Book Name:Guldasta e Durood o Salam

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِن رِوایات سے سرکارِ عالی وَقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکر کی اَہَمِّیَّت کا اندازہ ہوتا ہے لہٰذا جب بھی پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرِ خیر کیا جائے توآپ پر دُرُودوسَلام پڑھا جائے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی سُن کرعِشق ومَستی میں جُھوم کر اپنے اَنگوٹھوں کوچُوم کر آنکھوں سے لگا لینا چاہئے ، ہو سکتا ہے کہ ہماری یہی ادا اللّٰہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں مَقبول ہو جائے اور اللّٰہ  تعالیٰ ہم سے راضی ہو جا ئے اور اپنے پیارے مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَدب واِحتِرام اورتَعْظِیم وتَوقِیر اور ان کی مَحَبَّت کے سبب ہماری مَغْفِرت فرمادے  ۔ اس ضِمن میں ایک روایت سُنئے اور اپنا اِیمان تازہ کیجئے ۔ چُنانچہ

حُضُور کی تَعْظِیم بَخْشِش کا سبب بن گئی

حضرتِ سَیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رَضِی اﷲ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا شخص تھا جس نے اپنی زِندگی کے دو سو سال اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی میں گزارے اسی نافرمانی کے عالَم میں اس کی موت واقع ہو گئی بنی اسرائیل نے اس کے مُردہ جسم کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ کرگَندَگی کے ڈھیر پر پھینک دیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نبی حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیمُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وَحْی بھیجی کہ اس کو وہاں سے اُٹھا کر اس کی تَجْہِیْز وتَکْفِیْنکر کے اس کی نَمازِجنازہ پڑھو ۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامنے لوگوں سے اس کے مُتعلِّق پوچھا تو اُنہوں نے اس کے بَد کردار ہونے کی گواہی دی ، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی  : ’’یارَبّ عَزَّوَجَلَّ  !بنی اسرائیل تو اس کے بَدکردار ہونے کی گواہی دے رہے ہیں کہ اس نے اپنی زِندگی کے دو سو سال تیری نافرمانی میں گزارے ہیں ؟‘‘ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وَحْی فرمائی کہ یہ ایسا ہی بَد کردار تھا ’’اِلَّااَنَّہُ کَانَ کُلَّمَانَشَرَالتَّوْرَاۃَ، مگر اس کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی تَورات شریف پڑھنے کے لئے کھولتا‘‘  ’’وَنَظَرَاِلٰی اِسْمِ مُحَمَّدٍ‘‘ اورمحمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اسمِ گرامی کی طرف دیکھتا ‘‘’’قَبَّلَہُ وَوَضَعَہُ عَلٰی عَیْنَیْہِ وَصَلّٰی عَلَیْہ، تو اس کو چُوم کر اپنی آنکھوں سے لگا دیتا اور ان پر دُرُود پڑھتا ‘‘ ’’فَشَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ وَغَفَرْتُ ذُنُوْبَہُ‘‘پس میں نے اس کے اس عَمل کی قَدر کی  اس کے گُناہوں کو مُعاف فرمادیا ’’وَزَوَّجْتُہُ سَبْعِیْنَ حُوَرَائَ‘‘ اور میں نے اس کا نکاح سترّحُوروں کے ساتھ کر دیا ۔  (حِلیۃ الاولیاء، وہب بن منبہ، ۴ / ۴۵، حدیث : ۴۶۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سُبْحٰنَ اللہِ عَزّوَجَلَّ اس رِوایت نے تو اَہلِ اِیمان کے دل ودماغ کو مُعَطَّر ومُعَنْبَرکردیا کہ بنی اسرائیل کا ایسا شخص جس نے اپنی زِندگی کے دوسو سال اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی میں گزارے ، فِسْق وفُجور کرتا رہا، گُناہوں کا بازار گرم رکھا لیکن اس کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی وہ تَورات شریف کھولتا تو اس میں ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کانامِ نامی اسمِ گرامی دیکھتا توفَرطِ مَحَبَّتسے اس کو چُوم لیتا اور اپنی آنکھوں سے لگاتا اور دُرُود شریف پڑھتا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو اس کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اس کے دوسو سال کے گُنا ہوں کومُعاف فرمادیا اور اپنے جلیلُ القَدر پیغمبر حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو اس کی نَمازِجنازہ پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا اور کرم بالائے کرم یہ کہ سترّ حُوروں کے ساتھ اس کا نِکاح بھی کر دیا  ۔ یہ تو بنی اسرائیل کے ایک شخص پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا کرم تھاتو بھلا اس مُسلمان کا کیا عالم ہوگا جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اُ مَّتِی ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نامِ پاک کا اَدب واِحتِرام کر کے اس کوچُوم کر اپنی آنکھوں سے لگاکر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُودوسَلام بھیجے گا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے قَوِی اُمید ہے کہ وہ اس سے راضی ہو کر اس کو بھی اپنے رَحم وکرم سے نوازے گا ۔

اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نام مبارک ’’محمد‘‘ کو چُومنا جائز اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی رضا کا باعث ہے اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا نامِ پاک سن کراپنے اَنگوٹھوں کو چُومنا بھی جائزاور باعثِ بَرَکت اور سُنَّتِ صِدِّیق اکبر رَضِی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ ہے ۔ چُنانچہ

سُنَّتِ صِدِّیق اکبر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

حضرتِ سیِّدُناعلامہ شیخ اِسمٰعِیل حَقِّی علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ القَوِیاپنی مایہ ناز تفسیر رُوْحُ الْبَیَان میں نَقل فرماتے ہیں  :  ’’ایک مرتبہ محبوبِ ربِّ کائنات، شَہَنْشاہ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجدِنَبَوِی شریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام میں  تشریف لائے اورایک سُتُون کے پاس جَلوہ اَفروزہوئے حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِی اﷲ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کے پاس بیٹھ گئے ، (اتنے میں ) حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِی اﷲ تَعالٰی عَنْہ اذان دینے لگے ، جب اُنہوں نے ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداًرَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘ کہا تو اس وَقت سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہ نے اپنے دونوں اَنگوٹھوں کے ناخنوں کو  اپنی دونوں آنکھوں پر رکھ کر ’’  قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ ، یعنی یارسُولَ اللّٰہ !آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ‘‘ کہا ، پھر جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہ اذان سے فارغ ہوئے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابُوبکر جو شخص تمہاری طرح کرے تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کے اگلے پچھلے ، اِرادی غیر اِرادی تمام گُناہوں کو بَخْش دے گا ۔ ‘‘(روح البیان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ : ۵۶، ۷  / ۲۲۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی مَحَبَّت عطافرما، آپ عَلَیْہِ السَّلام کی ذاتِ بابرکت پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھنے کی توفیق عطافرما ، آپ کا نامِ پاک سُن کر فرطِ مَحَبَّت سے انگھوٹھے چُومنے کی سَعادت نصیب فرما اور ہماری بے حساب بَخشِش و مَغْفِرت فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 19

پُل صِراط پر آسانی

 



Total Pages: 141

Go To