Book Name:Guldasta e Durood o Salam

            حضرت سَیِّدُناعبدُالرَّحمن بن سَمُرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک دن سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار، دوعالم کے مالِک ومختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا  : ’’اِنِّیْ رَأَیْتُ الْبَارِحَۃَ عَجَباً ، یعنی گُزشتہ رات میں نے ایک عجیب مَنْظر دیکھا‘‘ ’’وَرَأَیْتُ رَجُلاً مِنْ اُمَّتِیْ یَزْحَفُ عَلَی الصِّرَاطِ مَرَّۃً  وَ یَحْبُوْ مَرَّۃً، میں نے دیکھا کہ میرا ایک اُ مَّتِی  پُل صِراط پر کبھی گھٹنوں کے بَل اور کبھی پیٹ کے بَل رِینگ کر چل رہا ہے اور کبھی تو نیچے لٹک جاتا ہے ، ’’ فَجَائَ تْہُ صَلَاتُہُ عَلَیَّ ، پس اس کا مجھ پرپڑھا ہوا دُرودِ پاک آیا ‘‘ ’’فَاَخَذَتْہُ بِیَدِہِ فَاَقَامَتْہُ عَلَی الصِّرَاطِ حَتّٰی جَازَ، اوراس نے اس کا ہاتھ تھام کراسے پُل صِراط پر سیدھا کھڑا کردیا حتی کہ وہ صحیح وسَلامت گُزر گیا  ۔ ‘‘ (القول البدیع ، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۱۳۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس رِوایت نے تو ہم گُناہ گاروں کے غَم ہی غَلَط کردئیے کہ اگر ہم نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ سِتُودہ صِفات پر دُرُودِ پاک کی پَتِّیاں نچھاور کریں تو دیگرفَضائِل کے ساتھ ساتھ اسکے عُمدہ نتائج کا یوں ظُہور ہوگا کہ اسکی بَرَکت سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ پُل صِراط باآسانی عُبُور ہوگا ۔  

          یاد رکھئے ! کہ جہنَّم کی آگ تارِیک ہوگی اور پُل صِراط اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہوگا فقط وہی کامیاب ہوگا جس پر ربُّ الاکرم عَزَّوَجَلَّ کا فَضْل وکَرم ہوگا، یقینا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے اس فَضْل وکَرم کے حُصُول کا ایک بہترین ذَریعہ حُضُور تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں دُرُودِ پاک کی کثرت بھی ہے کہ اگر ہم حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھیں تو اس کی بَرَکت سے پُل صِراط کی تاریک راہ روشن و مُنوَّر ہوجائے گی اور ہم اس دُشوار گُزار مرحلے سے نَجات پاجائیں گے ۔ جیساکہ

پُل صِراط کا نُور

            سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نُور بار ہے  :  ’’اَلصَّلاۃُ عَلَیَّ نُوْرٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ ظُلُمَۃِ الصِّرَاطِ، یعنی مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنابروزِ قِیامت پُل صِراط کی تاریکی میں نُور ہوگا ۔ ‘‘’’ وَمَنْ اَرَادَاَنْ یُکْتَالَ لَہٗ بِالْمِکْیَالِ الْاَوْفٰی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اور جسے یہ پسند ہوکہ قِیامت کے دن اسے اَجْر کا پیمانہ بھر بھر کے دیا جائے ‘‘ ’’فَلْیُکْثِرْمِنَ الصَّلَاۃِ عَلَیَّ‘‘ تو اسے چاہئے کہ مجھ پر بکثرت دُرُود بھیجے ۔

(القول البدیع، الباب الاول فی الامر بالصلاۃ علی رسول اللّٰہالخ، ص۱۱۸)

          دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المَدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پرمُشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 253پر ہے  :  صِراط، حق ہے ، یہ ایک پُل ہے کہ پُشتِ جہنَّم پرنَصْب کیا جائے گا ، بال سے زِیادہ بارِیک اور تلوار سے زِیادہ تیز ہوگاجَنَّت میں جانے کا یہی راستہ ہے ، سب سے پہلے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگُزر فرمائیں گے ، پھر اور اَنبیاو مُرسلین ، پھر یہ اُمَّت پھر اور اُمَّتیں گُزریں گی اور حسبِ اِختلافِ اعمال (اپنے مختلف اَعمال کے حساب سے ) پُلِ صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے ، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چَمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہوا کی طرح، کوئی ایسے جیسے پرند اُڑتاہے اور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے ، یہاں تک کہ بعض شخص سُرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے اور پُل صِراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے (اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے ) لٹکتے ہوں گے ، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑ لیں گے ، مگر بعض تو زَخمی ہوکر نَجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنَّم میں گرا دیں گے اور یہ ہلاک ہوا ۔

