سے بھی مُشرَّف ہوگے ۔ میں نے دل میں کہا ، کیسی تَعَجُّب کی بات ہے ابھی میں نے اپناگھر چھوڑا اور تھوڑی ہی دیر میں مَکّہ مُعظَّمہ اور رَوضۂ رسول کی حاضِری سے مُشرَّف ہوگیا، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ جن ساتھیوں نے مجھے اُٹھایاتھا وہ کون لوگ تھے اور



Total Pages: 141

Go To