            یہ تمام اَہلِ مَحشر تو پُل پر سے گزرنے میں مَشغُول، مگر وہ بے گُناہ، گناہگاروں کا شفیع پُل کے کنارے کھڑا ہوابکمالِ گِریہ و زاری اپنی اُمَّتِ عاصی کی نَجات کی فِکر میں اپنے رَبّ سے دُعاکررہاہے  : ربِّ سلِّم سلِّم، اِلٰہی ان گُناہگاروں کو بچالے بچا لے ۔ اور ایک اسی جگہ کیا !حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اُس دن تمام مَواطِن (مَقامات)میں دَورہ فرماتے رہیں گے ، کبھی مِیزان پر تشریف لے جائیں گے ، وہاں جس کے حَسَنات میں کمی دیکھیں گے ، اس کی شَفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو توحوضِ کوثر پر جلوہ فرماہیں ، پیاسوں کو سیراب فرمارہے ہیں اور وہاں سے پُل پر رونق اَفروز ہوئے اور گِرتوں کو بچایا  ۔

          جیساکہحضرت سَیِّدُنا اَنس رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ اپنے والد سے رِوایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں روزِ مَحشر اپنی شَفاعت کرنے کی دَرْخواست کی توخَلق کے رَہبر، شافعِ محشر، محبوبِ داور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  :  ’’اَنَا فَاعِلٌ‘‘وہ تو میں کروں گاہی ۔  میں نے عرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! تو پھر میں آپ کو تلاش کہاں کروں …؟ ‘‘ فرمایا : ’’ اُطْلُبْنِیْ اَوَّلَ مَاتَطْلُبُنِیْ عَلَی الصِّرَاطِ، پہلے پہل تم مجھے پُل صِراط پر تلاش کرنا، میں عرض گزار ہوا کہ اگر صِراط پر آپ کو نہ پاؤں تو … ؟فرمایا : ’’فَاطْلُبْنِیْ عِنْدَ الْمِیْزَانِ، پھرمِیزان پر مجھے دیکھ لینا  ۔ ‘‘ میں نے عرض کی :  اگرمِیزان پر بھی آپ سے ملاقات نہ ہوپائے تو… ؟ فرمایا  :  ’’فَاطْلُبْنِیْ عِنْدَ الْحَوْضِ، فَاِنِّیْ لَا اَخْطِیُٔ ہٰذِہِ الثَّلاثَ الْمَوَاطِنَتو پھر ایسا کرناکہ حوضِ کوثر پر دیکھ لینا(بس) میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ تمہیں ضَرور مل جاؤں گا ۔ ‘‘(ترمذی ، کتاب صفۃالقیامۃ، باب ماجاء فی شان الصراط ، ۴  / ۱۹۵، حدیث : ۲۴۴۱)

            اُستاذِ زَمن شہنشاہِ سُخن مَولانا حسن رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن اپنے نعتیہ دِیوان ’’ذَوقِ نعت‘‘میں اس مضمون کی مَنْظرکَشی کچھ یُوں فرماتے ہیں  :  

زبان سُوکھی دِکھا کر کوئی لبِ کوثر                                          جنابِ پاک کے قَدموں پہ گر گیا ہوگا

کوئی قریبِ ترازو کوئی لبِ کوثر                                             کوئی صِراط پر ان کو پُکارتا ہوگا

ہزار جان فِدا نرم نرم پاؤں سے                                            پُکار سُن کے اَسیروں کی دوڑتا ہوگا(ذوقِ نعت، ص۳۶)

            غرض ہر جگہ اُنہیں کی دُوہائی ، ہرشخص اُنہیں کو پُکارتا، اُنہیں سے فریاد کرتا ہے اور ان کے سِوا کس کو پکارے …؟!کہ ہر ایک تو اپنی فِکر میں ہے ، دوسروں کو کیا پوچھے ، صرف ایک یہی ہیں ، جنہیں اپنی کچھ فِکر نہیں اور تمام عالَم کا بار اِن کے ذِمّے  :

کوئی کہے گا دُہائی ہے یارسولَ اللّٰہ!                                                                                                     تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہوگا

کسی کو لے کے چلیں گے فِرِشتے سوئیجَحِیْم                      وہ ان کا راستہ پِھرپِھر کے دیکھتا ہوگا

عزیز بچے کو ماں جس طرح تلاش کرے                            قسم خُدا کی یہی حال آپ کا ہوگا(ذوقِ نعت، ص۳۶)

 



Total Pages: 141

Go To